سانحہ بابری مسجد کیس کی باقاعدہ سماعت کا آغاز کر دیا گیا

ـ 18 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

برسلز (عظیم ڈار سے) مذہبی تعصب پسند شیوسینا بال ٹھاکرے سمیت بھارتی سیاسی پارٹیوں کے ممبران کے ملوث ہونے کے شبے میں مقامی عدالت نے 24 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ بابری مسجد کے خلاف 6 ستمبر 1992ءکو مقدمہ درج کیا گیا کیس کی سماعت خصوصی جج وریندر کمار نے کرتے ہوئے 24 ملزمان کے خلاف الزامات واضح کرتے ہوئے سماعت کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ جن ملزمان کے خلاف الزامات لگائے گئے ہیں ان میں ہندو تعصب پسند شیوسینا بال ٹھاکرے، وی ایچ پی اچاریہ دھرمیندر دیو، سماجی وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ برج ہوشن شرن سنگھ، بی جے پی کے رکن اسمبلی لالو سنگھ اور بجرنگ دل کے سابق صدر جئے بان سنگھ اور ضلع مجسٹریٹ فیض آباد آر ایل سریواستو سمیت 24 افراد شامل ہیں۔ سی بی آئی کے وکیل آئی بی سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ مقدمے کی باقاعدہ کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ اگلی پیشی میں تحقیقاتی ایجنسیاں ملزمان کے خلاف عدالت میں ثبوت پیش کریں گی۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter