اسفندیار نے کہا ہے: میمو معاملے کی کھل کر تحقیقات ہونی چاہیے۔ سیاسی جماعتیں ٹرینوں کی طرح ہوتی ہیں‘ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں‘ الیکشن 2013ءمیں ہونگے۔
اسفندیار ولی بہت کم بیان سیاسی لیڈر ہیں‘ لیکن یہ اچانک ان کا میمو کی کھل کر تحقیقات کرانے کا مطالبہ اور سیاسی جماعتوں کو ٹرینوں کی طرح آنے جانے سے مشابہ قرار دینا اپنے اندر بہت سی اندرخانہ باتیں رکھتا ہے۔ انکے بیان میں سے ٹرینوں کی ناکامی کی طرح کئی کامیابیاں و ناکامیاں نکالی جا سکتی ہیں۔ میمو سے اتنی دلچسپی کہیں صاحبِ میمو سے بیزاری تو نہیں اور ٹرینوں کے حوالے سے سیاست کی بات سے لگتا ہے کہ ریلوے سے پورے خاندان نے استفادہ کیا ہے لیکن یہ کہنا پڑیگا کہ وہ بیک وقت کسی کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ استاد دامن کیا کہتے ہیں‘ ملاحظہ فرمائیں....
دامن پیئے شراب تے کرے سجدے
راضی رب اے‘ غصے شیطان وی نئیں
جماعتوں کا آنا جانا تو لگا ہوا ہے‘ ٹرینوں کا آنا جانا بند ہے‘ ہم فنڈز کی فراہمی کی فرو نہیں کھولنا چاہتے کہ کہیں داغ نہ لگ جائے‘ کہیں آگ نہ لگ جائے۔ انتخابات جب 2013ءمیں ہونے ہیں جس کی خبر اسفندیار ولی نے دی ہے تو یہ بات بھی محل نظر ہے کیونکہ وہ یقین دہانی جو دلا رہے ہیں۔
اب تو وہ اپنے بھائی غلام احمد بلور کو کہہ دیں کہ ریلوے گھر لے جائیں‘ انکے ہاں کافی رونق ہو جائیگی۔ اے این پی نے میمو کی کھل کر تحقیقات کے ذریعے پیپلز پارٹی سے بھی کچھ کھل یا بند ہو جانے کا تاثر دےدیا ہے۔
٭....٭....٭....٭
وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے: بینظیر بھٹو کے تمام قاتل مر چکے‘ اب کسے پکڑا جائے؟
وزیر دفاع شاید وزیر اخفاءہیں کہ قاتلوں کے زندہ ہوتے ہوئے بھی فرماتے ہیں کہ شہید بی بی کے تمام قاتل مر چکے‘ اب کسے پکڑیں۔ یہ اب وزیر دفاع کی مرضی ہے کہ وہ قاتلوں کو گرفتار کرتے ہیں یا نہیں؟ اب تو یہ کیس یوں لگتا ہے کہ بروز حشر داور محشر کے سامنے کھلے گا اور بی بی قاتلوں سے کہے گی‘ یو ٹو بروٹس! بینظیر بھٹو تو شہادت حاصل کرکے میدان کھلا چھوڑ گئیں اور میدان میں کھیل زوروں پر ہے‘ ہو نہ ہو قاتل انہی کھلاڑیوں ہی میں وہ کچھ کر رہے ہیں‘ جو بی بی کی زندگی میں ممکن نہ ہوتا بلکہ ہر کھلاڑی اپنی صحیح پوزیشن پر ہوتا۔ سب کچھ جانتے ہوئے حقائق کو چھپانا جرم ہے جو اکثر سرکاری کاغذات پر لکھا ہوتا ہے۔ وزیر دفاع بھی اس قانون کو پڑھ لیں۔ ممکن ہے وہ پھر اس کیس کے قاتلوں کے دفاع سے بھی فارغ ہو جائیں۔
احمد مختار کے بیانات میں دفاع تو ہوتا ہے‘ ملک کا نہیں معاملات کا۔ آخر انہوں نے یہ ہنر سیکھا کہاں سے؟ احمد مختار صاحب آپ کو بھی ”الہام“ ہوتے ہونگے لیکن نہ بھولیں....
تقدیر ہے پابند نباتات و جمادات
مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند
فصیح بخاری کی زیر صدارت اجلاس میں نیب کے سابق آئی جی و تحریک انصاف کے رہنما نوید ملک کیخلاف انکوائری کا فیصلہ ہو گیا۔
خدا وندا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ آئی جی نیب بھی عیار اور ”انصاف“ کا دامن بھی داغدار
نیب کی بنیاد کی اینٹ معمار نے کچھ اس طرح سے ٹیڑھی رکھی کہ ثریا تک دیوار بدستور ٹیڑھی جا رہی ہے‘ کہیئے اس پر کوئی چھت ٹکے گی؟ یہ تو پیپلز پارٹی نے ٹیکیں لگا لگا کر اس چھت کو چار سال چلالیا‘ مگر اب تو ٹیکیں اور دیواریں دونوں اس چھت کو مزید اٹھائے رکھنے سے معذور ہوتی جا رہی ہیں۔ فصیح بخاری بھی اگرچہ نیب ہی کے چیئرمین ہیں‘ تاہم یہ انکی منہ بولتی فصاحت ہے کہ نہ صرف سابق آئی جی نیب کو دھر لیا‘ بلکہ تحریک انصاف کی سونامی میں بھی ایک چھوٹا سا کارک لگا دیا کیونکہ سونامی میں سوراخ ہو گیا تھا مگر اس مرمت سے ظاہر تو ہو گیا کہ انصاف میں بھی ”ولی اللہ“ موجود ہیں‘ اسی لئے عمران خان کو اپنے سوراخ دار ارکان کے سوراخ بند کرنے کیلئے صمدبانڈ منگوا کر رکھ لینی چاہیے۔ ایک طرف انقلاب ہے‘ دوسری جانب سونامی‘ انقلاب اگرچہ پست قامت ہے لیکن اس کو صمد بانڈ کی ضرورت نہیں۔ خان صاحب آج سے عمران سونامی ہیں‘ اب تو ہر بات مستقبل کی نذر ہو گئی ہے اس لئے ہو سکے تو سونامی کی نظر اتار لینی چاہیے کہ یکدم نیچے نہ آرہے۔ نیب کو آخر نایاب کیوں نہیں کیا جا رہا؟ عدالتیں کام کر رہی ہیں‘ اسکی چنداں ضرورت نہیں۔
٭....٭....٭....٭
حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر اب بھی اتنی زندہ دل ہیں کہ سماعت کے دوران محفل کو زعفران زار بنا دیتی ہیں۔ مگر ان کا زعفران دو نمبر ہوتا ہے کیونکہ جو شعر انہوں نے حبیب جالب کے اپنے حوالے سے پڑھے‘ اس میں وہ خاوند اور خاوند بیوی ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً ....
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
وہ اگر قانونی نکات میں حسب ضرورت ملاوٹ کر سکتی ہےں تو اس مذکر مصرعے کو بھی مونث مصرع بنا دیتیں۔ عدالت نے ان سے کہا کہ وہ عدالت پر یقین رکھیں تو عاصمہ نے کہا‘ یقین تو خاوند پر بھی ہے لیکن میں انہیں اپنے حقوق نہیں دے سکتی۔ چلو یہ تو ٹھیک ہے کہ وہ حقوق نہیں دے سکتیں‘ فرائض تو دے سکتی ہیں کہ اس سے بھی انکار ہے؟ عاصمہ نہایت بذلہ سنج ذہین اور اچھی خاتون ہیں‘ اسی لئے تو اب بھی انکی نقرئی زلفوں میں شباب جھلکتا ہے۔ حسین حقانی کیسے میمو ایک قادیانی کے حوالے نہیں کر سکتے جبکہ وہ ایسے ہی پس منظر والی ایک خاتون کو اپنا کیس سپرد کر سکتے ہیں۔ یہ تو نہایت مردانہ کیس تھا‘ اس میں بھی ان پر ان کا ذوق غالب آگیا۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اب مستقبل کے حوالے ہو چکا ہے‘ دیکھتے ہیں میمو گیٹ کا کیا انجام ہوتا ہے؟
ونڈ ونڈا کے اساں کیہہ کھٹیا واہ قسمت دے کھیل
کنا لما پاگل خانہ کنی لمی جیل