تازہ ترین:

جمعرات‘ 3 صفر 1433ھ‘29 دسمبر 2011

ـ 29 دسمبر ، 2011
پیپلز پارٹی کے رہنماءبابر اعوان نے کہا ہے‘ لوٹا پنڈی کا ہو یا ملتان کا‘ اس سے انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔
”لوٹا“ انقلاب تو نہیں لایا جا سکتا لیکن طہارت ضرور دلا سکتا ہے۔ ملتان کا لوٹا تو ویسے مدینة الاولیاءکے شہر کی نسبت سے محترم ہو سکتا ہے۔ اسی بنا پر جنرل ضیاءالحق کی کابینہ میں وزیر ہاﺅسنگ اینڈ تعمیرات رہنے والے یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کے وزیراعظم ہیں۔ شاہ محمود قریشی بھی وقت آنے پر گیلانی جیسا کوئی نہ کوئی ”چن“ تو چڑھائیں گے۔ پنڈی کی تاریخ کو باریک بینی سے دیکھنے کے باوجود نظر ”بابراعوان“ پہ جا رکی ہے۔ ”مرد مومن‘ مرد حق ضیاءالحق‘ ضیاءالحق“ کے نعرے لگانے اور بھٹو کے قتل پر مٹھائی تقسیم کرنیوالا کس طرح پیپلز پارٹی میں چلا گیا‘ بابر اعوان نے بیان دیکر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا۔ کل قتل پر مٹھائی تقسیم کرنیوالا شخص اسی مقتول کا وکیل بن کر آج کس منہ سے کہتا ہے کہ سپریم کورٹ میں بابر اعوان نہیں بلکہ بھٹو خود بولے گا۔ پیپلز پارٹی نے جس سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں‘ وہ لوٹا تو طہارت دینے کے قابل بھی نہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنماءعبدالقادر شاہین کے بیان پر جیالوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ دھماکہ ہونے پر بابر اعوان اور رحمان ملک بینظیر بھٹو کے ڈرائیور کو گاڑی بھگانے کیلئے تھپڑ مارتے رہے۔ شاعر نے ایسے ہی لوگوں کیلئے کہا تھا....
یہ دستور وفا صدیوں سے رائج ہے زمانے میں
صدائے قرب دی جن کو انہی کو دور دیکھا ہے
جیالے خود سوزی کریں یا احتجاج‘ انہیں موسمی بٹیروں کو پی پی کے آشیانے سے بھگانے کیلئے لائحہ عمل ترتیب دینا چاہیے۔ حادثاتی مشیروں‘ لیڈروں اور لوٹاکریسی کو پارٹی پرقابض نہیں ہونے دینا چاہیے۔
٭....٭....٭....٭
رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف تین دھڑوں میں تقسیم ہو جائیگی‘ عمران خان 12ویں کھلاڑی ہونگے۔
رانا صاحب نجومی کب سے بن گئے‘ ہمارے ہاں بنگالی بابے بہت ہیں‘ اگر آپکی یہ پیشین گوئی سچ ثابت ہو گئی تو انکی دکانداری تو بند ہو جائیگی۔ فیصل آباد کے گھنٹہ گھر میں آپ دکان کھولیں‘ وزارت سے زیادہ پیسے ملیں گے کیونکہ حکمرانوں کا مطمح نظر تو ”لُٹو اور پھٹو“ ہی ہوتا ہے۔ وہ عوام کی خدمت کیلئے کب آتے ہیں۔ خان صاحب بےشک بارہویں کھلاڑی بن جائیں‘ لیکن انہوں نے ہاشمی کو چھین کر جو ”گھاﺅ“ (ن) لیگ کو لگایا ہے‘ اسے انکی بارہ پشتیں یاد رکھیں گی۔ رانا صاحب! مگرمچھ کے آنسو رونے کی ضرورت نہیں‘ ابھی وقت ہے‘ روٹھوں کو منالیں اور (ن) لیگ کو رائیونڈ کی نہیں‘ قائداعظم کی پارٹی بنالیں‘ گردنوں میں غرور اور تکبر کے لگے سریوں کو نکال کر راہ راست پر آجائیں۔ شعر ذرا تصرف سے پیش ہے....
وقت ہے اہل ”(ن) لیگ“ اب بھی مداوا کرلو
ورنہ شیرازہ گل زیر و زبر ہوتا ہے
تحریک انصاف تو تین دھڑوں میں نہ جانے کب تقسیم ہو گی‘ لیکن مسلم لیگ تو 72 فرقوں کی طرح 72 ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے‘ نہ جانے کونسا ”ناجی“ ہو گا۔
٭....٭....٭....٭
میرے خون سے سورج چمکے گا‘ تو بچہ بچہ بولے گا‘ میں باغی ہوں‘ بلاول زرداری۔
صدر زرداری نے آصفہ کو عملی سیاست میں لانے کا اعلان کرکے آپ سے بغاوت کی بنیاد تو رکھ دی ہے‘ اب آپ باغی بنیں‘ یا چاغی‘ لیڈر تو نہیں بنیں گے کیونکہ آصف علی زرداری نے اپنے سسر ذوالفقار علی بھٹو کی پیروی کرتے ہوئے بیٹے کے بجائے بیٹی کو میدان میں لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بینظیر کے تینوں بچوں نے پہلی دفعہ ٹوئٹر برسی منائی ہے‘ آئندہ گڑھی خدابخش جانے کے بجائے ٹوئٹر پر دعا بھی کرلیا کرینگے۔ بلاول جی! بھٹو بننا بڑا مشکل ہے‘ آپ زرداری ہی رہیں‘ وہی آپکی اصل شناخت ہے۔ بھٹو کی بیٹی اور آپکی والدہ بینظیر تو چلتی گولیوں میں پاکستان آگئی تھیں‘ وہ بھی الطاف حسین بن سکتی تھیں‘ لیکن اس کا ایک ہی نعرہ تھا‘ جو رات قبر کے اندر ہے‘ وہ باہر نہیں آسکتی‘ چاہے لندن بیٹھوں‘ یا پاکستان۔ بلاول کو ٹوئٹر برسی کے بجائے گڑھی خدابخش ہی آکر اعلان کرنا چاہیے تھا....
میرے چارہ گر کو نوید ہو
صف دشمناں کو خبر کرو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر
وہ حساب آج چکا دیا
زرداری صاحب نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے تینوں بچوں کو الیکشن کیلئے رکھا ہو گا‘ یہ وہ تاش کے پتے ہیں جنہیں وہ آخری حربے کے طور پر استعمال کرینگے۔ اگر یہ تینوں ناہید خان اور صفدر عباسی کے دروازے پر آگئے تو یقیناً انہیں خالی ہاتھ لوٹانا ایسے ہی مشکل ہو گا‘ جیسے جاوید ہاشمی کیلئے عمران خان اور میاں اظہر کیلئے اپنے بیٹے حماد اظہر کیلئے تھا۔
٭....٭....٭....٭
بلوچستان حکومت محکمہ تعلیم میں ہونیوالی 50 کروڑ روپے کی کرپشن چھپانے کیلئے متحرک۔
بلوچستان کے جاگیردار اور سردار وزیراعلیٰ کب چاہیں گے کہ غریب کے بچے پڑھ کر علم حاصل کرکے ان سے اپنا حق مانگیں‘ اگر بلوچ بچوں کے ہاتھ میں قلم نہیں تھمائیں گے پھر کلاشنکوف تو وہ خود ہی اٹھائیں گے۔ خراب حالات کے باعث سکولز کی عمارتیں خستہ حال ہو چکی ہیں‘ فرنیچر اور سائنسی آلات کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ 50 کروڑ کی کرپشن چھپانے کیلئے وزیراعلیٰ نے انکوائری اپنی ہی انسپکشن ٹیم کے سپرد کر دی ہے‘ ”واہ رئیسانی واہ! تیریاں کوئی ریساں نئیں“ یہ کام انسپکشن ٹیم کے ذمہ لگانے کے بجائے ذرا اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرتے تو بہت کچھ سامنے آجانا تھا۔ ٹیم نے اگر ”مجاں مجاں دیاں بہناں“ بن کر تحقیق کی پھر تو 50 کروڑ ہضم کرنے میں چور اچکے کامیاب ہو جائینگے۔ لیکن ”کتا کتے کا ویری ہوتا ہے“ اگر اس کہاوت پر عمل کیا تو خزانے کے وارے نیارے ہو جائینگے اور بلوچی بچے پہاڑوں پر بیٹھنے کے بجائے کمروں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرینگے۔
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
ہر ایک لٹیرے کے در و بام جلا دو
غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں
اقبال کا یہ کہنا لٹیروں کو سنا دو
رئیسانی صاحب! کرپشن کرپشن ہوتی ہے‘ چاہے ایک روپے کی ہو یا 50 کروڑ کی‘ لہٰذا اداکاری کے ماحول سے نکل کر سنجیدگی سے اس پر ایکشن لیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter