امریکن یونیورسٹی شارجہ سے فارغ التحصیل ہونے والی پاکستانی طالبہ تہمینہ مہدی جن کے والد ڈاکٹر حیدر مہدی جو اسی یونیورسٹی میں انگلش کے پروفیسر ہیں نے حال ہی میں نمایاں پوزیشن کے ساتھ صحافت میں ماسٹرز کیا ہے۔ تہمینہ مہدی کو حال ہی میں وائٹ ہاﺅس واشنگٹن میں سپرنگ انٹرشپ کے لئے بھی منتخب کیا گیا ہے۔ طالبہ تہمینہ مہدی کو یہ اعزاز ملنے پر امریکن یونیورسٹی شارجہ کے چانسلر ڈاکٹر پیٹر ہیتھ، یونیورسٹی کے دیگر اساتذہ، ان کے دوستوں اور عزیز و اقارب نے خصوصی مبارکباد دی ہے۔ تہمینہ مہدی کو متذکرہ سیٹ کے لئے نمایاں اہلیت رکھنے کی وجہ سے منتخب کیا ہے۔ وائٹ ہاﺅس واشنگٹن میں انٹرشپ کے لئے سینکڑوں امریکی شہریوں نے حصہ لیا تھا جبکہ تہمینہ مہدی بڑے مقابلہ کے بعد اپنی اہلیت کی وجہ سے آگے آئی ہیں۔ تہمینہ مہدی نے کہا کہ وہ انٹرشپ ملنے پربے حد خوش ہیں اور وائٹ ہاﺅس جانے کے لئے بے تاب ہیں جہاں وہ اوباما اور ان کی فیملی سے بھی ملیں گی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خوشی انہیں اس بات کی ہے کہ وہ انہیں اپنے تعلیمی جوہر دکھانے کے مزید موقع مل رہا ہے۔ اس قدر تعلیمی کامیابی ملنے پر تہمینہ مہدی نے اپنے والدین اور دونوں بہنوں کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔
بیرون ملک آنے والے کوئی ہنر سیکھ کر آئیں۔ محمد علیم شاہد
پاکستان سے بیرون ملک آنے والے زیادہ تر ہنرمند نہ ہونے کی وجہ سے یہاں آ کر پریشان ہوتے ہیں۔ انہیں سخت گرمی اور سخت موسم میں بطور مزدور کام کرنا پڑتا ہے اگر یہی لوگ کوئی ہنر سیکھ کر بیرون ملک آئیں تو انہیں تنخواہ بھی اچھی ملے گی اور انہیں کوئی پریشانی بھی نہیں ہو گی۔ دوبئی کی ایک تعمیراتی کمپنی میں اہم منصب پر فائز محمد علیم شاہد نے ایک ملاقات میں بتایا کہ ان پڑھ اور غیر ہنرمند افراد کے لئے اب کسی بھی جگہ کام کرنے کی گنجائش بہت کم ہے۔ جیسے زمانہ ترقی کرتا جا رہا ہے نت نئی مشینیں مزدوروںکی جگہ کام کر رہی ہیں اور مزدور طبقہ فارغ ہوتا جا رہا ہے جبکہ یہ مشینیں چلانے کے لئے بھی تعلیم اور تجربہ کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں پاکستان سے بیرون ملک بسلسلہ روزگار آنے والے تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ کوئی ہنر سیکھ کر یہاں آئیں تاکہ ان کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ محمد علیم شاہد نے بتایا کہ پاکستان میں بے شمار ادارے ٹیکنیکل تعلیم فراہم کر رہے ہیں لہٰذا بیرون ملک کام کرنے کے خواہش مند لوگوں کو چاہئے کہ وہ بطور مزدور کام کرنے کی بجائے کسی بھی کام میں ماہر ہو کر یہاں آئیں کیوں کہ یہاں مزدور کے لئے حالات بڑے سخت ہیں۔
لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں جمع کرائی جائے: زاہد کمال
پاکستان مسلم لیگ ن ابوظہبی کے رہنما زاہد کمال نے کہا ہے کہ جن جن افراد نے قومی خزانے کو لوٹا ہے، عوام کے حق میں ڈاکہ ڈالا ہے اور اب این آر او کی زد میں آ رہے ہیں انہیں قومی مفاد کی خاطر ہرگز معاف نہ کیا جائے بلکہ ان سے قوم و ملک کی پائی پائی نکلوائی جائے اگر قرضہ معاف کرانے والے اور قومی دولت لوٹنے والے اس دنیا سے جا چکے ہیں تو یہی رقم ان کی اولادوں سے وصول کی جائے کیوں کہ انہوں نے بھی قومی سرمائے سے عیاشی کی ہے۔
زاہد کمال خواجہ نے کہا کہ جب سے پاکستان قائم ہوا ہے تب سے لے کر اب تک ملک دشمنوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے جب سے یہ حکومت آئی ہے تب سے اب تک مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے یہ حکومت بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کر سکی تو دہشت گردی کیسے ختم کر سکے گی۔ صاحب اقتدار لوگ محض کرسی بچانے کے لئے قوم و ملک کے مفاد سے کھیل رہے ہیں۔ اب عوام بھی موجودہ حکومت کی چالوں کو سمجھ چکے ہیں اور بڑے پیمانے پر تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ زاہد کمال خواجہ نے کہا کہ اس وقت کرپشن کے خلاف قومی جہاد کی ضرورت ہے۔ ہر پاکستانی کو چاہئے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کرپشن کو روکنے کے سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد محترم سابقہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ہی اس وقت عوام الناس کی امیدوں کا محور ہیں۔ پاکستان کے سترہ کروڑ لوگ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ کب میاں محمد نواز شریف ایک بار پھر اقتدار میں آئیں اور عوام الناس کے مسائل حل کریں۔
جدید سہولیات سے مزین یونیورسٹی کا قیام جلد عمل میں لایا جائے گا: محمد اکرام
متحدہ عرب امارات میں پاکستانی بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لئے سبینہ گروپ آف کمپنیز بہترین سہولیات سے آراستہ جدید ترین یونیورسٹی قائم کر رہی ہے جس میں پاکستانی بچوں کو جدید ترین انداز کی تعلیمی تربیت فراہم کی جائے گی۔ سبینہ گروپ کی طرف سے قائم کی جانے والی یہ یونیورسٹی بین الاقوامی معیار کی حامل ہو گی جس کا مقابلہ کسی بھی مشہور یونیورسٹی سے کیا جا سکتا ہے۔ یقیناً یونیورسٹی امارات میں پاکستانی طالب علموں کے لئے ایک تحفہ اور سرمایہ افتخار ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار سبینہ گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد اکرام نے شارجہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محمد اکرام نے کہا کہ سبینہ گروپ نے امارات کے موجودہ حالات دیکھنے کے باوجود یہاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی ایجوکیشن کے علاوہ اس گروپ کی طرف سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل سیکورٹی اور کلیننگ سروس کے کام بھی شروع کئے جا رہے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد اکرام نے بتایا کہ سبینہ گروپ کی طرف سے شروع کئے جانے والے ان منصوبوں کے شروع ہونے پر بے شمار پاکستانیوں پر اچھے روزگار کے دروازے بھی کھلیں گے اور بہت سے پاکستانیوں کو کام کرنے کے مواقع ملیں گے۔ محمد اکرام نے دوران تقریر کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کے ہم آہنگ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سنٹر بھی دوبئی میں قائم کیا جائے گا جبکہ ٹیکسٹائل کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے یہاں جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس موقع پر ممتاز ماہر تعلیم کرنل نصیر احمد ڈار بھی موجود تھے جنہوں نے سبینہ گروپ کے منصوبہ جات کا تفصیلی تعارف بھی کروایا۔
مشاعرہ کا انعقاد
ماہ جنوری کے وسط میں ایک مشاعرہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ جس میں پاکستان سے ممتاز شاعرہ صغریٰ صدف اور شاعر فرحت عباس شاہ شرکت کریں گے۔ مشاعرہ کی تقریب کا اہتمام کرنے والوں بابر عزیز بھٹی اور امجد اقبال امجد نے بتایا کہ مشاعرہ کے تمام ابتدائی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں تاہم حتمی تاریخ کا اعلان باقی ہے۔ منتظمین نے کہا کہ مشاعرہ میں پاکستانی شعرا کے علاوہ امارات میں مقیم پاکستانی مقامی شاعروں کو بھی اپنا کلام پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
Post New Comment