دوحہ میں فروغ اردو ادب سالانہ ایوارڈ اور مشاعرے کا انعقاد

ـ 8 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

مکتوب دوبئی ۔۔۔ طاہر منیر طاہر۔۔۔
قطر میں عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم ’’مجلس فروغ اردو ادب‘‘ کے زیر اہتمام چودھویں عالمی مشاعرہ اور سالانہ اردو ادب ایوارڈ کانفرنس کی تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں ہندوستان، پاکستان، کینیڈا اور قطر کے مقامی شعرائے کرام نے شرکت کی۔
وزارت ثقافت و فنون و تراث قطر کے وکیل برائے امور مشترکہ علمی بن مبارک الخلیفی نے کانفرنس میں قطر کے وزیر ثقافت و فنون و تراث ڈاکٹر حمد عبدالعزیز الکواری کی نمائندگی کی تقریب میں پاکستانی سفیر محمد اصغر آفریدی، ہندوستانی قائم مقام سفیر سنجیوکوہلی اور عرب ممالک سے پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ محمد عتیق، چیئرمین مجلس فروغ اردو ادب نے (14) چودھواں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ کیلئے پاکستان سے مسعود مفتی اور ہندوستان سے رتن سنگھ کی ادب اردو کیلئے گراں قدر خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
1996ء کے ایوارڈ کا فیصلہ دونوں ملکوں سے سینئر اہل قلم پر مشتمل جیوریز نے جنوری 2010ء میں لاہور میں منعقدہ جیوری کے اجلاس میں کیا۔ معروف ادیب و مزاح نگار مشتاق احمد خان یوسفی اور دہلی سے گوپی چند نارنگ نے اپنی اپنی جیوری کی صدارت کی۔ تقریب تقسیم ایوارڈ اور سالانہ عالمی مشاعرے کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت عبدالرحمن فرید ندوی نے حاصل کی۔ شوکت علی ناز نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ فرقان احمد پراچہ نے اردو اور انگریزی میں پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ مجالس انتظامیہ کے رکن جاوید ہمایوں نے شعرائے کرام اور اردو سکالرز کا سٹیج پر استقبال کیا۔ عبدالرحمن فرید ندوی نے مجلس کے اغراض و مقاصد، عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈز اور مجلس کے سالانہ عالمی مشاعروں کے تناظر میں عربی زبان میں ایک بلیغ خطاب کیا جس میں بطور خاص مجلس کے انتہائی محسن اور معاون خصوصی ڈاکٹر حمدالعزیز الکواری وزیر ثقافت و فنون وتراث، دولت قطر کا شکریہ ادا کیا۔ مجلس کی سرپرست کمیٹی کے رکن محمد صبیح بخاری نے عالمی شہرت یافتہ آرٹسٹ ایم ایف حسین جن کو حال ہی میں حکومت قطر نے قطر کی نیشنلٹی دی ہے ان کی خدمات پر روشنی ڈالی۔
چیئرمین مجلس فروغ اردو ادب محمد عتیق نے دونوں ایوارڈ یافتگان کو بھرپور مبارکباد دیتے ہوئے عزت مآب وزیرثقافت و فنون وتراث کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کے تعاون سے مجلس کو اپنی تقریبات کے انعقاد میں ہر قسم کی سہولت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ اس عالمی مشاعرے کے پروگرام کو وزارت ثقافت و فنون تراث کی جانب سے 2010ء کی سرگرمیوں کا ایک حصہ قرار دیا گیا ہے اور یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ 2021ء کیلئے بھی دوحہ کو عرب کلچر کا کیپیٹل تسلیم کر لیا گیا ہے۔
محمد عتیق نے اپنے استقبالیہ کلمات میں بانی مجلس ملک مصیب الرحمن (مرحوم) کی ہردلعزیز شخصیت، ان کے عزم و استقلال اور ان کی لازوال خدمات کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔
وزارت ثقافت و فنون وتراث قطر کے وکیل برائے امور مشترکہ علی بن مبارک الخلیقی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عزت مآب وزیر ثقافت و فنون و تراث ڈاکٹر حمد عبدالعزیز الکواری کی جانب سے جو اپنی گونا گوں سرکاری مصروفیات کی بنا پر تشریف نہ لا سکے۔ ایوارڈ یافتگان کی خدمت میں بھرپور مبارکباد پیش کی۔ پروگرام کا پہلا مرحلہ ختم ہونے پر عظیم الشان عالمی مشاعرے کا آغاز ہوا ۔ مشاعرہ سننے کیلئے قطر کے کونے کونے سے شائقین ادب یہاں پروانہ وار جمع ہوئے۔ اس عظیم الشان عالمی مشاعرے میں ہندوستان، پاکستان، کینیڈا اور قطر کے شعرائے کرام نے شرکت کی۔ مشاعرے کی صدارت سینئر شاعر گلزار دہلوی نے کی جبکہ مشاعرے سے ایسا ہم آہنگ اور مربوط رکھا کہ آخری شاعر کے پڑھنے تک ہال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ رات اڑھائی بجے تک جاری رہنے والے اس عظیم الشان عالمی مشاعرے میں شروع سے آخر تک ہال سامعین کی تالیوں اور دادو تحسین سے گونجتا رہا۔
پاکستان سے جناب عزم بہزاد، امجد اسلام امجد، عطاء الحق قاسمی، محمد اسلم کولسری، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، مرزا عاصی اختر اور محترمہ صائمہ علی نے شرکت کی جبکہ ہندوستان سے جناب گلزار دہلوی، ڈاکٹر ماجد دیوبندی، عازم گرویندر سنگھ کوہلی، جوہر کانپوری اور سید محمد طالب خوند میری نے مشاعرے میں حصہ لیا۔ کینیڈا سے جناب تقی عابدی اور قطر سے جناب اعجاز حیدر اور عتیق النظر نے مشاعرے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس پروقار تقریب میں ایوارڈ یافتگان کے ادبی شہ پاروں اور مشاعرے میں حصہ لینے والے شعرائے کرام کی نمایاں تخلیقات پر مشتمل ایک ادبی مجلسہ کا اجرا بھی عمل میں آیا جو سامعین کے درمیان بڑی تعداد میں مفت تقسیم کیا گیا۔
منتخب اشعار عالمی مشاعرہ2010ء
اعجاز حیدر:
بدن روح سے اجنبی ہو گیا ہے
بدیشی کمائی مجھے کھا گئی ہے
یہ دہشت بھری جنگ ہے جانے کس کی
مگر یہ لڑائی مجھے کھا گئی ہے
عتیق النظر:
تری مرضی نہیں پھر بھی چلوں گا
اندھیری رات کو روشن رکھوں گا
تری پھونکوں سے میں بجھ بھی گیا تو
ترے چہرے پہ کالک پوت دوں گا
مرزا عاصی اختر:
ہمسائی کو سلام جو کل میں نے کر دیا
خدمت میں پیش ہو گئی ابا حضور کی
ابا نے کر دیا مرا چٹ منگنی پٹ بیاہ
اتنی بڑی سزا ہے ذرا سے قصور کی
جوہر کانپوری:
جو نمک پاشی کے فن میں ہر طرف مشہور تھے
میرے زخموں نے انہیں لوگوں سے مرہم لے لیا
اس سے لینا ہی نہیں آتا تجھے تو کیا کریں
لینے والے نے تو صحرا میں بھی زم زم لے لیا
صائمہ علی:
تم کو تو قتل بھی جائز ہو بنام غیرت
میں اگر شعر بھی کہہ دوں تو بغاوت ٹھہرے
عازم کوہلی:
روح سے روح کے رشتے میں کشش ہو ایسی
تیرے لب پہ ہو دعا مجھ پہ اثر ہو جائے
اڑے اڑتے جو خبر آئے ترے آنے کی
تیری خوشبو سے معطر یہ نگر ہو جائے
ماجد دیو بندی:
نہ کچھ زیادہ نہ کچھ کم ترے حوالے سے
وہی ہے درد کا عالم ترے حوالے سے
کھلے جو زخم کے ٹانکے تو یوں ہوا محسوس
صبا نے رکھ دیا مرہم ترے حوالے سے
طالب خوند میری:
ہم اتنے صاف ستھرے ہو چکے ہیں
کہ سچ کا داغ دل سے دھو چکے ہیں
ہماری جیب جاں میں تھا جو کل تک
وہ سکہ بھی کہیں ہم کھو چکے ہیں
ڈاکٹر انعام الحق جاوید:
ہجر اے سی نہیں ہے، ہیٹر ہے
وصل کشمیر کا سویٹر ہے
حسن تیرا اگر ہے ان ٹچ تو
عشق میرا بھی زیرو میٹر ہے
تقی عابدی:
حسن کہتے ہیں کسے؟ حسن کہا رہتا ہے؟
حسن کیوں عشق کے پہلو میں جواں رہتا ہے
حسن سے دیکھو تو ہر چیز حسین ہوتی ہے
حسن سے ہٹ کر ہر اک چیز اثر کھوتی ہے
حسن احساس میں ہوتا ہے جوانی میں نہیں
نشہ ہے خون میں انگور کے پانی میں نہیں
اسلم کولسری:
سورج سرِ مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے
ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے
تو جانبِ ظلمات عدم چل دیا تنہا
بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے
جناب ایم ایف حسین نے ایک خوبصورت نظم ہندوستانی کلچر اور عرب میں گزرے حالات پر مشتمل سنائی۔
رتن سنگھ نے چند دوہرے سنائے:
میرے تن میں موجزن پانچوں ہی اجزاء
پنج آب کا میں ہوں جایا من میں بسے خدا
ڈنک سہیں اور شہد دیں سارے بن کے پھول
رتی تو بھی کر کبھی ایسی میٹھی بھول
عطاء الحق قاسمی:
کوئی چھوٹا یہاں کوئی بڑا ہے
خداوندا! یہ کیسا سلسلہ ہے
محبت ہو گئی ہے زندگی سے
ہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے
امجد اسلام امجد:
حد سے حد ، حدگماں تک کوئی جا سکتا ہے
ڈھونڈنے اس کو کہاں تک کوئی جا سکتا ہے
مرتبہ میرا یہی ہے کہ زمیں زاد ہوں میں
سو وہاں ہوں کہ جہاں تک کوئی جا سکتا ہے
گلزار دہلوی:
بدمست وہ الھڑ سی کنواری پلکیں
راتوں کی جگی نیند سے بھاری پلکیں
ان کی پلکوں پہ جس وقت سے ڈالی ہے نظر
جھپکی نہیں واللہ ہماری پلکیں

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter