پیر،19؍رمضان المبارک‘1431ھ‘30 ؍ اگست 2010ء

ـ 30 اگست ، 2010
گوجرہ میں ایک شخص نے ڈبہ پیر کے کہنے پر اپنے معذور بھائی کا دل مغز نکال کر قتل کر دیا۔
کوٹ لکھپت جیل میں انسانی ہاتھ کا قیدیوں کے کھانے سے برآمد ہونا، اپنی جگہ ایک شرمناک واقعہ تھا کہ اب یہ دوسرا جانکاہ سانحہ سامنے آ گیا کہ بھائی نے ڈبہ پیر کے کہنے پر اپنے معذور سگے بھائی کا مغز اور دل نکال کر اُسے قتل کر دیا۔ یوں لگتا ہے کہ یہاں ڈبہ پیروں کی حکومت ہے جو اس طرح کے شیطانی اور روح فرسا واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ یہاں تحقیقات بھی ہوتی ہیں، ملزم پکڑے بھی جاتے ہیں، مگر سزا نہیں ملتی اور اگر ملتی بھی ہے تو وہ عبرتناک نہیں ہوتی، بالخصوص پنجاب میں اور ملک کے دوسرے صوبوں میں کالے جادو کا دھندہ کرنے والے پیروں کا لبادہ اوڑھ کر مکروہ شیطانی دھندہ کر رہے ہیں۔ اس کے سدباب کے لئے تو وزیراعلیٰ پنجاب کو ایک خصوصی سیل قائم کر دینا چاہئے جو ان ڈبہ پیروں کے خلاف گرینڈ آپریشن کرے۔ اگر اس سلسلے میں کوتاہی کی گئی تو لوگ تعلیم حاصل کر کے بیروزگار رہنے کے بجائے کالا جادو سیکھ کر عوام کو نہ صرف لوٹیں گے بلکہ اُن کی جان و عزت سے بھی کھیلتے رہیں گے، ڈبہ پیری ایک خوفناک مافیا ہے، جس کو ختم کرنا چاہئے، میڈیا کو بھی چاہئے کہ وہ نجومیوں، ڈبہ پیروں اور جادوگروں کی حوصلہ شکنی کرے۔
٭٭٭٭٭
امریکی اقلیتی رہنما مچ مکونل نے کہا ہے: صدر اوباما مشکوک ہیں پھر بھی انہیں عیسائی سمجھتا ہوں۔
امریکہ میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد صدر اوباما کو مسلمان سمجھتی ہے، اگر صدر اوباما مسلمان امریکی بھی ہوں تو امریکہ کے لئے تو یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ ایک مسلمان کس مہارت کے ساتھ وہی کچھ کر رہا ہے جو عیسائی امریکی صدور کرتے چلے آ رہے ہیں، امریکیوں کی جو بڑھتی ہوئی تعداد اوباما پر مسلمان ہونے کا شک کرتی ہے اُس نے ثابت کر دیا ہے کہ عیسائی مسلمان اور غیر مسلمان میں کس قدر فرق روا رکھتے ہیں اور عیسائی ہونے کو کتنی فضیلت سمجھتے ہیں۔ اوباما کے خاندان کی جڑیں چونکہ اسلام میں نہیں، اس لئے کئی امریکی عیسائیوں کو اُن کا صدر ہونا بھی گوارا نہیں حالانکہ وہ انہی پالیسیوں کو چلا رہے ہیں جو بش کی تھیں، جو کلنٹن کی تھیں، بہرحال امریکیوں کا اوباما کو مسلمان سمجھنا یا شک کرنا، ایک اچھا شگون ہے، اور بعید نہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آ جائے کہ امریکہ کا صدر کوئی متقی مسلمان ہو اور ’’پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘‘ جیسی حالت برپا ہو جائے، اوباما نے ٹریڈ سنٹر کے قریب بننے والی اس مسجد کی بھی حمایت کر دی ہے، جو یہودی، مسلمان عیسائی مل جل کر تعمیر کر رہے ہیں، شاید اس طرح اُن پر مسلمان ہونے کے شک میں مزید اضافہ ہو، بہرصورت شکی امریکیوں کو اطمینان رہے، اوباما ماضی کی طرح ہی مسلم کشی کر رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭
امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا ہے متاثرین کے لئے ملنے والی امداد میں غبن ہو رہا ہے، جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن متاثرین کی بحالی تک ریلیف آپریشن جاری رکھیں گی۔
سیلاب اسی لئے تو آیا ہے کہ غبن ہو، اور بڑے پیٹوں والے اپنے اپنے پیٹ میں زیادہ سے زیادہ جہنم کی آگ بھر سکیں، بہرحال جماعت اسلامی بھی اس پل صراط پر احتیاط سے چلے کیونکہ پائوں پھسلتے دیر نہیں لگتی۔ امیر جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن نے جو مشن شروع کر رکھا ہے وہ ایک نہایت نیک مشن ہے، مگر یہ عجیب بات ہے کہ بیرونی دنیا کے لوگ اور حکومتیں امداد ہماری تنظیموں کے حوالے کر رہے ہیں اور نہ حکومت کے، اس لئے کہ ہمارے ہاں غبن عام ہے، ڈالر کو دیکھ کر تو اچھے اچھوں کی رال ٹپک جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اول تو باہر سے وعدے اور اعلان آ رہے ہیں اور اگر اونٹ کے منہ میں زیرے جتنی امداد آ رہی ہے تو وہ بھی دینے والے اپنی نگرانی میں متاثرین تک پہنچاتے ہیں۔ جس ملک کے وزیر قومی خزانے سے پیسہ نکال کر عمرہ کو جائز سمجھتے ہوں، وہاں متاثرین سیلاب کے لئے آنے والے ڈالر تو اس لئے بھی ہتھیا لئے جائیں کہ ہم نے ان سے حج کرنا ہے، منور حسن کے خدشات پر حکومت توجہ دے، اور ڈالروں کے بجائے وزیروں پر نظر رکھے، اور توفیق ملے تو خود اپنے اوپر بھی نگاہ رکھے۔
٭٭٭٭٭
حافظ سعید نے کہا ہے: حکمران کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر خاموش نہ بنیں، خاموش تماشائی نہ بنیں تو پھر کیا بنیں، حافظ صاحب خاموش تماشائی تو بڑے مہذب لوگ ہوتے ہیں چاہے یہ تماشا اُن کا اپنا ہی کیوں نہ ہو، 63 سال سے خاموش تماشائی بنے رہنا کوئی آسان کام ہے؟ حجاج کو اسلامی تاریخ میں ظالم کردار قرار دیا گیا ہے مگر اُس کو بھی جب ایک بڑھیا نے ہندوستان سے آواز دی تو وہ خاموش تماشائی نہیں بنا، اور کشتوں کے پشتے لگا دئیے، ہمارے حکمران تو کشمیر کا تماشا کرنے بھی نہیں جاتے اس لئے انہیں خاموش تماشائی کہنے کے بجائے روپوش تماشائی کہنا زیادہ مناسب ہو گا، پاکستان کو ڈبو کر لبھورام کشمیریوں کے خون کے چھینٹے اڑا کر ہمارے چہروں پر چھڑک رہا ہے اس لئے تو ہمارے حکمرانوں کے چہرے گلرنگ ہو گئے ہیں۔ کشمیر کو وہی فتح کرینگے جو 63 سالہ سسٹم کو فتح کر لیں گے، ہندو ڈھول ہے جب تھپڑ کھائے گا تو بجے گا، بلکہ ’’بھجے‘‘ گا، بھارت کو کلیسا اور کنیا سے پاسبان مل گئے ہیں، اس لئے وہ نامکمل ایجنڈے کو ڈنڈے کے زور سے منوا رہا ہے، اور ہم مان رہے ہیں، کیونکہ ہمیں مذاکرات پر بڑا مان ہے، اور بیچارے نہتے کشمیری اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں کہ
شاد باش اے دل کہ فردا برسرِ بازارِ عشق
وعدہ قتل است گرچہ وعدۂ دیدا ر نیست
اے دل خوش ہو جا کہ کل برسرِ بازار عشق
قتل کا وعدہ کیا گیا ہے، دیدار کا وعدہ نہیں کیا گیا
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter