ؐبدھ ‘10 ؍ شوال المکرم 1430 ھ‘ 30 ؍ ستمبر 2009ء
ـ 30 ستمبر ، 2009
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر نظرانداز کرکے بھارت سے تعلقات بڑھانا نہیں چاہتے۔
پاکستان کے حکمرانوں کا مسئلہ کشمیر پر قبلہ راست کرنے کیلئے زرداری صاحب کا بیان کلیدی اہمیت کا حامل ہے‘ بھارت کا بین الاقوامی سطح پر گراف پاکستان سے کہیں اونچا جا رہا ہے‘ اسکی وجہ ہماری سفارتی طاقت کی کمزوری ہے۔ صدر پاکستان نے بجا طور پر مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے مگر ابھی تک ان عوامل پر انہوں نے توجہ نہیں دی‘ جن کے باعث پاک بھارت ’’مذاق رات‘‘ مذاکرات میں بدل جائیں۔ بھارت ایک مربوط پروگرام کے تحت پاکستان کی معیشت اور زراعت پر چوٹ لگاتا جا رہا ہے اور پاکستانی حکومت نے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں بڑھایا۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ وزنی ہے کہ کم از کم سابقہ حکومت کے برعکس پاکستان تجارت کی خاطر بھارت کے چرنوں میں تو نہیں لیٹا۔ امریکہ اسرائیل اور بھارت نے ایک مہم جاری کر رکھی ہے کہ مسئلہ کشمیر کی طرف توجہ روکنے کی کوششیں اور تیز کردی گئی ہیں اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ فلسطین‘ کشمیر اور مسلم امہ کے دیگر مسائل پردۂ اخفا میں لے جائے جا رہے ہیں۔ جہاد کشمیر کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذکر صدر صاحب نے کردیا ہے مگر ہماری سفارت کاری کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور یہ نعرہ پوری دنیا میں عام کر دینا چاہئے کہ بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر قبضہ کر رکھا ہے اور جہاد کشمیر کو دہشت گردی قرار دے رکھا ہے۔
٭…٭…٭…٭
بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر نے جو 80 برس کی ہو گئی ہیں‘ ایک انٹرویو میں کہا کہ بھگوان نے مجھے دنیا میں گانے کیلئے بھیجا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ لتاجی کو خدا نے گانے کیلئے دنیا میں بھیجا ہے‘ وہ برصغیر کی بلبل ہیں۔ انکے گانے دونوں ملکوں میں بڑے شوق سے سنے جاتے ہیں۔ ہندو اگر انکو گانے کی دیوی بنا کر پوجیں تو ان کیلئے صحیح ہو گا۔ ہمارے ملک کی کوئل تو ملکہ نورجہاں تھیں‘ آج بھی انکے گانے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ بہرحال ذکر لتاجی کا ہو رہا ہے وہ اکثر اپنے انٹرویو میں مسلمانوں کے نام لیتی ہیں اور بڑا فخر محسوس کرتی ہیں کہ غلام حیدر صاحب کو میں آج بھی یاد کرتی ہوں۔ کہنے کا مطلب ہے کہ کبھی وہ پاکستان میں نہیں آئیں اور یہاں آکر پرفارم نہیں کیا حالانکہ میڈم نورجہاں کئی بار انڈیا گئیں تھیں‘ نکلی لتا بھی ہندو کی ہندو۔
٭…٭…٭…٭
فرانس میں انجینئرنگ سکول کے طلبہ نے دنیا کا پہلا سولر ایئرشپ بنا کر سب کو دنگ کر دیا ہے۔ یہ سورج کی شعاعوں سے چلنے والا دنیا کا پہلا ایئرشپ ہے جو اپنی اولین آزمائشی پرواز کیلئے تیار ہے۔
روز بروز کوئی نہ کوئی سائنسی ایجاد ایسی ہوتی ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یعنی جو باتیں انسان اپنے خیال یا تصور میں سوچتا تھا‘ وہ اب آہستہ آہستہ سائنس کی بدولت حقیقت بن کر سامنے آجاتی ہیں۔ بیرونی دنیا کے لوگ فکری اور سائنسی طور پر اس لئے بھی کام کرتے ہیں‘ انکے پاس وسائل ہیں اور انکو اس طرح کے مسائل نہیں کہ آج بجلی نہیں‘ کل گیس نہیں‘ پانی نہیں‘ کھانے کو نہیں۔ ہمارے ہاں ایک چیز پوری ہو تو دوسری غائب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی ہمارے ملک میں کئی لوگوں نے بڑی بڑی بہترین ایجادات کی ہیں لیکن کوئی ان کو سپورٹ کرنیوالا نہیں۔ اپنے سائنس دانوں کو ہی دیکھ لیں‘ وہ بے چارے اپنی زندگی کو بچانے پر لگے ہوئے ہیں‘ بہرحال ایک دن ایسا ضرور آئیگا یہاں والوں کی محنت اور ایجادات بھی رنگ لائیں گی۔ انشاء اللہ۔
٭…٭…٭…٭
ایک حالیہ امریکی تحقیق کیمطابق خوبصورت اور خوش شکل خواتین و حضرات کی عمومی صورت والے افراد کے مقابلے میں زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ بل یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہانت سے زیادہ خوبصورتی آپکی تنخواہ بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہے۔
یہ تو درست ہے کہ حسین چہرے دل موہ لیتے ہیں‘ باذوق لوگ ہی حسن کے قدردان ہوتے ہیں‘ لیکن یہاں معاملہ کچھ اس طرح کا ہے کہ انکی تنخواہیں بھی عام شکل والے لوگوں سے زیادہ ہوتی ہیں یعنی چوپڑیاں تے نالے دو دو۔ خوبصورت چہرہ رکھنے والوں کو ڈبل فائدہ ہو گیا‘ انکی خوبصورتی انہیں فائدہ دیگی لیکن بے چارے عام چہرہ رکھنے والے کدھر جائیں اگرچہ انکے پاس ہنر بھی ہو‘ ہمارا خیال ہے ایسا شاید لندن میں ہی ہوتا ہو گا‘ ہمارے یہاں تو ہنر والے کی قدر کی جاتی ہے اور اسکو تنخواہ بھی ویسی ہی ملتی ہے جیسا خوبصورت چہرہ رکھنے والوں کو ملتی ہے۔ بہرحال خوبصورتی بھی خدائی تحفہ ہے‘ جسے مل جائے اسے شکر ادا کرنا چاہئے۔
٭…٭…٭…٭
نوسر بازوں کے ہاتھوں نشہ آور چیز کھا کر ایک شخص ہلاک ہو گیا اور پانچ ہسپتال پہنچ گئے۔
نوسر بازوں کی تاریخ تو بڑی پرانی ہے لیکن اتنا وقت گزرنے کے باوجود انسان کس طرح سے دوسرے انسان کے دھوکے میں آجاتا ہے۔ جس طرح جیب کتروں کے بڑے واقعات ہیں‘ اسی طرح سے نوسر بازوں کی بھی بڑی کہانیاں ہیں۔ بس میں سوار ایک اچانک ایک فقیر بھیک مانگنے لگا تو سواریاں اسے پیسے دینے لگیں لیکن وہ سواریوں سے بولا مجھے بھیک نہیں چاہئے‘ سواریوں نے پوچھا آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ وہ بولا میری بیٹی میرے ساتھ ہے‘ میں بہت بوڑھا ہوں کوئی اسکی شادی کا مسئلہ حل کرے۔ سواریوں میں سے ایک نوجوان بولا‘ بابا میں اس سے نکاح کرلیتا ہوں‘ تمام سواریاں خوش ہو گئیں بس میں چلتے چلتے سواریوں کی موجودگی میں نکاح پڑھایا گیا‘ سب خوش ہو گئے‘ کسی سواری کے پاس اتفاق سے مٹھائی بھی تھی‘ وہ سب میں تقسیم کی گئی۔ سب نے خوشی سے مٹھائی کھائی‘ اس دوران سب سواریاں بے ہوش ہو گئیں‘ بس کا ڈرائیور بھی بے ہوش ہو گیا۔ بس رک گئی‘ ان سواریوں میں سے کچھ لوگ جو پوری اس کہانی میں ملوث تھے‘ انہوں نے بے ہوش سواریوں کو لوٹا اور فرار ہو گئے۔ بندہ کرے تو کیا کرے‘ انسان پہچاننا آج کے دور میں بہت مشکل ہے۔
٭…٭…٭…٭
ایک بھارتی سنیاسی رام دیو نے یوگا کی تعلیمات اور روحانی عبادات کیلئے سکاٹ لینڈ کا ایک جزیرہ خرید لیا جس کی مالیت بیس لاکھ پائونڈ ہے۔
ہندو کیسے اپنے مذہب کیلئے پیسہ بہا رہے ہیں‘ اور ایسی ایسی جگہ پر اپنی روحانی عبادات کیلئے پروگرام بنا کر عملی جامہ پہناتے ہیں اور ایسا ماحول دوسرے انسانوں کو مہیا کرتے ہیں کہ لوگ وہاں جا کر روحانی اور ذہنی سکون حاصل کریں اور یوگا سیکھیں۔ ویسے مسلمانوں کو بھی چاہئے جن کے پاس پیسے کی کمی نہیں‘ ایسی خوبصورت جگہوں پر خوبصورت مساجد بنوائیں کہ نمازی کو نماز پڑھنے کا مزہ آجائے۔ یا ایسے ادارے بنائیں ان خوبصورت جگہوں سے انسان درس حاصل کرے‘ درس بھی ایسا جو کہ پرامن ہو۔ ایسے ٹینشن والے حالات میں ایسا ہونا چاہئے۔ کئی بلڈ پریشر والے مریض بھی صحت یاب ہو کر آئیں گے یعنی یہ مرض آجکل ٹینشن کی پیداوار ہے‘ ٹینشن کا علاج انسان ایسے ادارے خوبصورت اور پرسکون جگہوں پر جا کروا سکتا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں