زلیخا اویس...............
پاکستان مسلمانوں کی قربانیوں اور قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت کا ثمرہے آج ہم تاریخ کے اوراق میں جھانکیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم ان مقاصد کو حاصل نہیں کر سکے جو قیام پاکستان کے پیش نظر تھے۔ آج قیام پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے۔ ہمارا پڑوسی بھارت پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ مسلمان پاکستان کا مطالبہ کر کے ملک تقسیم نہ کراتے تو برصغیر ان مصائب میں مبتلا نہ ہوتا یہ تو ہمارے دشمن کی سوچ ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس سازش میں ہمارے اپنے لوگ بھی شامل ہیں جو ہندو ذہنیت کو پروان چڑھا کر قیام پاکستان اور نظریہ پاکستان کے مقاصد کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یوم آزادی کے سلسلے میں پاکستان کیوں ناگزیر تھا ، امن کی آشا جیسی مہم چلا کر ہم ہندو ثقافت اور پاکستان کے خلاف اس کے مقاصد کو پورا کرنے میں اس کا ساتھ کیوں دے رہے ہیں؟ اور آزادی کے63 سالوں بعد پاکستان کہاں کھڑا ہے؟جیسے موضوعات پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے بات چیت قارئین کی نذر ہے۔
نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشیدنے کہا کہ نظریہ پاکستان ہماری بنیادی اساس ہے اس کے بغیر ہمارا وجود بے معنی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم اندرونی خلفشار اور ہوس اقتدار کے باعث قیام پاکستان کے مقاصد کو حاصل نہیں کر سکے لیکن وہ مقاصد آج بھی ہمارے سامنے زندہ ہیں۔اس سلسلے میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن و ممتاز صحافی’’جناب مجید نظامی‘‘ کا کلیدی اور تاریخ ساز کردار ہے کیونکہ انہوں نے نظریہ پاکستان کو فروغ دیا ۔ انہی کی کوششوں سے فکر اقبال ؒاور قائداعظم ؒکی خدمات کو عام کیا گیا امن کی آشا صرف ایک دھوکا ہے بھارت کبھی ہمارا دوست نہیں رہا اور نہ ہی اس نے ہمیں کبھی تسلیم کیا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کے خواجہ طاہر جمیل نے کہا کہ جنگ آزادی کے بعد ہندو اور مسلمان انگریز کے محکوم ہو کر رہ گئے تھے انہیں بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا تھااسلئے ضروری ہو گیا تھا کہ مسلمان اپنے لئے ایک آزاد اور اسلامی ملک کا مطالبہ کر دیں۔ وطن عزیز کی بقا و ترقی نظریہ پاکستان کی مرہون منت ہے اس نظریے سے چشم پوشی ممکن نہیں ہے جہاں تک امن کی آشا ہے تو یہ ایک ناکام مہم ہے اس کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور نہ ہی ہو گی۔
پنجاب یونیورسٹی سے افتخار احمد چودھری نے کہا کہ نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام حیات ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں پاکستان کل بھی ہمارے لئے ناگزیر تھا ، آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گااور امن کی آشا محض دھوکہ ہے ۔سیاسی قیادت کی نااہلی اور فوجی آمریت نے پاکستان میں جمہوری اداروں کو پھلنے پھولنے نہیں دیا لیکن اس کے باوجود ہم نے بہت سے شعبوں میں ترقی کی ہم ایٹمی قوت بنے اور اپنا دفاع مضبوط کیا لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت باقی ہے۔
پروفیسر قلب عابد نے کہا کہ قیام پاکستان میں صرف مذہبیت کا عنصر کارفرما نہیں تھا بلکہ بنیادی حقوق کے حصول نے بھی مسلمانوں کو مجبور کیا کہ وہ الگ وطن کا مطالبہ کر یں۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا کہ پاکستان قیامت تک قائم رہے گا شاید یہ ان کے قول کی برکت ہے کہ پاکستان آج تک قائم ہے۔ ورنہ ہم نے تو اسے برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ہے۔لہذااس وقت ہمیں پاکستان کی بقاء کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
عبدالوحید بھٹی مینجر نے کہا کہ آج جو لوگ قیام پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں یا نظریہ پاکستان کے خلاف جو زہر اگلتے ہیں دراصل وہ غدار ہیں۔ آج پاکستان جس قسم کے مسائل میں گھرا ہوا ہے اس میں قائداعظمؒ جسے رہنما کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر سید علی جنید نے کہا کہ حالات و واقعات ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان ناگزیر تھا ہمیں چاہیے کہ ہم اس نعمت کی قدر کریں اور ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں جو پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔
انجینئر مبین اصغر خان نے کہا کہ قیام پاکستان کا فیصلہ سو فیصد درست تھا ۔قیام پاکستان اور نظریہ پاکستان سے انحراف اپنی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے جو لو گ ایسا سوچتے ہیں ان کی ناعاقبت اندیشی پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔
محمد اطہر ضیاء نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے آزاد ریاست کا قیام ضروری تھا۔یہ وطن بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے لہذا وہ لوگ جو نظریہ پاکستان اور قیام پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں وہ شرپسند ہیں۔
Post New Comment