ہفتہ ‘18 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘31 ؍ جولائی 2010ء

ـ 31 جولائی ، 2010
اوباما چیلسی کی شادی کا دعوت نامہ نہ ملنے پر ناراض ہو گئے۔
سابق صدر کلنٹن نے اوباما کو اپنی بیٹی چیلسی کی شادی میں اس لئے مدعو نہیں کیا کہ اس تقریب میں دولہا دلہن سب کی مرکزِ نگاہ رہیں‘ اگر اوباما تقریب میں شامل ہو گئے تو کہیں شادی کی تقریب سیاسی تقریب میں نہ بدل جائے۔ کلنٹن اگر اوباما کو اس شرط پر اپنی بیٹی کی شادی میں بلا بھی لیتے کہ تقریب میں سیاست سے پرہیز کیا جائے‘ تب بھی اوباما محفل میں چھائے رہتے کیونکہ گوروں میں ان کا سانولا رنگ مرکز نگاہ رہتا اور تقریب کے وی آئی پیز دلہن دولہا لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے۔
شادی میں اوباما کو نہ بلانے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں‘ ایک یہ کہ کلنٹن نے سوچا ہو کہ اوباما شاید شادی میں خالی ہاتھ ہی چلے آئیں اور کھایا پیا کچھ نہیں‘ گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق انکے آنے سے جو نقصان ہو‘ وہ بھی انہیں بھرنا پڑے‘ دوسری وجہ شادی کارڈ ہی ’’مک‘‘ گئے ہوں ۔
اوباما دل چھوٹا نہ کریں‘ بش مسلم کش کی بیٹی کی ’’باقاعدہ‘‘ شادی ابھی باقی ہے‘ وہ اسکی شادی میں شریک ہو جائیں‘ کیونکہ اوباما بش کے پیروکار ہیں‘ اس لئے وہ انہیں اپنی بیٹی کی شادی میں ضرور مدعو کرینگے۔
٭…٭…٭…٭
ڈاکوئوں نے پیسے کم نکلنے پر دو شہریوں کو مرغا بنا دیا۔
مرغا بننے والے شہری خدا کا شکر ادا کریں کہ مرغا بن کر ہی انکی جان چھوٹ گئی‘ ورنہ انکی جان بھی جا سکتی تھی۔ ایک طرف حکومت ’’شریف ڈاکو‘‘ بن کر عوام کو لوٹ رہی ہے‘ کبھی پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کرکے‘ کبھی بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرکے‘ عوام کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے ہوں یا نہ ہو‘ لیکن انہیں اس ’’شریف ڈاکو‘‘ کو ہر ماہ پابندی سے بھتہ ضرور دینا پڑتا ہے۔
دوسری طرف رہی سہی کسر اصل ڈاکو پوری کر دیتے ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ماہانہ بجٹ میں کچھ حصہ ڈاکوئوں کیلئے بھی رکھ لیا کریں۔ حکومت کو بھی اپنے غریب عوام کا خیال کرنا چاہیے کہ وہ قومی بجٹ میں ڈاکوئوں کا حصہ بھی مختص کیا کرے اور تنخواہ میں ڈاکو الائونس بھی شامل کرے جو عوام کو حکومت کی طرف سے وظیفہ کی صورت میں ملتا رہے تاکہ کہیں سے تو ان کو ریلیف ملے۔ لوگ جب گھر سے باہر نکلیں تو ڈاکوئوں کے حصے کی رقم ساتھ لے کر نکلا کریں‘ ورنہ ان دونوں شہریوں کی تو مرغا بن کر جان چھوٹ گئی‘ اگر ڈاکوئوںنے کسی کو ’’مور‘‘ بنا دیا تو …؟ وہ پھر نہ ہنسنے کے قابل رہیں گے‘ نہ رونے کے۔
٭…٭…٭…٭
ڈاکٹر عافیہ کے وکلائے صفائی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو عمر قید کے بجائے 12 سال قید کی سزا دی جائے۔
گورے وکلائے صفائی نے صفائی کی جگہ غلاظت پھیلا دی اور بجائے اسکے کہ وہ بے گناہ ڈاکٹر عافیہ کو باعزت بری کرنے کا مطالبہ کرتے‘ وکلاء کی منطق یا بھینس ہضم کرکے بھی عافیہ کی مدد کرنے کا انداز دیکھئے کہ وہ کہتے ہیں عافیہ کو عمر قید کی جگہ بارہ سال قید کی سزا دی جائے حالانکہ عمر قید تو کل ہوتی ہی پندرہ سال ہے اور کٹ کٹا کر بارہ سال رہ جاتی ہے۔ گویا وکلاء نے کمال چالاکی کے ساتھ عارفہ کو عمر قید ہی دلوا دی۔
ہماری حکومت بھی چاہتی ہے کہ سر سے بلا ٹلے‘ وگرنہ حکومت پاکستان کی تو خدمات ہی امریکہ کیلئے اتنی ہیں کہ اگر وہ جرأت سے کام لیتی تو عافیہ کو امریکہ کے پنجے سے آزاد کرا سکتی ہے لیکن عافیہ حکمرانوں میں سے تو کسی کی بہو بیٹی نہیں‘ وہ فقط پاکستان کی بیٹی ہے‘ اس لئے حکومت بھی چپ ہے‘ عوام بھی خاموش۔ ہماری حکومت نے امریکی وکلاء کو ڈالر کمانے کا موقع تو دے دیا مگر اپنے مقامی وکلاء نہیں بھیجے۔ جب ایسا ممکن ہے کہ یہ کیس ہمارے وکیل بھی امریکہ جا کر لڑ سکتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ عافیہ صدیقی کے کیس کو غیروں کے سپرد کردیا۔ یہ تو وہی معاملہ ہوا کہ…؎
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
٭…٭…٭…٭
وی وی آئی پی بلٹ پروف گاڑی پر چھ ماہ میں 50 لاکھ مرمتی اخراجات ہوئے۔
پنجاب کے محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن نے وی وی آئی پی ہائی سیکورٹی بلٹ پروف گاڑی پر گزشتہ چھ ماہ میں پچاس لاکھ مرمت کی مد میں خرچ کر ڈالے‘ اگر حکومت پنجاب اسی طرح گاڑیوں کی مرمت کرتی رہی تو یہاں کے عوام کی مرمت ہوتی رہے گی۔ موت تو موت ہے‘ آتی ہے تو بلٹ پروف سے باہر نکل کر بھی اپنا لقمہ اجل بنا لیتی ہے۔ عاد و ثمود کی قوم نے پہاڑ تراش کر ان میں مکان بنا لئے تھے مگر جب عذاب آیا تو ہوا اندر داخل کرکے اتنی تیز چلا دی گئی کہ اس نے سب کو دیواروں سے پٹخ پٹخ کر مار دیا تھا۔
حکمران اپنی سیکورٹی کے بجائے عوام الناس کی حفاظت کا بندوبست کریں‘ جن کو ڈاکو‘ چور‘ لٹیرے ہر روز لوٹ رہے ہیں۔ بھارت میں وزراء اور دیگر اعلیٰ عہدیدار موروثی کاروں میں سفر کرتے ہیں جو بھارت ہی کی بنی ہوئی ہیں۔ خدا جانے وی وی آئی پی مرسیڈیز کی شش ماہی مرمت کے پچاس لاکھ میں سے کس کس نے ایمان تازہ کیا ہو گا؟
جس گاڑی کی مرمت پر پچاس لاکھ صرف کئے‘ اس میں آٹھ نئی سوزوکی گاڑیاں آسکتی ہیں‘ وزیر اعلیٰ پنجاب ذرا اس پچاس لاکھ کی تحقیقات تو کرائیں اور یہ بڑی شارک گاڑیوں کی کیا ضرورت ہے‘ جن کا پالنا بھی مشکل اور خریدنا بھی قوم کو فروخت کرنا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter