تازہ ترین:

بیرسٹر سلطان محمود کی برسلز پارلیمنٹ اور سینیٹروں سے ملاقاتیں، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

ـ 5 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

برسلز (نمائندہ خصوصی) پیپلز مسلم لیگ آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود نے برسلز پارلیمنٹ اور سینیٹ کے ممبران سے خصوصی ملاقاتیں کیں۔ اس دوران انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی جارحیت، معصوم بچیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات اور گمنام قبروں کے انکشاف پر یورپی یونین کے ممبران کو ثالثی کا کردار ادا کرنے اور مظالم کو بند کروانے کیلئے مذاکرات کئے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا کا سب سے اہم مسئلہ ہے جس پر بھارت نے کبھی بھی سنجیدگی سے بات چیت نہیں کی۔ سابقہ وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود نے برسلز پارلیمنٹ اور سینیٹ کے ممبران لائن الزبیتھ ایم ای پی مادام جبین لیمبرٹ پریذیڈنٹ ساو¿تھ ایشین ریجن کمیٹی مسٹر اینڈریوڈیف ایم ای پی فارن افیئر ڈیفنس کمیٹی مسٹر جمیز ایلس ایم ای پی، چیئرمین کشمیر کمیٹی مادام دی کیسر ویرونق ممبر فارن ریلیشن کمیٹی، مسٹر جولینن ایم ای پی جرمنی کانسٹی ٹیوشنل کمیٹی، سینیٹر ایلن ڈیٹیکس سینیٹر فیلپ مورس پریذیڈنٹ پی ایس پارٹی بیلجیئم سے مسئلہ کشمیر پر انتہائی اہم گفتگو کی اور انہیں مقبوضہ وادی کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا۔ یورپی یونین کے ممبران نے بیرسٹر سلطان محمود سے مسئلہ کشمیر پر غور کرنے اور مسئلہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کوششیں کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ بیرسٹر سلطان محمود برسلز کے دو روزہ دورے کے بعد پیرس میں یوم یکجہتی کشمیر کے پروگرام کے لئے پہنچ گئے۔ برسلز آمد سے قبل بیرسٹر سلطان محمود نے ہالینڈ میں دی ہیگ کے ممبران اور ڈی جی فارن افیئرز کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر اہم ملاقاتیں کی اور انہیں بھارت کی ہٹ دھرمی اور انسانیت سوز مظالم کو روکنے کا مطالبہ کیا ۔ برسلز میں ایم ای پی یو ای سجاد کریم ، کوسبہ سوگورMr Cosba Sogor مس میکی سین کلیئر ، مس ڈولفین دی میئر، پیری لارڈ وٹ دی میئر، مسٹر گورجس ایکس ایمسٹر، مس کھیترین چیف پروٹوکول فارن آفیسر، جان ہلٹن لابسٹ ، مسٹر فرینک یورپین میڈیا اور دیگر اہم شخصیات نے بیرسٹر سلطان محمود کے ساتھ انتہائی اہم ملاقاتیں کیں اور مسئلہ کشمیر کی تازہ صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بھارتی سیکورٹی فورسز کے جارحیت اور ظلم و ستم کی سیاہ داستانوں اور گمنام قبروں کے انکشاف پر احتجاج کرتے ہوئے انہیں مقبوضہ وادی کے اصل حقائق سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یورپی یونین کے ممبران سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ وادی کے مظالم کو روکنے کے لئے جلد مذاکرات کریں اور بھارت کو پیغام دیں گے وہ ظلم و ستم بند کر کے کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور وادی میں پھیلے خوف وہراس کو ختم کرنے مقبوضہ وادی سے 6 لاکھ سے زائد فوج باہر نکالے۔ بیرسٹر سلطان محمود آج ہفتہ کو ناروے پہنچیں گے جہاں وہ پارلیمنٹ اور ڈی جی فارن افیئر سے اہم امور پر بات چیت کریں گے۔ 7 فروری کو اوسلو میں یوم یکجہتی کشمیر کے پروگرام میں کشمیری و پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کریں گے۔ 8 فروری کو برلن 9 فروری اور 10 فروری کو جرمن پارلیمنٹ اور ڈی جی فارن افیئر سے ملاقاتیں کریں گے اور 11 فروری کو پیرس سے پاکستان روانہ ہوں گے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions

Twitter