تازہ ترین:

اتوار ‘7 ؍ رمضان المبارک1430 ھ‘ 30 ؍ اگست 2009ء

ـ 30 اگست ، 2009
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کیلئے یہ بڑی اعزاز کی بات ہے انہیں ایک رمضان بازار میں دیکھ کر ایک بزرگ خاتون کو یہ کہنا پڑا کہ:
Shabaz sharif is the best man of Pakistan.
گویا ایک بزرگ خاتون نے شہباز شریف کو بیسٹ مین کا خطاب برسر بازار عطا کر دیا۔ اب تو انہیں خودکو پاکستان کا بہترین آدمی ثابت کرنا ہو گا۔
یہ جو حکمرانی چل پھر کر کی جاتی ہے‘ اس میں بڑاہی فائدہ ہے‘ عوام الناس سے براہ راست دو بدو ملاقات ہو جاتی ہے اور عوام کے خیالات سے آگاہی بھی رہتی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی یہ خوبی بھی سب کے سامنے عیاں ہے کہ وہ موقع پر جزا اور سزا کی عدالت لگا دیتے ہیں۔ انکی اس طرز حکمرانی سے ملک کے باقی صوبوں کے عوام بہت متاثر ہیں‘ بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ اپنا شہباز ہمیں دے دو۔
چھوٹے میاں اس وقت پورے جوبن پر ہیں‘ انہوں نے عوام الناس کی کئی بڑی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی آٹے کی صورت میں ختم کر دی۔ لیکن میاں صاحب کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے ‘ عوام کو جو آٹا اس وقت سستے داموں مل رہا ہے‘ اس کی روٹی انہیں’’لگ‘‘ نہیں رہی‘ کیونکہ انکے دل میں یہ خوف موجود ہے کہ یہ سستے آٹے کی برکت صرف ماہ رمضان کی برکت کے ساتھ ہے۔ اس وقت وہ مٹھی میں پیسے لے جاتے ہیں اور تھیلا بھر کر آٹا لاتے ہیں‘ رمضان المبارک کے بعد تھیلا بھرکے پیسے لے جائیں گے اور مٹھی میں آٹا لائیں گے۔
٭…٭…٭…٭
بی بی سی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ’’میڈیائی بلونگڑے‘‘ کے آگے نئی گیند اچھال دی گئی ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہو‘ بھٹو کی پھانسی ہو یا کرگل کا معاملہ یہی جواب آتا ہے ’’مینوں کیہہ پتہ‘‘۔
آج کل پوری دنیا میں میڈیا اتنا فاسٹ ہو گیا ہے کہ کوئی خبر اس کی نظر سے بچ کر نہیں جاتی۔ لیکن ہمارے ہاں میڈیا فاسٹ تو ہے مگر اتنا آزاد نہیں کہ اسکے ہر کئے گئے سوال کا جواب دیا جا سکے۔
ہمارے حکمرانوں کے پاس ’’مینوں کیہہ پتہ‘‘ کا ایسا فارمولا ہے جسے وہ اپنی جان خلاصی کیلئے میڈیا کے سامنے اپلائی کرتے رہتے ہیں۔ یہ فارمولا پریس کانفرنس میں بھی لاگو رہتاہے۔ بی بی جی نے موقع غنیمت جانتے ہوئے ہمارے قائد کے تین رہنما اصولوں کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں جہاں ایمان‘ اتحاد‘ نظم و ضبط کے بورڈ آویزاں ہیں‘ وہاں پر انکی جگہ ’’مینوں کیہہ پتہ‘‘ لکھ دیں۔ جس پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ کسی طرح بھی اچھی کارکردگی کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔
٭…٭…٭…٭
اس وقت وطن عزیز جن سنگین بحرانوں‘ بیرونی خطرات اور اندرونی خلفشار سے دوچار ہے اس سے جان چھڑانے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ وہ امریکہ کے چرنوں سے اٹھ جائے‘ اپنے وسائل کو زندہ کرے‘ ان سے فائدہ اٹھائے‘ البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس وقت جس طرح کے فتنوں نے پاکستان کو آلیا ہے‘ وہ نئی نسل کو دین سے بدظن کرنے کیلئے کافی ہے۔
اسلام کے ہاں امن و آشتی سے اپنا دین پھیلانے کی جرأت موجود ہے۔ ہر شخص ایک مخصوص فریم ورک کو ہی فالو کرتا ہے‘ جبکہ اسلام دشمن عناصر اس کو بدنام کرنے کے درپے ہیں‘ پوری دنیا میں مسلمانوں کیخلاف دہشت گرد ہونے کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کو دشمنوں کی چالوں کو سمجھتے ہوئے اپنے مہرے احتیاط سے چلانے چاہئیں‘ تاکہ شیطانی اتحاد ثلاثہ جو گیم پاکستان کیخلاف کھیل رہی ہے‘ اسے اسکے ناپاک ارادوں میں ناکام کیا جا سکے اور جب تک پاکستان دین سے وابستہ رہے گا‘ اس میں کوئی شگاف نہیں ڈال سکے گا۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں ماہ رمضان میں دکاندار سموسہ چھ روپے کے ساتھ چٹنی چار روپے کی دینے لگے‘ لفافہ اور شاپنگ بیگ کا ایک روپیہ اضافی چارج کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی قوم ایک ذہین قوم ہے‘ اگر اس پر کوئی مصیبت آن پڑے‘ تو وہ اس کا کوئی نہ کوئی حل نکل ہی لیتی ہے۔ انتظامیہ کے خوف سے مہنگے سموسے فروخت کرنے والوں نے کارروائی سے بچنے کیلئے اپنا راستہ نکال ہی لیا‘ انہوں نے بینرز پر چھ روپے کا سموسہ لکھ کر فروخت دس سے چودہ روپے میں کر رہے ہیں۔ قسمت سے کسی دکان پر چھ روپے کا سموسہ مل بھی رہا ہے تو اسکے ساتھ باقی لوازمات کی قیمت وصول کی جا رہی ہے۔
قوم بھی کیا کرے‘ جب تک اسے سموسے‘ پکوڑے‘ دہی بھلے نہ ملیں‘ اسے روزہ کھولنے کا مزہ ہی نہیں آتا۔ ایک طرف مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے تو دوسری طرف لائنوں میں لگ کر مہنگے ترین سموسے خریدے جاتے ہیں۔
ہم عوام سے گزارش کریں گے کہ اگر سموسے‘ پکوڑے اور فروٹ چاٹ انکی دسترس میں نہیں رہے تو وہ گھر کی سادہ دال روٹی سے ہی روزہ افطار کرلیا کریں۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ان کا روزہ بند نہیں رہے گا‘ یقیناً کھل جائیگا۔ اس طرح وہ مہنگائی کی چکی میں پسنے سے کسی حد تک بچ جائیں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter