بدھ‘ 4 محرم الحرام 1433ھ‘30 نومبر 2011
ـ 30 نومبر ، 2011
اخباری اطلاعات کے مطابق لاہور میں منعقد ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس کروڑوں میں پڑا۔ آفاقی کابینہ ہر لحاظ سے آفاقی ہے، بالخصوص نشستندو گفتند و برخاستند و کروڑہا خرچ کردند کے حوالے سے بھی چہارم آسمان پر ہے۔ اس اجلاس کی تفصیلات پڑھے بغیر ہی اس کی کارکردگی معلوم کی جاسکتی ہے، بندر سے کسی جنگل کے دوسرے جانور نے سوال کیا تم آخر کرتے کیا ہو؟ اُس نے جواب دیا” تُسی میریاں آنیاں جانیاں تے ویکھو“ ہمیں تو بس اتنی سی بات کہنا ہے کہ یہ کروڑوں، گیلانی صاحب ملتان کے غریبوں میں بانٹ دیں شاید شاہ محمود کے اثرات کچھ کم ہوں،اب تو کابینہ اجلاس بلانے کے بجائے صدر اور وزیراعظم اپنے ساتھ بم باندھ کر خو د کو نیٹو کے کیمپ پر پھینکوا دیں شاید اس کے نتائج اجلاس سے بڑھ کر ثمرآور ہوں اور شہداءکا قصاص بھی لے لیاجائے، تو یہ دنیا تو کچھ بھی نہیں چاہے اس کے درختوں پر ڈالر لگ جائیں، اصل مزے تو جنت میں ہیں، تاریخ میں اَمر زندگی پانا اس کے علاوہ ہے،نیٹو سے انتقام کے ساتھ وہ حسینوں سے بھی چُن چُن کر بدلے لے سکیں گے نیٹو سے کیا بدلہ لیں گے....
ان حسینوں سے ہم لیں گے خلد میں انتقام
قدرت حق سے اگر یہ واں پہ حوریں ہوگئیں
وفاقی کابینہ کواب شمسی ائیر بیس کی طرح فانی کابینہ قرار دے دیں،اسی سے کیبنٹ ارکان پر تصوف کے کتنے ہی مضامین کھل جائیں گے او ر کروڑوں روپے کے اس ضیاع سے بھی جان چھوٹے گی۔اس میٹنگ کی حالت وہی ہے کہ جب نپولین مصر کے اندر پہنچ گیا تھا تو وہاں کے علماءکے حکم پر لوگ سورة یٰسین کا ختم پڑھ رہے تھے،تب نپولین نے کہا تھا، تم نے اس آسمانی کتاب کا غلط موقع پر غلط استعمال کیا جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل نہ کیا۔اب بھگتو!
٭....٭....٭....٭....٭
گوجرانوالہ میں قائداعظم کے گھر کی مرمت کا اعزاز حاصل کرنے والے شخص کا 120سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ہم تو گوجرانوالہ کو بٹوں اور تن سازوں کا شہر سمجھے تھے ،کیا پتہ تھا کہ اُسے کاشانہ قائد کی مرمت کا اعزاز بھی حاصل ہے، میاں محمد حسین المعروف میاں جی کو قائداعظم کے گھر کی سیڑھیاں مرمت کرنے کے ساتھ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے ملاقات کی سعادت بھی حاصل ہوئی،ان کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوئی....
نغمہ ہائے زندگی ہی کو غنیمت جانئیے
بے صدا ہوجائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
لیکن میاں جی کے اعزاز کا ساز بجتا ہی رہے گا،گوجرانوالہ کو یہ امر عزت مباک ہو۔120 سال عمر پانا تو ایک ریکارڈ ہے،شاید یہ قائد کے گھر کی مرمت کا اعجاز ہے، قائداعظم کے گھر کی مرمت تو ہوگئی لیکن اُن کے عزیز و اقارب کراچی میں عسرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، کیا حکومت جو اپنے اوپر کروڑوں اربوں خر چ کرتی ہے وہ ملک بنانے والے کے عزیزوں کو بہتر زندگی اچھی سہولیات فراہم نہیں کرسکتی۔ہمیں یقین ہے کہ حکومت ایسا نہیں کرے گی مگر کہنے میں کیا حرج ہے،آخر قلم کی زبان کبھی تو ایسے دستور کو قلم قلم کردے گی۔ یہ ملک بابائے قوم کی امانت ہے اور ہم اس میں خیانت کر بھی چکے ہیں اور خیانت کر بھی رہے ہیں اور اب تو یہ حالت ہے کہ اغیار ہمیں گھر آکر مار رہے ہیں اور ہم کچھ نہیں کر پارہے۔ بہر حال گوجرانوالہ کے بابے کے خاندان کا بھی خیال رکھناچاہئے۔
٭....٭....٭....٭....٭
ائر مارشل ریٹائرڈ کلیم سعادت نے کہا ہے: امریکہ سے اتحاد ختم کردیں تو اسے شکست ہوجائے گی۔ اگر ہماری حکومت نے امریکہ سے پکا نکاح کر بھی کرلیا ہے تو وہ خلع تو لے سکتی ہے، اس لحاظ سے کلیم سعادت کا مشورہ بڑا قیمتی ہے لیکن ظاہر ہے وہ ڈالروں سے قیمتی تو نہیں،اسلئے حکومت بھلا کیوں اُن کی بات کو وزن دے گی۔ ہمارے ساتھ من حیث القوم جو کچھ ہوچکا ہے اس کا مجموعی اور جامع جواب تو یہی ہے کہ اب امریکہ سے اتحاد ختم کردیاجائے تو کتنے ہی روگ ختم ہوجائیں گے۔ اس اتحاد نے ہمیں برباد کردیا ہے،ویسے بھی کہتے ہیں....ع تعلق بوجھ بن جائے تو اُس کا توڑنا اچھا۔
امریکہ کا سارا دارومدار پاکستان پر ہے، اسی بنیاد پر وہ افغانستان میں قدم جما کر ہماری طرف قدم بڑھا رہا ہے،ائر مارشل کلیم سعادت ایک ریٹائرڈ ائرمارشل ہیں، ہماری سعادت مندی اس میں ہے کہ اُن کی بات پر عمل کریں، یہ شمسی ائیر بیس خالی کردینے اور احتجاج کرنے کی باتیں لپ سروس ہیں، اب ایک ہی علاج ہے اس امریکی روگ کا جو ہمارے حکمرانوں کیلئے مفید اور ملک و قوم کیلئے سمِ قاتل ہے کہ اُس سے اتحاد ختم کردیاجائے، وگرنہ وہ اس اتحاد کی سیڑھی پر چلتا چلتا وہاں بھی پہنچ سکتا ہے، جہاں ہمارا واحد ڈیٹیرنٹ پڑا ہوا ہے، ہماری آزادی خود مختاری کا راز امریکہ کی جنگ ترک کرنے اور اتحاد چھوڑ دینے میں مضمر ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
پی آئی اے نے ڈی آئی خان جانے والی خاتون کو پورے ملک کا چکر لگوادیا ۔اور ایک حج پرواز جو لاہور آنی تھی وہ اسلام آباد جا اُتری۔ پی آئی ایں اسقد رپی چکی ہے کہ اُس کے اوسان خطا ہوگئے ہیں اور وہ بیمار خاتون بھی کتنی ” خوش قسمت“ جسے واپس پشاور پہنچادیا، یوں لگتا ہے کہ ایک جہاز کو کم اور دوسرے کو اتنا زیادہ پٹرول پلا دیا کہ ڈی آئی خان جانے والی خاتون کو پورے ملک کا چکر لگوا کر واپس پشاور پہنچا دیا جبکہ جدہ سے لاہور آنے والی حج پرواز اسلام آباد پہنچا دی، لاہور کے حجاج کے رشتہ دارعزیز اب اپنے حاجیوں کو وصول کرنے اسلام آباد جائیں گے اور بیمار خاتون بیمار ہی رہے گی، پی آئی اے کے ایم ڈی کو اس حسنِ کارکردگی پر سمندر برد کردیناچاہئے، اب پی آئی اے امریکہ کی طرح کوئی بھی بہانہ بنائے اُس کا اعتبار نہیں کرناچاہئے،شاید پی آئی اے تب ٹھیک ہوگی جب ملک کا نظام بدلے گا، کوئی پوچھے کہ آخر غفلت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی انجانی قوت پی آئی اے کو گراﺅنڈ کرکے خود محو پرواز ہوناچاہتی ہے،بہرصورت جو بھی ہے،بہت بُرا ہوا ہے،اللہ کے مہمانوں اور بیمار خاتون کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ پی آئی اے کے فیل کرنے کیلئے کافی ہے، پی آئی اے اور حکمران ایک ہی بیماری کا شکار ہیں،اسلئے ان دونوں کو کسی ذہنی علاج کے شفا خانے میں داخل کرکے ان کا علاج التواءمیں رکھاجائے تاکہ یہ اپنی بیماری ہی کے دوران آسمانوں کی طرف بغیر طیارے کے پہنچ جائیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں