جمعۃ المبارک‘17 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘30 ؍ جولائی 2010ء

ـ 30 جولائی ، 2010
صدر آصف زرداری نے کہا ہے‘ تمام مکاتب فکر کے علماء اور مذہبی سکالرز کو چاہیے کہ جمہوری اقدار کو عقیدوں میں ہم آہنگی کیلئے ہتھیار بنائیں‘ ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کرنا جمہوریت کا حسن ہے۔
ہمارے ہاں دینی و مذہبی اختلافات کے باعث ہمارے دینی مدرسے مساجد اور مذہبی حضرات اغیار کی طرف سے دہشت گردی کیلئے مورد الزام ٹھہرائے جاتے ہیں۔ صدر صاحب نے بجا کہا ہے کہ اگر تمام مکاتب فکر کے علماء اور مذہبی سکالرز آپس میں ہم آہنگی پیدا کرلیں اور اس سلسلے میں جمہوری انداز اختیار کریں تو جہاں جمہوریت کو تقویت ملے گی‘ وہاں دینی حلقوں کی بدنامی بھی نہ ہو گی اور نہ انہیں کوئی دہشت گرد کہہ سکے گا۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ صدر صاحب کی توجہ رحمان ملک اور بابر صاحب سے کچھ دیر کیلئے ہٹ کر مذہبی طبقوں کی طرف بھی مبذول ہوئی۔
ویسے ہم صدر صاحب کے یہ گوش گزار کر دیں کہ نائن الیون کے بعد عوام بھی مذہبی ہو گئے ہیں۔ ایسا لٹریچر بھی فراہم ہونا چاہیے کہ تمام فرقے مسلمان ہیں‘ صرف فروعی مسائل میں کہیں کہیں اختلاف ہے۔ جو دین کیلئے حجت نہیں اور نہ ہی اس پر کفر و اسلام کا دارومدار ہے‘ اگر کوئی عظمت رسولؐ بیان کرتا ہے تو اس سے اللہ کی عظمت گھٹ نہیں جاتی ہے‘ بلکہ یہ نکتہ ابھرتا ہے کہ جس کا پیغمبرؐ اتنا عظیم ہے‘ وہ خود کتنا عظیم ہو گا۔
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نر سیدی تمام بولہبی ست
(خود کو بارگاہ مصطفیٰ ؐ تک پہنچائو کہ وہی سراپا دین ہیں‘ اگر ان تک نہ پہنچے تو باقی سب بولہبی ہے)
٭…٭…٭…٭
اسلام ایئرپورٹ پر حادثہ کے بعد تفریحی چینل آن کر دیئے گئے۔
یوں لگتا ہے کہ حادثات کو بہبود آبادی سمجھا جا رہا ہے‘ یہ حادثہ پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا حادثہ ہے‘ کم از کم دو دن تو سوگ منایا جاتا۔ تفریحی چینل کھولنا خوشی کی علامت ہے‘ کم از کم۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر دو روز کیلئے تو سوگ منایا جانا چاہیے تھا۔ پچھلے دنوں ایک آدمی فاسٹ فوڈ شاپ سے برگر لینے گیا تو اسکے شٹر بند تھے اور باہر ایک بیرا بتا رہا تھا کہ ساتھ کے دکان والوں کے ہاں فوتیدگی ہو گئی ہے‘ اسلئے اسکے سوگ میں آج یہ شاپ بند ہے مگر ہمارے ہاں اسلام آباد والوں نے خوب اسلام کو آباد کیا کہ انسانی اخلاقیات کا بھی ثبوت نہ دیا۔ ٹرینیں تو بند کردی گئیں‘ ظاہر ہے ہوائی سفر ہی ایک ذریعہ رہ گیا ہے‘ جو مسافروں کو ہوا میں تحلیل کر دیتا ہے۔ یہ تو اب تحقیقات سے ہی پتہ چلے گا کہ اصل وجہ کیا بنی؟ ایک سیٹھ سے کسی نے پوچھا کہ آپ اتنے امیر کبیر آدمی ہیں‘ ٹرین پر کیوں سفر کرتے ہیں‘ تو اس نے کہا‘ بھئی! ٹرین کا حادثہ ہو جائے تو There you are‘ اور اگر ہوائی جہاز کا حادثہ ہو جائے تو Where you are بہرحال پورے ملک میں اس عظیم سانحہ پر حکومت نے ایک روز کے سوگ کا اعلان کر دیا‘ اللہ اسے اسکی جزا دے اوراللہ حادثے کے شہداء کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔
٭…٭…٭…٭
سابق صدر مشرف نے کہا ہے‘ پاکستان میرا ملک ہے‘ واپس ضرور آئوں گا۔
یہ تو کوئی بھی نہیں کہتا کہ پاکستان مشرف کا ملک نہیں مگر اسکے باوجود آنہیں رہے‘ اس سے عوام میں شک پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ ان کا ملک ہے‘ بھی کہ نہیں؟ بہرحال پاکستان ان کا اپنا ملک ہے‘ وہ جم جم آئیں اور اپنی آل پاکستان دبئی لیگ کا شیرازہ اکٹھا کریں‘ انکے چند ایک طلبگار اب بھی یہاں موجود ہیں جو ایئرپورٹ پر انہیں پروٹوکول پیش کرینگے اور انہوں نے اپنے دور حکومت میں جو کارنامے کئے‘ وہ بیان کرکے انہیں سنائیں گے۔ کیونکہ اور تو کوئی سننے والا نہ ہو گا۔ آمر کبھی جمہوریت جنم نہیں دے سکتا‘ انہوں نے اپنے دور میں ایک بچہ جمورا حکومت کو جنم دیا‘ جس نے دس بار انہیں صدر منتخب کرنے اور وردی پہنانے کا نعرہ بلند کرکے اب سارا پنڈورا بکس بند کرکے رکھ لیا ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔ حکومت کیلئے وہ جو کچھ چھوڑ گئے ہیں‘ حکومت باامر مجبوری اس پر عمل پیرا ہے کیونکہ مشرف پالیسیاں وائٹ ہائوس سے آیا کرتی تھیں اور ڈالر بھی وہیں سے آتے تھے۔ وہ صدر نما آمر تھے‘ اس لئے امریکہ کو کافی اچھے لگتے تھے‘ اگر وہ امریکہ کو افغانستان میں داخل ہونے کیلئے تعاون نہ کرتے تو آج امریکہ پاکستان میں داخل نہ ہوتا۔ پاکستان مشرف کا اپنا وطن اور اسکی عدالتیں بھی اپنی ہیں‘ امید ہے کہ وہ سینہ تان کر کٹہرے میں کھڑے ہونگے۔
٭…٭…٭…٭
سرے محل فروخت کرنے کی تیاری ‘ ساڑھے گیارہ ملین قیمت طلب‘ محل میں موجود 30 فٹ شیشے کی بنی ڈائننگ ٹیبل اور باتھ روم کی فٹنگز کی مالیت تقریباً دو لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
اس دنیا میں ایک جنت شداد نے بھی بنائی تھی‘ جس میں اس نے اس وقت کے لحاظ سے دنیا کی ہر آسائش رکھی تھی‘ لیکن خدا نے اسے اس وقت دنیا سے اٹھا لیا‘ جب وہ گھوڑے پر بیٹھ کر اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا۔سنا ہے سرے محل بھی اس روئے زمین پر اپنے طرز کی ایک جنت ہے‘ وہ عالیشان کیا محل ہو گا جس کی ڈائننگ ٹیبل اور باتھ روم کی فٹنگز کی مالیت ہی تقریباً دو لاکھ ڈالر ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے جو اس ملک کی ’’خدمت‘‘ کی ‘ اسکے عوض ازخوداس زمین پر اپنی اپنی ’’جنتیں‘‘ بنا لیں کہ جب وطن عزیز میں لوٹنے کو کچھ باقی نہیں رہے گا تو جا کر ان جنتوںمیں آباد ہو جائینگے۔ لیکن خدا کا فیصلہ اٹل ہے‘ شداد کی طرح کئی ایسے بھی حکمران گزرے ہیں‘ جنہیں اپنی ان جنتوں میں رہنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اسی زمین پر ایک ’’پرویزی جنت‘‘ بھی ہے‘ جو امریکہ نے ’’لال مسجد اور جامعہ حفصہ‘‘ جیسی اسلامی درس گاہوں کیخلاف ہتھیار اٹھانے اور اپنے کلمہ گو مسلمان بھائیوں کو امریکہ کے حوالے کرنے پر پرویز مشرف کو عطا کی ہے۔ آجکل وہ اسی میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اقتدار میں آکر جن حکمرانوں نے امریکہ کی خوشنودی حاصل کی‘ وہ اسکی ’’جنت‘‘ کے مستحق ٹھہرے‘ لہٰذا انکے بارے میں یہ پیشگوئی کی جا سکتی ہے کہ یہ ’’جنتی‘‘ لوگ ہیں لیکن حیرت ہے کہ یہ جنتی شہزادے جب اپنے آقا کے حضور جاتے ہیں تو وہ برہنہ کرکے انکے مقامات آہ و فغاں کی تلاشی لیتاہے؟ بہرحال بات تو تب ہے جب محل کو فروخت کرکے اسکی رقم پاکستان کو دی جائے تاکہ ہم کہہ سکیں کہ…ع… ’’حق بحقدار رسید ‘‘
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter