تازہ ترین:

منگل‘ 3 محرم الحرام 1433ھ‘29 نومبر 2011

ـ 29 نومبر ، 2011
مسلم لیگ (ن) کے پرویز رشید نے کہا ہے‘ سیاست میں سٹہ چلتا ہے‘ نہ باریوں کا تصور‘ عمران خان اپنی اننگز سے باہر نکلیں۔
جنة الحمقاءایک بڑی سرسبز و شاداب جگہ ہے جہاں ایک پرویز رشید نہیں‘ کئی ٹھنڈی چھاﺅں میں زندگی گزارتے اور میٹھے چشموں کا پانی پیتے ہیں۔ عمران خان نے کچھ کر دکھایا ہے‘ سٹیج پر بڑی بڑی معقول باتیں بھی کی ہیں‘ ان کا جواب دیں‘ ”جھیڑا“ مت لگائیں‘ طعنے مہنے نہ دیں‘ عمران جب سیاست میں آچکے ہیں اور اعصاب پر بھی سوار ہو گئے ہیں تو پھر ان کو کرکٹ کا طعنہ دینا کہ وہاں سٹہ بازی اور باریاں ہوتی ہیں‘ مگر سیاست میں نہیں۔ عمران صاحب بھی کہہ سکتے ہیں‘ پرویز صاحب کرسیاں گنتے ہیں‘ کیا سیاست میں یہ کام بھی ہوتا ہے؟
بہرصورت مسلم لیگ نون دوسری بڑی پارٹی ہے‘ پرویز رشید اپنی پارٹی کو پھیلائیں‘ بنائیں اور میثاق جمہوریت کو زندہ کریں۔ میاں صاحب کے حوصلے بڑھائیں اور شہباز کو محو پرواز کریں۔ ابھی بھی نون کی ساکھ اتنی بھاری ہے کہ قبلہ اتحاد کی طرف رخ کرلیں تو قبلہ الحاد ڈھے سکتا ہے۔ البتہ عمران خان کو بھی زیادہ نہ چھیڑا جائے‘ کیا پتہ سیاست کیا رخ اختیار کرلے اور بقول پرویز صاحب یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک کرکٹر کام کا سیاست دان ثابت ہو‘ ویسے بھی ضروری نہیں کہ کسی کے ماضی کو اسکے سیاست دان بننے میں رکاوٹ قرار دیا جائے اور بار بار اسے ایک کھلاڑی کا طعنہ دیا جائے۔ آخر وہ ہیرو کرکٹر اور ورلڈ کپ جیتنے والے سورما ہیں‘ کیوں ان کو بتکلف نِکو بنانے کی کوشش کی جائے۔ یہ باریاں‘ سٹہ بازی‘ ہارس ٹریڈنگ‘ لوٹا سازی‘ و لوٹا بازی تو سیاست کے بازار میں عام ہیں‘ پھر دوسروں کے شیشوں پر پتھر پھینکنے سے بہتر ہے کہ علیک سلیک قائم رکھی جائے۔
٭....٭....٭....٭
اختلافات کا شکار نرسیں متفق ہو گئیں‘ ہڑتال ختم کر دی‘ مطالبات پر غور کیلئے تشکیل دی جانیوالی ٹیکنیکل سب کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا۔
مطالبات منظور نہ ہوئے تو دسمبر کو آئی سی یو اور ایمرجنسی میں بھی کام بند کر دینگے۔ سردست وہ اپنی معمول کی ڈیوٹی پر آچکی ہیں۔
نرس پر ترس نہیں‘ انکے جائز مطالبات تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ نرس نہ ہو تو مریض بن ماں کے بچے ہوتے ہیں اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ یہ بڑا اچھا ہوا کہ نرسوں میں دھڑے بندی ختم ہو گئی اور وہ اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر ہو گئیں۔ کسی ہسپتال میں بے شمار ڈاکٹر ہوں مگر نرسیں نہ ہوں تو یوں لگتا ہے کہ ایک خوبصورت درخت پر سب کچھ ہے‘ بلبلیں نہیں جو اپنی شیریں چہکار سے ماحول پر ملہار طاری کر دیتی ہیں اور مریض یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں....
ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
مگر یہ شعر وہ اس وقت گنگناتے ہیں جب ڈاکٹر ہسپتال میں ہوتے ہوئے نہیں ہوتے اور کسی بغلی کمرے میں بولتی دیواروں کےساتھ گپ شپ میں مشغول ہوتے ہیں۔ نرسوں کےساتھ پولیس اور مال روڈ کے تاجروں نے جو سلوک کیا‘ اس پر دونوں طرف سے کوئی معذرت نہیں آئی حالانکہ تھپڑ مار کر تو امریکہ بھی معافی مانگ لیتا ہے۔
٭....٭....٭....٭
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق غریب پاکستانی چار ماہ میں سوا دس ارب کی چائے پی گئے۔
چائے کی بات ہو اور ابوالکلام کا ذکر نہ ہو تو چائے کی پتی پتی رو دیتی ہے۔ مولانا جب بھی چائے کا فنجان (پیالی) اپنے سامنے دھرتے تو اس سے یوں مخاطب ہوتے....ع
اے چائے چہ گوئمت چہ ہائی
(اے چائے! میں تجھے کس نام سے پکاروں اور کیسے بتلاﺅں کہ تو ہماری نظر میں کیا ہے؟) وفاقی ادارہ شماریات چائے کے ساتھ ایوانوں میں پی جانے والی انگور کی بیٹی کا بھی ڈیٹا جمع کرتا اور بتاتا کہ صرف چار ماہ میں کتنی اعلیٰ نسل کی دختر رز پی جاتی ہے اور اسکے نتیجے میں کیسی مست و مست پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں اور اس دیسی زہریلی شراب کا بھی حساب لگانا چاہیے کہ دختر تاک کی یہ سوتیلی بیٹی کتنی مقدار میں زندگی کی جڑوں میں بیٹھ جاتی ہے۔ چائے کا گذر ہر خاص و عام کے گھر سے ہوتا ہے اور محفل آرائی کا منظر برپا کردیتا ہے۔ غربت زدہ اور متوسط گھرانوں میں تو یہ تھوڑی دیر کیلئے غموں کے بھی گھونٹ پی جانے کا سبب بنتی ہے۔ جدید تحقیق یہ بھی کہتی ہے کہ یہ اینٹی سیپٹک ہوتی ہے اور انتڑیوں سے زہریلے مواد کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ البتہ یہ مثانے کو آبشار میں بدل دیتی ہے۔ مسلمانوں پر شراب حرام ہے‘ اس لئے وہ اسکی جگہ چائے کو پیمانوں‘ پیالیوں میں ڈال کر کام و دہن کیلئے لطف کا سامان پیدا کرتے ہیں اسی لئے اب ہم اس مصرعے کو مسلمان کرکے چائے کیلئے استعمال کرتے ہیں کہ....
چھٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی
٭....٭....٭....٭
مراکش کے دارالحکومت رباط میں مراکش کی کامیاب ہونیوالی پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے‘ حجاب عوام کا ذاتی معاملہ ہے‘ دخل اندازی نہیں کرینگے۔
مراکش ایک اسلامی ملک ہے اور ایک اسلامی کامیاب ہونےوالی پارٹی نے پورے اختیار کےساتھ شریعت مطہرہ کو ہاتھ میں لے کر یہ یقین دہانی کرائی کہ حجاب عوام کا ذاتی معاملہ ہے۔ خدا نہ کرے کہ کچھ دنوں بعد وہ یہ کہہ دے کہ نماز بھی عوام کا ذاتی معاملہ ہے۔ ہم کسی بے نماز پر انگلی تک نہیں اٹھا سکتے اور بالآخر وہ دین جس کے نفاذ کیلئے ہم نے دیں اذانیں‘ کبھی یورپ کے تپتے ہوئے صحراﺅں میں.... ہم سے رخصت مانگ لے۔
آج کے مراکش سیاست دان اور اسلام کے ہیچمدان یہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک میں حجاب پر پابندی نہیں تو ترک حجاب کی چھوٹ تو دے سکتے ہیں۔ اسلامی شعائر کسی مسلمان کا ذاتی معاملہ نہیں‘ اللہ کا معاملہ ہے اور اللہ کی حدوں کو پھلانگنا کوئی لڑکیوں کا رسہ ٹپنا نہیں۔ اس پر بڑی سخت وعید ہے۔ شاہ حسن کا خاندان جو حکمران ہے‘ سادات سے تعلق رکھتا ہے‘ اس خاندان کے ہوتے ہوئے دین متین سے کھیلنے کی اجازت اچنبھے کی بات ہے یا وہ بھی انورالسادات ہو گئے ہیں۔ مراکش سے پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں اور دونوں بھائی بھائی ہیں اس لئے بڑے بھائی کو یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ وہ اس انداز کو دور سے بھی قریب نہ آنے دیں‘ جو آج غیراسلامی دنیا نے مسلم امہ کے بارے میں اختیار کر رکھا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter