ہسپتال کے بعد سکول کالج کے قیام کیلئے کوشاں پاکستانی بزنس مین

ـ 13 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

مکتوب دوبئی ۔۔۔ طاہر منیر طاہر
اس دنیا میں لوگ اپنے لئے تو سب کچھ کرتے ہیں لیکن مزہ تو تب ہے کہ دوسروں کیلئے بھی کچھ کیاجائے۔ ذاتی نمودونمائش ، ذاتی ضروریات اور ذاتی سکون کیلئے بہت سے لوگ بہت کچھ کرتے ہیں لیکن اپنے پڑوس میں کسی غریب یا مستحق کا خیال نہیں رکھتے بلکہ بعض اوقات ان کی دل آزاری کا باعث بھی بنتے ہیں۔ اپنی پُر تعیش زندگی میں مگن بہت سے لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کے اردگرد رہنے والوں میں شائد کوئی ایک وقت کی روٹی یا دوائی کیلئے تڑپ رہا ہے۔یہ یقینالمحہ فکریہ ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ دنیا آج بھی درد مند لوگوں سے خالی نہیں ہے جو خلق خدا کی قدرت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اللہ کی مخلوق کی خدمت کرکے سکون پاتے ہیں۔یقینا ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے دنیا کا وجود قائم ہے اور ایسے ہی لوگ لائق صد تحسین و آفرین ہیں۔ ایک ایسی ہی سماجی شخصیت پاکستانی شوکت بھٹی بھی ہیں جو اپنے اور پرائے سب کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ اپنے قرب و جوار میں دوسروں کیلئے مشعل راہ بھی ہیں۔جبل علی فری زون دوبئی کے پاکستانی بزنس مین شوکت بھٹی جن کا تعلق پاکستان کے شہر قصور سے ہے عزم و عمل کی مکمل مثال ہیں دوبئی میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران شوکت بھٹی نے بتایا کہ وہ خلق خدا کی خدمت کو جزو ایمان سمجھتے ہیں اور ہر ایک کو اپنی بساط کے مطابق اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر سب لوگ اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اپنے حصے کا فلاحی کام کریں تو ہمارے ملک میں غربت افلاس اور بیماری ختم ہوسکتی ہے۔ شوکت بھٹی نے کہا کہ خاص طورپر وہ لوگ جو بیرون ملک مقیم ہیں اور اچھا روزگار رکھتے ہیں اگر وہ اپنے اپنے علاقوں میں انسانی ہمدردی کے طورپر عوامی فلاح و بہبود کے کام کریں تو بھی ملک سے غربت و افلاس کے اندھیرے ختم ہوسکتے ہیں۔ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد پاکستانی بیرون ملک بسلسلہ روزگار موجود ہیں اگر یہ ایک کروڑ بیرون ملک مقیم پاکستانی اندرون ملک موجود بے کس اور نادار پاکستانیوں کا سہارا بنیں تو ایک کروڑ افراد سے بھی زائد افراد مسائل کی چکی سے باہر آسکتے ہیں۔جبکہ بیرون ملک ایسے ایسے بھی پاکستانی موجود ہیں جو بیک وقت ہزاروں لاکھوں لوگوں کا سہارا بن سکتے ہیں۔ بات صرف احساس کی ہے اگر پیدا ہوجائے ۔ شوکت بھٹی نے کہا ان کے پاس اللہ کی طرف سے عطا کردہ سب کچھ ہے اور وہ اللہ کے عطا کردہ مال سے ہی اپنے علاقہ کے لوگوں کے کام آنے کا عزم لئے ہوئے ہیں اور اس مقصد کی خاطر انہوں نے اپنے علاقہ قصور میں بھٹی انٹر نیشنل ٹیچنگ ٹرسٹ ہسپتال قائم کیا ہے جس سے اس وقت ہر سال لاکھوں مریض استفادہ کر رہے ہیں۔BIT ہسپتال انسانی فلاح کی خاطر اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بروقت اور مفت طبی سہولیات دینے کی خاطر ہفتہ کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے جہاں ہسپتال کا چاک و چوبند سٹاف ہر وقت مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے مستعد نظر آتا ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ بھٹی انٹر نیشنل ٹیچنگ ٹرسٹ ہسپتال اس وقت قصور اور قرب و جوار کے بہت سے علاقوں کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ شوکت بھٹی نے کہا کہ ہمارا مقصد انسانیت کی بھلائی اور انفرادی توجہ کے ساتھ صحت کی عمدہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متذکرہ ٹرسٹ ہسپتالBIT بغیر کسی بیرونی امداد کے آزادانہ طورپر بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا گیا ہے۔ جہاں صحت کی تمام سہولیات بہم پہنچائی جارہی ہیں۔ شوکت بھٹی نے بتایا کہ ٹرسٹ ہسپتال کے ساتھ ساتھ شرح خواندگی میں اضافہ کیلئے بھٹی انٹر نیشنل پبلک سکول BIPS اور عائشہ بھٹی سائنس کالج فار ویمن جیسے منصوبے بھی جلد شروع کئے جارہے ہیں یہ منصوبے اُن بچوں کیلئے ہیں جن کے والدین ان کے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
شوکت بھٹی نے کہا کہ قصور کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ہم نے پودا لگا دیا ہے اب اس کو مزید آگے بڑھانے کیلئے ہمیں دست تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دوسرے لوگ اسکار خیر میں شانہ بشانہ چلیں اور اس نیک مقصد کو آگے بڑھائیں انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی تعمیر اور مشینری کی تنصیب پر کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں جبکہ ہسپتال کے دیگر اخراجات کی مد میں لاکھوں روپے خرچ ہورہے ہیں اور مزید درکار ہیں جس کیلئے اہل ثروت لوگوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ یہ چراغ جلتا رہے اور اس کی روشنی سے سب مستفید ہوتے رہیں۔ شوکت بھٹی نے کہااس بارے میںمزید معلومات WWW.BITHOSPITAL.COM سے حاصل کی جاسکتی ہیں جبکہ براہ راست ان سے مندرجہ ذیل ای میل کے ذریعے رابطہ کیاجاسکتا ہے SHOUKAT@BITHOSPITAL.COM متذکرہ فلاحی منصوبہ کے چیئر مین شوکت بھٹی نے درد دل اور انسانی ہمدردی کا جذبہ رکھنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں اپنی کمائی کا مخصوص حصہ اپنے اہل وطن پر خرچ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مخلوق خدا کی خدمت کرنے سے جو سکون ملتا ہے اس کی مثال نہیں دی جاسکتی ہے لہٰذا ہمیں اپنی اخروی بھلائی کیلئے اللہ کے بندوں کی بھلائی کے بارے میں بھی سو چنا چاہئے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter