جمعتہ المبارک ‘ 13؍ صفر المظفر1431ھ‘ 29 ؍ جنوری 2010ء

ـ 29 جنوری ، 2010
ایک طرف موجودہ حکومت کو بچانے کیلئے صدر زرداری کو تحفظ دینے میں ن لیگ پھنسی ہوئی ہے، دوسری جانب تمام سیاسی پارٹیوں پر کپکپی طاری ہے کہ آنے والے دنوں میںعدلیہ کے اہم فیصلوں کے کیا نتائج نکلیں گے، یہ ملک اب دو ہی طرف جائے گا یا تو یہ گدھا گاڑی بن جائے گا اور زیادہ بوجھ کی وجہ سے گدھا فضا میں معلق ہو جائے گا یا یہاں امریکیا اپنی سستی اشیاء فروخت کرینگے اگر تیسری کوئی شکل بنتی ہے تو وہ عدلیہ کی جانب سے تطہیر کا ایسا عمل ہوگا کہ صرف لوٹے و مسواک والے رہ جائیں گے اور بے ایمان لوگ ہر شعبے سے رخصت ہو جائیں گے بلکہ کئی حضرات نے تو ابھی سے کاغذات بنوا کر رکھ لئے ہیں، پاکستان کا کیا بنے گا تو اس کی فکر نہیں کرنی چاہئے، اس نے جو بننا تھا وہ بن چکا ہے مزید کچھ تو اسے بھارت بھی نہیں بنانا چاہتا کیونکہ یہاں کے مسائل کا سب کو علم ہے، البتہ یہ ممکن ہے بھارت پانی وافر چھوڑ کر اپنی سبزیاں یہاں اگانا شروع کردے اور امن کی آشا مہم والے جھوم اٹھیں کہ لوجی ہم کامیاب ہوگئے، پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کا سیاستدان بہت امیر ہے، جونہی غریب لوگ سیاست میں آئیں گے اور اقتدار کی کرسی سنبھالیں گے، تو یہ ملک اور غریب ہو جائے گا اس لئے یہی ایک حل ہے کہ باری باری ہر غریب کو سیاست میں آنے دیاجائے، اس طرح ہی خالی پیمانے بھریں گے اور غربت ختم ہوگی اور اگر اصلی والا حل چاہئے تو وہ انقلاب ہے۔ جس کے آنے کے دور دور تک امکانات نظر نہیں آتے، لہٰذا یہ ملک یہی بے ڈھبیچال چلتا رہے گا جس طرح62 برس سے چل رہا ہے۔
٭…٭…٭…٭
میاں شہبازشریف نے کہا ہے:نوازشریف وزیراعظم بنے تو روٹی دو روپے کی ملے گی۔
روٹی دو روپے کی ملے گی باقی سب کچھ جوں کا توں رہے گا، خدا وزیراعلیٰ کی زبان مبارک کرے اگر وہ یہ بھی کہہ دیتے کہ کالا باغ ڈیم بنے گا، جہاد کشمیر ہوگا، پانی واگزار کرایا جائے گا، لوڈ شیڈنگ گیس کی ہو یا بجلی کی ختم ہو جائیگی، سیاسی قرائن بتاتے ہیں کہ اگلے وزیراعظم نوازشریف ہی ہوں گے، مگر این آر او نہ سہی ان کے سامنے اور بڑے مسائل ہوں گے، پہلا کام تو یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان کو امریکہ کے چنگل سے آزاد کرلینگے، ملک کو ایک خودمختار ریاست کی شکل دے دینگے جو اس وقت شارع عام بنا ہوا ہے، امریکیوں کی پاکستانی اڈوں پر ویسی ہی تلاشی کا حکم جاری کرسکیں گے جو آج امریکہ نے عائد کر رکھی ہے او رہمارے وزراء اپنا باطنی دیدار عالم کراکے امریکی اڈوں سے گزرتے ہیں، اس وقت ٹماٹر 70 روپے کلو مل رہے ہیں کیا وہ انہیں سستا کرلیں گے، اس وقت مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ہماری شوبز کی فنکارائیں بھی ارزانی کیلئے دبئی جاتی ہیں تاکہ اتنا پیسہ لے آئیں کہ ڈیفنس جیسی غریبوں کی بستی میں ایک آدھ کٹیا ہی خرید لیں، مسائل بہت زیادہ ہیں اور اگر موجودہ حکومت نے مدت پوری کرلی تو یہاں مسائل کا نقشہ ہی اور ہوگا۔ البتہ ایک بات بہت زبردست ہے کہ اللہ نے ان کو شہباز جیسا بھائی عطا کیا ہے، جو پرواز کرے گا تو سیدھا امریکہ جا اترے گا۔
٭…٭…٭…٭
غربت کے باعث غریب عورتیں اور جواں سال بچیاں طبقہ امراء کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہوتی ہیں، پاکستان میں چونکہ حق حلال رزق کے ذریعے کوئی امیر نہیں بن سکتا، اسلئے اکثر امیروں کے پاس بے تحاشا کالا دھن ہے، جو بہت بُرا رنگ لاتا ہے، اس وقت ایک بہت بڑی تعداد میں غریب خواتین امیروں کے گھروں میں کام کرتی ہیں، اور امیر لوگوں کی جواں سال اولاد ان کی عزت سے کھیل کر ان کی جان بھی لے لیتی ہے ایسے واقعات اب بکثرت ہونے لگے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے اور ہر امیر آدمی سے اس کی خادمہ کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کیلئے اسٹامپ لکھوالے، جس میں حلفیہ تحریر ہو کہ امیر آدمی غریب نوکرانیوں کی جان و مال اور عزت کو تحفظ دینے کا ذمہ دار ہوگا، اس اسٹامپ کی ایک کاپی ملازمہ کے پاس دوسری امیر آدمی کے پاس اور تیسری حکومت اپنے پاس رکھے اور کسی شازیہ کیس کے سلسلے میں مکمل تحقیقات کے بعد مجرموں کو برسرعام سزا دی جائے، ہمارے ہاں چونکہ سزا کسی کو نظر نہیں آتی اس لئے جرائم کا خوف ہی پیدا نہیں ہوتا، اگر قاتل کو چوراہے پر لٹکا دیا جائے تو قتل کا تناسب کافی کم ہو جائے گا۔ اسی طرح بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو بھی اعلانیہ سزا ملے تو آئندہ کوئی ایسا جرم نہیں کریگا ۔ یہاں مجرموں کے چہروں پر کپڑا ڈالنے کا مطلب جرم پر پردہ ڈالنا ہے، اسی لئے تو پولیس ان کو ڈھانپ کر لے جا رہی ہوتی ہے، اس وقت کتنی ہی شازیائیں عزتیں لٹوا کر قبروں میں پہنچ گئی ہیں، مگر ان کے مجرم آزاد دندنارہے ہیں، اگر سزا ملتی بھی ہے تو کسی بے گناہ کو۔
٭…٭…٭…٭
لاہور ہائیکورٹ بار کے اجلاس میں پی پی وکلاء کا ہنگامہ ہوا۔ صدر زرداری کے حق اور مخالفت میں نعرے لگائے گئے۔ وکیل برادری اب تک تو ایک رہی مگر این آر او کے خلاف فیصلے کے اثرات ان پر بھی پڑے، وکیلوں نے جو کام کرنا تھا وہ تو وہ کر چکے اب بھلے وہ آپس میں ہنگامہ آرائی کریں یا محفل آرائی۔ وکلاء نے جس مقصد کیلئے چیف جسٹس کا ساتھ دیا اور عدالت عظمیٰ کو آزادی سے ہمکنار کیا اب اگر وہ خود ہی اپنے اس عمل کو سبوتاژ کرینگے تو اس کا عوام پر بہت برا اثر پڑے گا اور خود وکیلوں کا جو امیج بنا ہے وہ بکھرکر رہ جائے گا، ایک بات ماننی پڑے گی کہ اگر اعلیٰ عہدے داران میں سے ایک بھی دیانتدار ہوتو وہ ہزاروں کے برابر ہے، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری تنہا حق کی خاطر چٹان بن کر کھڑے ہوگئے تو انہوں نے تھوڑے ہی عرصے میں کتنا کام کر دکھایا، ان کی خواہش ہے کہ حکومت جسقدر جلد ہو سکے این آر او کے خلاف فیصلے پر عملدرآمد کرائے، مگر حکومت ایسا کرتی ہے تو خود رخصت ہوتی ہے، اس لئے اس وقت ملک شدید مخمصے میں گرفتار ہے، مگر لگتا ہے کہ حق پھر حق ہے، اپنا رنگ تو دکھائے گا البتہ وکلاء کے درمیان اختلاف کا پیدا ہونا اچھا شگون نہیں۔ اس سے اور نہیں تو ملک میں افراتفری پیدا ہوسکتی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter