یونائٹیڈ فورم اور پاک امارات انٹرنیشنل ویلفیئر فورم کے اشتراک سے معرض وجود میں آنے والے ’’پاکستان فورم‘‘ کے پینل سے تمام امیدوار کوئی دوسرا پینل سامنے نہ آنے کی وجہ سے بلامقابلہ کامیاب ہوگئے۔
قونصیلٹ آف پاکستان دوبئی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن 18 فروری 2010ء مندرجہ ذیل افراد پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کے عہدیداران قرار پائے۔
صدر چوھدری ظفراقبال نائب صدر غلام قادر راجہ، جنرل سیکرٹری قاسم جان، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک خادم حسین شاہین، جائنٹ سیکرٹری چودھری محمد نواز، ویلفیئر سیکرٹری عبدالستار پردیسی فنانس سیکرٹری راجہ عبدالحمید سیکرٹری لیگل افئیرز عبدالحمید مغل پبلک ریلیشنز سیکرٹری چودھری خالد بشیر سیکرٹری مذہبی اور حافظ افتخار علی سپورٹس سیکرٹری خالد رحمن کلچرل سیکرٹری چودھری راشد علی بریار اور ممبرشپ سیکرٹری چودھری محمد ناصر۔
متحدہ عرب امارات کی ریاستوں شارجہ، عمان اور امرالقیوین میں تقریباً پانچ لاکھ سے زائد پاکستانی بسلسلہ روزگار موجود ہیں متذکرہ تینوں ریاستوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کی متذکرہ پارٹی سامنے آئی ہے ویسے توشارجہ میں پاکستان سوشل سنٹر شارجہ ایک لمبے عرصے سے قائم ہے لیکن آٹھ سال کے بعد موجودہ باڈی سامنے آئی ہے شارجہ میں سوشل سنٹر کے علاوہ کچھ عرصہ قبل پاک امارات ویلفیئر فورم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس نے بہت کم مدت میں عوام کے مسائل حل کر کے پاکستانیوں میں مقبولیت حاصل کرلی تھی جبکہ دوبئی میں قائم یونائٹیڈ فورم بھی سوشل ورک کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے جس میں امارات میں موجود سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے لوگ مختلف عہدوں پر موجود ہیں۔
پاکستان سوشل سنٹر کے انتخابات کے لئے جب باقاعدہ اعلان کیا گیا تو شارجہ کے پاک امارات انٹرنیشنل ویلفیئر فورم اور دوبئی کے یونائٹیڈ فورم نے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے ایک تیسرے پینل کا اعلان کردیا جس کا نام پاکستان فورم رکھا گیا باہمی رضا مندی اور اتفاق رائے سے پاکستان پیپلزپارٹی متحدہ عرب امارات کے سرگرم راہنما چودھری ظفر اقبال کو صدر منتخب کرلیا گیا جبکہ دوسرے متذکرہ اراکین کا انتخاب بھی مل جل کر مشترکہ رائے سے کیا گیا پاکستان فورم کے قیام کی وجہ سے کوئی دوسرا پینل سامنے نہیں تھا لہذا پاکستان فورم کے زیراہتمام متذکرہ ارکان تمام کے تمام بلامقابلہ کامیاب قرار پائے ابھی نوٹیفیکیشن نہیں ہوا تھا کہ شارجہ میں بھی بغیر نام کے ایک اور پینل سامنے آگیا میں نے ملک خادم شاہین کی قیادت میں پاکستان فورم کے مقابلے کا اعلان کردیا جس سے صورتحال میں کش مکش پیدا ہوگئی دوبئی قونصیلٹ نے ہی 12 فروری کو ہونے والے انتخابات 28 فروری تک موخر کردئیے جبکہ یونائٹیڈ فورم کے صدر چودھری نورالحسن تنویر کی پریس کانفرنس کے بعد اور پاکستان فورم کے بلامقابلہ کامیاب امیدواروں کا بھرپور دلائل کے بعد سفیر پاکستان برائے متحدہ عرب امارات خورشید احمد جونیجو اور قونصل جنرل برائے دوبئی قونصیلٹ امجد علی مشیر نے متفقہ رائے سے پاکستان فورم کے پینل کو ہی کامیاب قرار دیا اور اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا۔
پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کی موجودہ نئی ٹیم عوامی خدمت کا جذبہ لے کر سامنے آئی ہے اس کے تمام ہی ارکان خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہیں خاص طور پر شارجہ کے بزنس مین اور پیپلز پارٹی متحدہ عرب امارات کے سینئر کارکن چودھری ظفراقبال سماجی خدمت کے حوالہ سے پوری یواے ای میں اپنا نام رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شارجہ عمان اور امرالقیوین کے پانچ لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے ان کی سابقہ خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پر اظہار اعتماد کرتے ہوئے انہیں بطور صدر منتخب کرکے عزت دی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ حسب سابق بلکہ اس سے بھی بڑھ کر شارجہ سنٹر کے پلیٹ فارم سے یہاں موجود پاکستانیوں کی فلاح وبہبود کے لئے کام کریں گے ملک خادم حسین شاہین اور چودھری راشد علی بریار کا نام بھی سماجی خدمت کے حوالے سے یواے ای میں خاص جانا پہچانا ہے اب ان کو بھی پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ کام کرنے کا موقع ملا ہے عوامی رابطہ کے سلسلہ میں پاکستان مسلم لیگ ن یواے ای کے راہنما چودھری خالد بشیر کو بھی بطور سیکرٹری پبلک ریلشنز کام کرنے کا موقع ملا ہے جبکہ سوشل ورک کے حوالہ سے عبدالستار پردیسی بھی یواے ای میں اپنی پہچان رکھتے ہیں علاوہ ازیں چودھری محمد نواز بھی عوامی خدمت کا جذبہ لے کر نئی ٹیم میں شامل ہوئے ہیں یہ امید کی جارہی ہے کہ نئی ٹیم میں شامل سب لوگ انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کو ضرور پورا کریں گے۔ شارجہ عمان اور امر القیوین میں مقیم پاکستانیوں کو مختلف قسم کے مسائل درپیش ہیں جس کے حل کے لئے وہ پریشان ہیں اب اس نومنتخب ٹیم کو چاہیے کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترے۔ خاص طور پر امارات کی مختلف جیلوں میں بند پاکستانیوں کی رہائی کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں یہاں موجود پاکستانی سکولوں کی حالت بہتر بنائی جائے غریب بچوں کی تعلیم کا مفت بندوبست کیا جائے بے کار اور بے روزگار پاکستانیوں کو روزگار دلایا جائے پاکستان کا اور مثبت امیج اجاگر کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں پاکستانی ثقافت کو متعارف کرانے کیلئے مختلف پروگرام اور تقریبات منعقد کی جائیں۔ پاکستان سے لوگوں کو یہاں روزگار دلانے کے مواقع پیدا کئے جائیں اور پاکستان متحدہ عرب امارات کے مابین تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنایا جائے۔
Post New Comment