یونیورسٹی آف مانٹریال کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق ایک تہائی موٹے افراد تندرست ہوتے ہیں‘ ایسے افراد جن کی بلڈ شوگر‘ کولسٹرول اور بلڈ پریشر کم ہوتا ہے‘ تندرست ہوتے ہیں اور انہیں وزن کم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
موٹے دو طرح کے ہوتے ہیں‘ ایک جسمانی موٹے اور دوسرے مالیاتی موٹے۔ جسمانی موٹے زیادہ سے زیادہ خود کو نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن مالیاتی موٹے اکثر و بیشتر ملک دشمن ہوا کرتے ہیں بلکہ ملک اکثر انکے پیٹ ہی میں ہوتا ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں اب بڑے لوگ پیدا ہونے بند ہو گئے ہیں‘ اس لئے ہم مالیاتی موٹوں ہی کو بڑے لوگ قرار دے کر خود کو تسلی دے لیتے ہیں۔
جہاں تک جسمانی خطرناک موٹوں کا تعلق ہے‘ تو وہ جب ایک دفعہ موٹے ہو جاتے ہیں تو پھر ان کا بیک گیئر نہیں لگتا اور جو صحت مند جسمانی موٹے ہوتے ہیں‘ وہ روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر ’’رڑتے‘‘ پھرتے ہیں اور ان سے بڑی رونق ہوتی ہے کیونکہ وہ ہنستے ہیں تو منہ سے نہیں‘ بلکہ بدن سے ہنستے ہیں‘ ایسے موٹے نہایت بے ضرر اور سمجھ دار ہوتے ہیں اور ان کا بڑا دبدبہ بھی ہوتا ہے‘ اسی لئے تو فارسی میں کہتے ہیں‘ ’’فربہ خواہ مخواہ معتبر‘‘۔
٭…٭…٭…٭
حکومت پاکستان نے برطانیہ سے درخواست کی ہے کہ صدر زرداری پر جوتا پھینکنے کا ملزم ملک بدر کر دیا جائے۔
چلو اتنا تو ہوا کہ پیپلز پارٹی جوتا پھینکنے سے انکاری تھی‘ اب برطانیہ سے جوتا مار شمیم خان کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کرکے اس نے یہ تو تسلیم کرلیا ہے کہ شمیم خان نے واقعی جوتا مارا تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شمیم خان مجرم ہے تو الطاف بھائی بھی تو جرم کے حوالے سے اسکے ہم زلف ہیں کیونکہ ان کیخلاف بھی یہاں گوناگوں مقدمات درج ہیں۔
اس طرح حکومت پاکستان کو ان کو بھی ڈی پورٹ کرنے کا مطالبہ کرنا پڑیگا کیونکہ کوئی بھی حکومت سے ایسا مطالبہ کر سکتا ہے اور یوں شمیم خان کو چھیڑتے ہوئے پیپلز پارٹی کا ہاتھ بھڑوں کے چھتے میں بھی جا سکتا ہے‘ بہتر تو یہی تھا کہ پیپلز پارٹی نے اس شرمناک واقعے سے اچھا خاصا انکار کردیا تھا اور قصہ رفع دفع ہو گیا تھا مگر وزیر داخلہ جو زرداری کے بڑے ذہین مشیر و وزیر ہیں‘ انہوں نے نہ صرف سابقہ مؤقف بدل لیا‘ بلکہ صدر صاحب کیلئے مخالفین کی طرف سے یہ سوال اٹھانے کا موقع فراہم کر دیا کہ اگر ایک مجرم کو برطانیہ بدر کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو دوسرے کی برطانیہ بدری کیوں ضروری نہیں جبکہ وہ برطانیہ بیٹھ کر ملک کی چولیں ہلا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ کیوں حکومت کو ایک اور ’’یب‘‘ میں ڈالنا چاہتے ہیں‘ جوتا کیس سے منکر ہونا ہی اچھا تھا اور ملک کیلئے اولین مؤقف پر آنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئیگی۔
٭…٭…٭…٭
سابق وزیر مملکت اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ممبر حامد یار ہراج کو ڈپلومیٹک انکلیو اسلام آباد میں 5 ایکڑ کا پلاٹ دیدیا گیا۔
ایسے موقع پر کہتے ہیں ’’چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی‘‘ (جب کفر کعبہ سے اٹھے تو مسلمانی کہاں رہ جائیگی) ہراج جو دوسروں کا احتساب کرتے ہیں‘ اب ان کا احتساب کون کریگا؟ سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام نے اعتراف کیا ہے کہ پلاٹ کی الاٹمنٹ غیرقانونی ہے مگر اوپر سے بہت دبائو تھا۔
واضح رہے کہ یہ پلاٹ مشرف دور میں 2007ء میں ہراج صاحب کو سکول تعمیر کرنے کیلئے الاٹ کیا گیا تھا۔ سی ڈی اے نے نام نہ بتانے کی شرط پر صحافی کو معلومات و دستاویزات تو فراہم کر دیں‘ مگر یہ نہیں بتایا کہ تب تو مشرف کا دبائو تھا‘ اب کس کا دبائو ہے کہ یہ غیرقانونی الاٹمنٹ جاری ہے۔
جس ملک میں غریب کو سر چھپانے کیلئے دو مرلے زمین نہیں مل سکتی بلکہ اب تو دو گز زمین قبر کیلئے بھی میسر نہیں‘ کہئے وہ کونسے ہراج سے انصاف مانگے‘ یہ سیلاب‘ یہ زلزلے اور یہ حکمران سب آسمانی آفات ہیں‘ خدا جانے یہ کب ٹلیں گی؟
خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
٭…٭…٭…٭
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر دورۂ امریکہ منسوخ کریں۔
دورہ اور وہ بھی امریکہ کا‘ بھلا وزیراعظم کیوں اک ’’ذرا‘‘ سے سیلاب کی خاطر اسے چھوڑ دیں‘ وائٹ ہائوس کے گنبدوں تلے بیٹھ کر لطف اٹھانا تو حکمرانوں کا ’’حج‘‘ ہے۔ خان صاحب کو بھی زیادہ شک نہیں کرنا چاہیے‘ کیا پتہ وزیراعظم اوباما سے سیلاب زدگان کیلئے وعدوں کے بجائے ڈالروں کی بوریاں لے آئیں اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کے رکن حامد یار ہراج کو انکی تقسیم پر فائز کر دیں کیونکہ انکی ایمانداری ضرب المثل ہے اور ان کیلئے اوپر سے کافی دبائو آتا ہے۔
خان صاحب کی یہ بڑی اچھی بات ہے کہ اپنی جیب سے سیلاب زدگان کے فنڈز میں کچھ ڈالنے کے بجائے خود چندہ جمع کرنے نکل پڑے ہیں‘ سیلاب اسلام آباد ایئرپورٹ پر تو نہیں آیا کہ گیلانی صاحب اوباما کے درشن کرنے امریکہ نہ جا سکیں۔ بہرحال ہم اس دورے کو چونکہ روک نہیں سکتے‘ اس لئے اس میں خوش ہیں کہ وہ امریکہ سے ریوڑیاں لائیں گے اور پوری قوم پیٹ بھر کے کھائے گی۔