غلام احمد بلور کہتے ہیں: اسفندیار ولی نے استعفیٰ مانگا تو دے دونگا۔
چلو اچھا ہوا کہ قارونِ ریلوے ٹوٹی پھوٹی ریلوے سمیت پھر سے اسمبلی کے کھوہ کھاتے میں چلا جائیگا اور انکے بعد کس کو لایا جائیگا‘ وہ کہیں ان کا گدی نشین ثابت نہ ہو اس لئے ریلوے کو ریلوے حکام کے سپرد کرکے وزیراعظم خود اس ادارے کی نگرانی کریں‘ ویسے بھی ان دنوں انکے پاس کوئی اتنی مصروفیت نہیں۔ اگر استعفیٰ دینا ہے جوکہ اب واجب ہو چکا ہے تو اسفندیار ولی کو اس میں ملوث کرکے انکی حیثیت کو مزید خراب کرنے سے بہتر ہے کہ بلور خود ہی براہ راست وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیں مگر فردوس عاشق اعوان کی طرح رونا نہیں کہ پٹھان کو یہ زیب نہیں دیتا۔ انکی جگہ ریلوے رو رہا ہے‘ یہ کیا کم ہے؟
غلام احمد بلور ریلوے کے فنڈز لگا لگا کر اتنے تھک گئے ہیں کہ اب بلور کو ”خپل کور“ جانا چاہیے اور جب اسمبلی سیشن ہو تو وہاں جا کر گپ شپ لگانی چاہیے کہ ہمارے اس عظیم جمہوری ادارے جیسی بیٹھک انہیں کہاں ملے گی؟ وہ رنجیدہ ہرگز نہ ہوں‘ ریلوے میں اب رہ ہی کیا گیا تھا‘ یہ جو حکومت کی ٹیم ہے‘ اس میں کئی بلور جیسے قابل لوگ موجود ہیں اور کئی کاہل و نااہل بھی‘ وہ اپنا مقام خود ڈھونڈ لیں....
ان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیں
سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں
٭....٭....٭....٭
گوجرانوالہ میں ماموں بھانجا قتل کر دیئے گئے‘ لواحقین نے فائرنگ کی۔ مخالفین کے چار گھروں کو آگ لگا دی‘ 9 بچوں سمیت 14 افراد مارے گئے۔
زن‘ زراور زمین فساد کی جڑ ہے‘ یہ پرانے لوگ کہتے آئے ہیں‘ لیکن حقیقت وہی ہے جو فرشتوں نے بیان کی تھی کہ یہ انسان روئے زمین پر فساد پیدا کرینگے۔ ہمارا یہ چلن بن چکا ہے کہ اپنا قصور بھی اللہ کے کھاتے میں (نعوذباللہ) ڈال دیتے ہیں حالانکہ غلطی ہماری اپنی ہوتی ہے اور کہہ دیتے ہیں کہ اللہ کو ایسے ہی منظور تھا یعنی ایک خاندان کے لوگ اٹھ کر دوسرے کو ختم کر دیں‘ قتل کر دیں تو یہ اتنے سارے گھروں کا اجڑنا بھی اللہ کی مرضی تھی؟ مارنے کیلئے ہماری پولیس کیا کم تھی کہ لوگوں نے ان کا کام بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
قرآن حکیم میں ہے ”جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردیا‘ اسکی سزا جہنم ہے‘ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا“ یہ بارہ افراد جو ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے تھے‘ زمین کے تنازعے پر قتل ہوئے۔ زمین تو رہ گئی‘ بندے چلے گئے‘ انسان کیسے اپنے لئے خود ہی قبر کھودتا ہے۔ الامان والحفیظ۔ اس دہیہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دلدوز واقعہ پولیس کی غفلت سے ہوا۔ ایس ایچ او معطل کردیا گیا اور وزیراعلیٰ نے رپورٹ طلب کرلی۔ قتل کا یہ المناک واقعہ تو کئی روز سے چل رہا تھا‘ پولیس کو سب علم تھا‘ وہ پہلے ہی وقوعے پر پہنچ جاتی تو یہ 14 افراد آج زندہ ہوتے۔ گویا بالواسطہ قاتل بھی پولیس ہی نکلی۔ پولیس صرف بااثر افراد کے کہنے پر بہت کچھ کرتی ہے‘ یہ ڈیوٹی سے فرار اتنے سارے افراد کو خون میں نہلا گیا‘ جلا کر راکھ کر گیا‘ مگر پولیس اپنی جگہ موجود ڈیوٹی سے غفلت کی مرتکب رہی۔ پولیس چاہتی تو روک سکتی تھی‘ مگر یہ تماشائی پولیس کسی کوتحفظ نہیں دے سکتی البتہ لاشیں گن سکتی ہے۔ قاتلوں نے پولیس کو خاموش رکھا ہو گا اور اسکے منہ بھر دیئے ہونگے۔
٭....٭....٭....٭
متحدہ نے ہزارہ‘ جنوبی پنجاب کو الگ صوبے بنانے کی قراردادیں جمع کرادیں۔
متحدہ قومی موومنٹ نے اگر ہزارہ اور جنوبی پنجاب کو الگ الگ صوبے بنانے کی ٹھان ہی لی ہے تو ان پر اٹھنے والے اخراجات بھی وہ اپنی جیب سے پورا کریں۔ قومی خزانہ ایسی فضول خرچیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر پیسے کم پڑ جائیں تو یوسف گیلانی سے مدد لے لیں مگر وہ بھی خزانے کو ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ یہ نہ تو ملک کی ضرورت ہے اور نہ ان صوبوں کے بننے سے عوام کو بجلی‘ گیس‘ روزگار اور خوشحالی مل جائیگی بلکہ لوٹ مار کی نئی راہیں کھلیں گی اور یہ عاشقانِ صوبہ بھی اپنی کاوش مفت میں نہیں کرینگے۔ قائد کے پاکستان کو کیوں اکھاڑ پچھاڑ کرکے اسکی ہئیت بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور الطاف حسین تو لندن بیٹھ کر یہ نقشہ بھی بنا چکے ہیں کہ اگر فاٹا نے مطالبہ کیا اس کو بھی الگ صوبہ بنانے کی حمایت کرینگے جبکہ وہ ملتان کے جلسہ میں ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا جوشیلا اعلان بھی کر چکے ہیں ....
ہیں جذبِ باہمی سے قائم نظام سارے
پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی کیسی
فورسٹار ملک کو فور سٹار ہی رہنے دیا جائے‘ اگر آسمان وطن کو مزید ستاروں سے سجایا گیا تو پہلے والے بھی ماند پڑ جائینگے۔ موجودہ ستاروں (صوبوں) ہی کو چاند سورج بنانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ یہ صوبوں کا مطالبہ چند حکمرانوں اور رسہ گیروں کا ہے‘ عوام تو ارزانی بجلی‘ گیس‘ پانی‘ روزگار کے طلب گار ہیں۔ کیا کالاباغ ڈیم نہ بنانا خیبر پی کے کے عوام کا مطالبہ ہے یا سابقہ مخالفین پاکستان کی آرزو۔
٭....٭....٭....٭
مسلم لیگ فنکشنل کے صوبائی صدر احمد محمود مسلم لیگوں کے اتحاد کیلئے سرگرم ہو گئے۔
جب تک ماچس سے تیلی رگڑ نہ کھائے‘ لکڑیوں کو آگ نہیں لگتی۔ احمد محمود کی کاوش اور تمنا تو قابلِ ستائش ہے‘ لیکن وہ ماچس سے کہیں کہ وہ جل اٹھے‘ تاکہ گلشن کا کاروبار چلے۔ مسلم لیگ کوئی بھی ہو‘ ذات کی تو ایک ہوتی ہے مگر لیگی لیڈران کیوں اپنی ذات کو اس پر مسلط کر دیتے ہیں۔ یہ نرگسیت‘ یہ اپنے آپ کو ہی مسلم لیگ سمجھنا ہی تو ملک بھر کی لیگوں کو تتربتر کئے ہوئے ہے۔ میاں نواز شریف جب تک نوازنے پر نہیں آئینگے‘ اس قائد کی جماعت کو لیگیاں تو ملیں گی۔ وہ ایک مستحکم حقیقی قائداعظم کی مسلم لیگ نہ بن سکے گی۔ اگر اتحاد نہ کیا گیا تو یہ ایک ایک کرکے صرف سربراہ کی صورت میں باقی رہ جائیں گی۔ خدا کرے کہ احمد محمود کی آواز میاں صاحب کے کانوں تک بھی پہنچ جائے اور وہ بھی کہہ اٹھیں‘ ”مسلم لیگ کے پرچم تلے ہم سب ایک ہیں“۔