وفاقی وزیر ریلوے سرکاری خرچ پر عمرہ پر چلے گئے‘ 9 لاکھ خرچ ہونگے۔
یہ کوئی سرکاری خزانہ ہے یا کوچۂ صنم ہے
نکلتے آتے ہیں پیسے اس سے
بلوری پشوری نے پہلے ریلوے سے ثواب کمایا‘ اب سرکاری خرچ پر عمرہ سے ثواب کمانے چلے گئے‘ آخر اتنا ثواب کیا ان کو عذاب سے بچالے گا؟ ہمیں تو وزیراعظم کے اس بیان کے فوت ہو جانے کا افسوس ہے جس میں انہوں نے سرکاری خرچ پر کہیں بھی جانے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اگر یہ نو لاکھ روپے خزانے سے نکالنے کے بجائے غلام احمد بلور اپنی جیب خاص سے نو لاکھ سیلاب زدگان فنڈ میں جمع کرا دیتے تو عمرہ سے بھی زیادہ ثواب ملتا۔ کیا ریلوے کا بھٹہ بٹھانے کے بعد وہ عمرہ کفارہ ادا کرنے جا رہے ہیں؟
قرآن میں ایک آیت کریمہ ہے‘ ’’مکروا و مکراللہ واللہ خیرالماکرین‘‘ بلوری پشوری خوش باش رہیں مگر اس آیت کو بھی ترجمے والے قرآن میں پڑھ لیں۔ سرکاری خرچ پر عمرہ یا حج کرنا تو شرعاً کبھی جائز نہیں‘ یہ تو محض اپنی حق حلال کی کمائی سے کیا جا سکتا ہے اور اگر اپنے پاس حق حلال کی کمائی نہ ہو تو کیا ضرور سرکاری کشکول میں سے پیسے نکالنے ہیں؟ بہتر ہوتا کہ وزیر موصوف سیلاب زدہ ملک سے عمرہ پر جانے سے پہلے کسی عالم دین یا مولانا فضل الرحمٰن سے ہی پوچھ لیتے کہ ایسے حالات میں سرکاری خزانے سے نو لاکھ نکلوا کر عمرہ کرنا جائز بھی ہے؟؟
٭…٭…٭…٭
پائلٹ ایسوسی ایشن ’’پالیا‘‘ کی جانب سے گوسلو کا سلسلہ جاری ہونے کی وجہ سے پی آئی اے کا شیڈول کافی متاثر ہو رہا ہے‘ جس سے پی آئی اے کو کروڑوں کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے بلکہ مسافروں کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پہلے بلوری پشوری نے ریلوے کا کریاکرم کیا‘ اب پی آئی اے کی تباہی کا پروگرام شروع ہو چکا ہے۔ گوسلو پالیسی اگر اسی طرح پی آئی اے کے پائلٹس کی طرف سے جاری رہی تو روزانہ کروڑوں کا نقصان اس ادارے کو بھی پھانگ کر دیگا جو کہ کسی طرح بھی ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ یہ اچھا نہیں کہ فریقین قومی ادارے کو تباہ نہ کریں‘ منتظم صاحب کروڑوں کا نقصان برداشت کرنے اور مسافروں کو خوار کرنے کے بجائے پائلٹس کے مطالبات ہی مان لیں اور پائلٹ بھی کچھ رعایت کر دیں۔ قومی اداروں کو اس طرح تباہ نہ کیا جائے‘ یہ تو قوم کو معاشی اور سفری لحاظ سے پیدل کرنے والی بات ہے۔
خدا کرے کہ پائلٹس کی ایسوسی ایشن ’’پالیا‘‘ جلد کہہ اٹھے کہ پالیا اور پی آئی اے بربادی سے بچ جائے۔ کیا پی آئی اے کے منتظم یہ نہیں سمجھتے کہ اس معاملے کو طول دینے سے نقصان اور مسافروں کی خجل خواری بڑھتی جائیگی؟ کیا پی آئی اے نے بھی وہ دھتورا پی لیا ہے جو سود و زیاں کے احساس سے آزاد کر دیتا ہے؟
کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے کھانے سے انسانی ہاتھ برآمد ہوا‘ انکوائری افسر ڈی آئی جی نے دھمکیاں دیکر من پسند تحریر پر دستخط لے لئے۔
ابھی تو قیدیوں کو شکر کرنا چاہیے کہ انکے سامنے کھانے کیلئے انسانِ مسلم نہیں رکھ دیا گیا‘ بلکہ اس کا پکا ہوا ایک ہاتھ ہی سامنے آیا ہے۔ انکوائری افسر کو قیدیوں کو ڈرا دھمکا کر من پسند بیان پر دستخط کرنے کے بجائے اس دیگ کو چیک کرنا چاہیے کہ کہیں اس میں کوئی قیدی تو ڈال کر نہیں پکا دیا گیا‘ اسکے سری پائے کہاں ہیں؟
ہمارے ہاں ایسے ایسے شرمناک واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ کم از کم اس واقعے پر وزیر جیل خانہ جات کو مستعد ہو جانا چاہیے کہ وہ وزیر جیل خانہ جات ہیں اور من پسند تحریر پر قیدیوں کے دستخط لینے والے ڈی آئی جی جیل خانہ کو گھر بھیج دینا چاہیے یا قیدیوں کے ساتھ ہی بند کر دینا چاہیے تاکہ اسے بھی جیل کے کھانے میں انسانی اعضا کی لذت کا پتہ چلے۔ ہمارے ایسے غیرانسانی واقعات جب باہر کی دنیا دیکھے گی تو وہ ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہو گی کہ ہم اس حد تک بھی گر سکتے ہیں۔
انسانی گوشت ہم غیبت اور چغل خوری کے انداز میں تو ہر روز ہی مزے لے لے کر کھاتے ہیں‘ مگر یہ توقع نہ تھی کہ ہم باقاعدہ ایک دوسرے کا گوشت پکا کر بھی کھائیں گے۔ خدا جانے اس جانکاہ واقعے کی حقیقی رپورٹ سامنے آئے نہ آئے لیکن ہم پر اور کچھ آنیوالا ضرور ہے جو ہمارے ناطقے بند کر دیگا اور مشکیں کس دیگا۔ قرآن کریم کی اس آیت پر توجہ دینی چاہیے‘ ان بطش ربک لشدید‘‘ (بے شک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے)
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ صہبا مشرف پاکستان پہنچ گئیں اور وہ مشرف کی وطن واپسی تک پاکستان میں قیام کرینگی۔
’’صہبائ‘‘ تو پہنچ گئی ہے‘ رند بھی پہنچ ہی جائیگا‘ مگر شاید اب ایسی کوئی زندہ دلی کی محفل آراستہ نہ ہو‘ البتہ ایک نحیف سی آواز آئے کہ…؎
گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
جس شخص کا ہراول دستہ خاتون ہو گی‘ اسکی فوج بھی زنانہ ہو گی‘ جس کو ڈاکٹر بٹیر افگن کمانڈ کرینگے۔ یہ ایک اچھی خبر ہے کہ بیگم صہباء مشرف کے بعد مشرف بھی پاکستان پہنچنے والے ہیں۔ اس لئے کہ ان کو کوفیوں کے بڑے خطوط مل چکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سید باشدہ ہونے کے ناطے وہ یزید سے حکومت چھین لیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ آنے پر کوئی کوفی اپنا کواڑ بھی ان کیلئے نہ کھولے‘ انہوں نے اپنے دور میں لال مسجد میں جو کربلا قائم کی‘ ابھی تو اس کا ماتم بھی باقی ہے۔ بس انکے آنے کی دیر ہے‘ پھر دیکھیں کہ کون ان کیلئے فرات سے مشکیزہ بھر کر لاتا ہے۔ بہرصورت وہ سابق صدر اور آرمی چیف ہیں‘ آخر ان میں اتنا اعتماد تو ہے کہ وہ آیا ہی چاہتے ہیں۔