برسلز (نامہ نگار) پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے اثرات کم کرنے اور نقصانات کی تلافی کے لئے ملکی وسائل بروئے کار لانے کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر امدادی سرگرمیوں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ عالمی اداروں نے قدرے تاخیر سے سہی سہی مگر مصیبت زدگان کی حالت زار کا نوٹس لینا شروع کر دیا ہے جو خوش آئند ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی یورپ و بیلجیئم کے سرپرست ملک امان اللہ نے بیلجیئم پارلیمنٹ کے ممبران خان کرسٹو، نیکوہاسلف سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بیلجیئم کی حکومت اور این جی اوز مصیبت میں پاکستان کا ساتھ دیں۔ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے نے پاکستان کی فوری مدد کے لئے عالمی برادری سے جو اپیل کی ہے توقع ہے کہ اس کا مثبت جواب ملے گا کیونکہ پاکستان تنہا اپنے وسائل سے اتنے بڑے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیلاب کے نقصانات ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں بارش اور سیلاب کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ سیلابی ریلے سے ملک کے زیریں حصے میں مزید کئی بند ٹوٹ گئے ہیں اور کئی نئے علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری بذات خود کئی زیر آب علاقوں میں جا رہے ہیں جس سے عوام کی ڈھارس بندھی جبکہ وزیراعظم اور ان کی پوری ٹیم پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے میدان میں کود پڑے ہیں اور اتحاد باہمی رواداری کا ایک سماں نظر آ رہا ہے اپوزیشن لیڈر میاں نوازشریف کا تعاون بھی مثالی ہے مشکل کی اس گھڑی میں اتحاد و پیار کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو مسائل کی دلدل سے باہر نکالا جا سکے ملک امان اللہ نے ممبران پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ عالمی برادری کو جھنجھوڑنے کی کوشش کریں۔
Post New Comment