تازہ ترین:

اتوار ‘ 15 ؍ صفر المظفر1431ھ‘ 31؍ جنوری 2010ء

ـ 31 جنوری ، 2010
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے‘ نواز شریف‘ الطاف سمیت پوری قوم میرے ساتھ ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے جس طرح کا مثبت رویہ اختیار کرلیا ہے‘ اسکے نتائج اچھے نکلیں گے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف اور الطاف حسین انکی حکومت قائم رکھنے میں انکے ساتھ ہیں مگر انہیں بقول نواز شریف استثنیٰ کے باوجود عدالت میں پیش ہو جانا چاہئے۔ اس میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہیں کیونکہ وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ صدر کے استثنیٰ کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) سے کوئی اختلاف نہیں اور این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی‘ حکومت نے کبھی این آر او کا دفاع نہیں کیا‘ نیب ریفرنس میں ملوث وزراء عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں‘ ہم نے عدالتی فیصلہ تسلیم کیا اور این آر او کے فیصلے پر عملدرآمد کردیا۔ اس وقت حکومت مثبت انداز میں چل رہی ہے اور عدلیہ سے اس کا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔
صدر نے یہ بڑا اچھا اقدام کیا ہے‘ خواتین کے حقوق کے بل پر دستخط کر دیئے ہیں‘ ملکی حالات منفی سمت میں نہیں جا رہے اور یوں لگتا ہے کہ صدر اداروں میں یکجہتی چاہتے ہیں اور انہوں نے این آر او سے متعلق فیصلے پر کبھی عملدرآمد سے انکار نہیں کیا اگر پاکستان کے موجودہ معاملات مثبت انداز میں حل کئے جاتے رہے اور حکومت کو بھی اسکی مدت پوری کرنے دی گئی تو پاکستان دشمن عناصر کسی بھی اختلاف سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ چین نے پاکستان سمیت دوسرے ملکوں میں فوجی اڈے قائم کرنے کا عندیہ دے دیا‘ اس نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے‘ ارادہ ترک نہیں کرینگے‘ فیصلے کی وجہ خطے میں امریکی فوج کی موجودگی ہے۔
چین نے اب تک امریکہ کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے مگر یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے دوسرے ملکوں میں فوجی اڈے قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے‘ یہ ردعمل خطے میں امریکی فوج کی موجودگی کے باعث سامنے آیا ہے اور نہایت بروقت ہے۔ اس طرح امریکہ اپنی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی کرنے پر مجبور ہو گا۔
یہ ردعمل ایک ایسے وقت میں آیا ہے جبکہ بھارت کی جانب سے بیک وقت چین اور پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکی آچکی ہے۔
اس وقت دنیا میں امن کیلئے ضروری ہے کہ کوئی قوت ایسی ہو جو امریکہ کو کائونٹر کر سکے‘ چین نے یہ محسوس کیا ہے کہ امریکہ اپنے حواریوں کے ذریعے اس کو ہراساں کر رہا ہے‘ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس اقدام سے ہم ہمسایہ ممالک کے کسی بھی حملے کا فوری جواب دے سکیں گے۔ امریکہ کی پوزیشن اس وقت یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ’’گلیاں ہو جان سنیاں‘ تے وچ مرزا یار پھرے‘‘۔
چین پاکستان کا مشکل کی گھڑی میں کام آنے والا دوست ملک ہے‘ یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان میں بھی اپنے فوجی اڈے قائم کرنے کا اظہار کیا ہے‘ اس کا یہ اقدام کافی حد تک بھارت کی ریشہ دوانیوں کو بھی روک دیگا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کشمیری رہنمائوں سے مشاورت کے بعد ہی آئندہ کی حکمت عملی طے کرینگے۔ ان رہنمائوں نے نئی دہلی پر واضح کردیا ہے کہ اسلام آباد کو شامل کئے بغیر مسئلہ کشمیر کا حل نہیں نکالا جا سکتا۔ مقبوضہ کشمیر کے رہنمائوں کو جلد مشاورت کیلئے اسلام آباد میں مدعو کیا جائیگا۔
مسئلہ کشمیر کے بارے میں ہماری حکومت کا رویہ سابقہ حکومتوں کی طرح صرف اجاگر کرنے تک ہی محدود ہے۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا‘ اگر وزیر خارجہ یہ سمجھتے ہیں کہ انکی حکمت عملی سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائیگا تو یہ انکی خام خیالی ہے۔ 62 سال سے جاری مذاکرات کے نتیجے میں یہی ہوا ہے کہ بھارت نے ناصرف مقبوضہ کشمیر پر اپنے قبضے کو مضبوط کیا ہے‘ بلکہ پاکستان کے پانی پر بھی قبضہ کیا ہے اور اسکی وجہ یہی ہے کہ:
ہم کو ان سے ہے وفا کی امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہندو بنیا صرف تھپڑ کی زبان سمجھتا ہے اور پاکستان کی طرف سے دوستی کا تجارتی تعلقات کا اور امن آشا مہم کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ہم نے اپنی بے جا نرمیوں سے بھارت کو یہ باور کرا دیا ہے کہ شاید ہم کشمیر کے مسئلے پر زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھیں گے جبکہ بھارت آئے دن کنٹرول لائن پر گولہ باری کر رہا ہے۔ بھارت نے پاکستان اور کشمیری مسلمانوں کا حق مارا ہے اور وہ ایک ناجائز قابض ہے اس کیخلاف کارروائی میں پہل کرنا ہمارا حق ہے۔ کشمیر کے بارے میں کشمیری رہنمائوں کا بھی یہی خیال ہے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ امن کی آشا کا پیغام لے کر پاکستانی تاجروں کا وفد 16 فروری کو بھارت جائیگا‘ یہ وفد بھارتی تاجروں سے ملاقات میں تجارت کے فروغ کیلئے لائحہ عمل مرتب کریگا۔
بھارت ہمارا جسم نوچ رہا ہے اور ہم اس کا بدن سہلا رہے ہیں‘ ہمارے وہ تاجر جو امن کی آشا کا پیغام لے کر بھارت جا رہے ہیں‘ کیا ان میں قومی غیرت ختم ہو چکی ہے۔ ایک ایسا کمینہ دشمن جس نے ہماری شہ رگ اور ہمارے پانی پر قبضہ کر رکھا ہے اور 96 گھنٹے میں ہمیں ملیامیٹ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس کو تجارتی فائدہ دینے کا کیا جواز بنتا ہے؟ یوں لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس مہم کے سپانسر ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات بھی برقرار ہیں اور پاکستان بھارت کو فوائد بھی پہچاتا رہے اور بالآخر پاکستان کی حیثیت بھارت کے باجگزار کی سی بنا دی جائے۔ یہ نہایت افسوسناک بات ہے کہ سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین نے اس کوشش کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے اور اس اقدام میں شامل گروپ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں مسائل جنگ سے نہیں‘ محبتیں بڑھانے سے حل ہونگے‘ وہ یہ بات امریکہ سے کیوں نہیں کہتے جس نے پوری دنیا کو بارود کے ڈھیر پر بٹھا دیا ہے۔ ہمیں تاجروں سے یہ توقع ہے کہ وہ حب الوطنی اور قومی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس وفد کا بائیکاٹ کرینگے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter