ہفتہ ‘ 14 ؍ صفر المظفر1431ھ‘ 30 ؍ جنوری 2010ء

ـ 30 جنوری ، 2010
ایک خبر کے مطابق امریکی تربیت کاروں نے سملی ڈیم کے قریب منتقلی کا مطالبہ کردیا۔
بلیک واٹر المعروف کالاپانی کے بارے میں قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ امریکی بلیک واٹر پاکستان میں کس ارادے سے آیا ہے‘ یہ خبریں بھی زوروں پر تھیں کہ وہ اسلام آباد میں اپنے سفارت خانے کی توسیع کرکے منی پنٹاگون بنا رہا ہے‘ اس وقت ملک میں جو افراتفری پھیلی ہوئی ہے‘ اس میں سو فیصد بلیک واٹر کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اور بھارتی ہاتھ ملوث ہے‘ مگر ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔
اب وہ اپنی خفیہ تخریبی کارروائیوں کا آغاز سمبلی ڈیم کے قریب منتقل ہو کر کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے انہوں نے ہماری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں یہاں منتقل کردے تاکہ انہیں کوئی ڈسٹرب نہ کر سکے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان بلیکیوںکو امیگریشن اور کسٹم کے بغیر ہی داخل ہونے دیا جاتا ہے‘ جبکہ پاکستانی شہری امریکہ کے قاعدے قانون کے مطابق امریکہ جاتے ہیں‘ مگر انکے مقامات ’’ آہ و فغاں‘‘ کی تلاشی لی جاتی ہے۔
کم از کم ہماری وزارت داخلہ کو اپنے ان شہریوں کا بدلہ لیتے ہوئے آنے والے امریکیوں سے بھی اسی قسم کا سلوک کرنا چاہئے مگر کتھوں…!
امریکہ پاکستان کا ایسا ’’دوست‘‘ ہے جو اس وقت ہمارے ملک میں گھس بیٹھئے کا کردارادا کررہا ہے اور ہمارے ’’میمنوں‘‘ کو ڈرا دھمکا کر اپنی من مانی کررہا ہے۔نہ جانے وہ وقت کب آئیگا‘ جب یہ میمنے اس گھس بیٹھئے کو اپنے سینگھوں پر اٹھا کر باہر پھینکیں گے؟
٭…٭…٭…٭
اس وقت وطن عزیز جن سنگین بحرانوں‘ بیرونی خطرات اور اندرونی خلفشار سے دوچار ہے اس سے جان چھڑانے کا واحد یہی طریقہ ہے کہ خود کو امریکہ کے چرنوں سے اٹھا لیا جائے‘ اپنے وسائل کو زندہ کیا جائے‘ ان سے فائدہ اٹھایا جائے‘ اس وقت جس طرح کے فتنوں نے پاکستان کو آلیا ہے‘ وہ نئی نسل کو دین سے بدظن کرنے کیلئے کافی ہے۔
اسلام کے ہاں امن و آشتی سے اپنا دین پھیلانے کی جرأت موجود ہے۔ ہر شخص ایک مخصوص فریم ورک کو ہی فالو کرتا ہے‘ جبکہ اسلام دشمن عناصر اس کو بدنام کرنے کے درپے ہیں‘ پوری دنیا میں مسلمانوں کیخلاف دہشت گرد ہونے کا بھرپور پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کو دشمنوں کی چالوں کو سمجھتے ہوئے اپنے مہرے احتیاط سے چلانے چاہئیں‘ تاکہ شیطانی اتحاد ثلاثہ جو گیم ہمارے خلاف کھیل رہی ہے‘ اسے اسکے ناپاک ارادوں میں ناکام کیا جا سکے اور جب تک پاکستان دین سے وابستہ رہے گا‘ اس میں کوئی اندرونی یا بیرونی مفاد پرست شگاف نہیں ڈال سکے گا۔
مگر افسوس کہ اس وقت ہمارے تمام حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے سیاست دان تو امریکی مفاد کی جنگ میں دل و جان سے مصروف نظر آتے ہیں لیکن عالم دین بھی شاید دھتورا پی کر سو رہے ہیں‘ انہیں چاہئیں کہ وہ خود بھی بیدار ہوں اور قوم کو بھی بیدار کریں اور قرآن کی روشنی میں جہاد کی ترغیب دیں کیونکہ اس وقت اسلام کیخلاف جو قوتیں سرگرم ہیں‘ جہاد کے نام سے وہ بہت خوفزدہ ہیں‘ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ اگر مسلمان جہاد کیلئے بیدار ہو گیا تو انہیں دنیا میں کہیں سر چھپانے کو جگہ نہ ملے گی۔
٭…٭…٭…٭
خبر شائع ہوئی ہے کہ گناہوں کی معافی کیلئے آنجہانی پوپ جان پال دوم رات کو ننگا سوتے اور اپنے اوپر تشدد کرتے تھے۔
آنجہانی پوپ جان پال دوم اپنے گناہوں کی معافی کیلئے رات کے اندھیرے میں جو ’’چلّہ‘‘ کاٹا کرتے تھے‘ نہ جانے وہ کن کرتوتوں میں مبتلا تھے کہ انہیں انکی معافی کیلئے برہنہ ہو کر اس قسم کا چلہ کاٹنا پڑا۔ آج پوری دنیا میں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ امریکہ جو کر رہا ہے‘ اسے بھی اپنے گناہوں کی معافی کیلئے رات کے اندھیرے میں اسی طرح چلہ کاٹنا چاہئے کیونکہ اس وقت اس نے پوری دنیا میں جو افراتفری پھیلا رکھی ہے اس لئے اس کیلئے یہ عمل لازم ہو گیا ہے۔
ویسے تو امریکہ کو ننگا ہونے کی ضرورت نہیں‘ کیونکہ وہ تو پہلے ہی دنیا کے سامنے ننگا ہو چکا ہے۔ اس نے پوری دنیا بالخصوص مسلم دنیا میں جو اپنے ننگے پن کا مظاہرہ کیا ہے‘ اسے دیکھ کر تو ہر طرف اس پر تھو تھو ہو رہی ہے‘ اسکے باوجود وہ اس خیال سے نہیں نکل پاتا کہ دنیا بھر کے مسلمان اس سے محبت کا اظہار کیوں نہیں کرتے؟
آنجہانی پوپ جان پال دوم رات کا یہ خصوصی ’’چلّہ‘‘ صرف اس لئے کاٹتے تھے تاکہ عیسائیوں کے دلوں میں ان کیلئے محبت پیدا ہو سکے۔ واللہ اعلم ‘ عیسائیوں کے دلوں میں ان کا یہ چلہ محبت پیدا کر سکا کہ نہیں‘ البتہ وہ وقت کے بدمعاش امریکہ کو ایک معافی کا راستہ ضرور دکھا گئے ہیں۔
اگر امریکہ چاہتا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اس سے محبت کا اظہار کریں‘ تو اسے چاہئے کہ وہ پوپ جان پال کا ’’خصوصی چلّہ ‘‘ الٹا لٹک کر کاٹے‘ پھربڑی امید ہے کہ اس کا یہ چلّہ ضرور رنگ لائے گا بلکہ اسکے چیلے چانٹے بھی اس کی تقلید کرینگے کیونکہ مسلمانوں کی دل آزاری میں وہ بھی اسکے برابر کے شریک ہیں۔
٭…٭…٭…٭
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter