تازہ ترین:

بدھ‘ 8 ؍ذیقعد1430 ھ‘ 28 ؍ اکتوبر 2009ء

ـ 28 اکتوبر ، 2009
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی کا انحصار وزیرستان آپریشن پر ہے‘ جبکہ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ خط لکھنے سے آپریشن کامیاب ہو گا نہ محسودوں کے دل جیتے جا سکیں گے۔
یہ تو بڑی اچھی بات ہو گی کہ وزیرستان آپریشن کامیاب ہو جائے مگر آثار بتاتے ہیں کہ یہ آپریشن شیطان کی آنت کی طرح لمبا تو ہو سکتا ہے‘ لیکن کامیاب نہیں ہو سکتا اور کیا اس کو کامیابی کہیں گے کہ وزیرستان میں سانس لینے والوں کا گلا گھونٹ کر مار دیا جائے۔ کون بتا سکتا ہے کہ ہلاک شدگان طالبان ہیں یا علاقے کے باشندے؟
امیر جماعت اسلامی نے شاید جلد بازی میں یہ کہہ دیا ہے کہ خط لکھنے سے آپریشن کامیاب ہو گا نہ محسودوں کے دل جیتے جا سکیں گے کیونکہ یہ معاملہ مذاکرات و مراسلات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ وزیرستان کو بذریعہ طاقت خالی نہیں کرایا جا سکتا‘ یہ کہنا بجا ہے کہ آپریشن قبائلی نہیں‘ مٹھی بھر شدت پسندوں کیخلاف کیا جا رہا ہے۔ طاقت کے زور سے ہم پاکستان کے ان محافظوں سے محروم ہو جائیں گے‘ جن کے بارے میں بابائے قوم نے فرمایا تھا کہ قبائلی پاکستان کے محافظ ہیں۔ اور انہوں نے قبائلی علاقوں سے فوج واپس بلالی تھی۔
اس وقت پاکستان پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہوئی ہیں کہ یہ نادان قوم کس اجلت میں آکر اسی شاخ کو کاٹ رہی ہے‘ جس پر بیٹھی ہے۔ پاکستان کی بہتری اس طرح نہ ہو گی کہ باتوں کی دیگیں چڑھا دی جائیں اور دعائے خیر کرکے فارغ ہوا جائے۔ چند پہاڑیوں پر قبضہ کر لینے سے علاقے میں حالات جوں کے توں ہیں‘ آرمی چیف اور دونوں بڑی پارٹیوں کو ایسی حکمت عملی اپنانی چاہئے کہ کم از کم پاکستان کی حد تک امریکی عمل دخل ختم کیا جائے۔ امریکہ کی جنگ لڑ کر پاکستان کو کیا ملا؟ یہ کوئی تعلق نہیں ہے کہ امریکہ پاکستان کو اپنے لئے شاہراہ عام بنا دے اور ہم ان کی چیرہ دستیوں کو بجا سمجھیں۔
٭…٭…٭…٭
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ کیری لوگر بل کی شرائط کو کوئی بھی خودمختار ملک تسلیم نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ موجودہ معاہدے فوجی حکومت کا تسلسل محسوس ہوتے ہیں۔
کیری گوبر بل کی بو پورے خطے میں پھیلی ہوئی ہے۔ سرتاج عزیز معیشت کے ماہر ہیں‘ اس لئے انکی باتوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ نے اسی بل میں ایسی شرائط رکھی ہیں کہ جن کو دودھ میں ملاوٹ کے مترادف سمجھا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہ بات اب نوشتہ دیوار بن چکی ہے کہ پاکستان کی جڑوں میں امریکہ بیٹھ گیا ہے اور پاکستان کو اس نے اپنا غلام بے دام بنا لیا ہے۔ مدد تو اسکو کہتے ہیں کہ جیسے ترکی اور مصر کو دی گئی ہے‘ یہاں تک کہ انکی ترقی یقینی ہو گئی اور آج وہ دنیا کی صفوں میں برابر برابر کھڑے ہیں۔ ایک ایسا بل ہے کہ جسے نہ کھایا جا سکے اور نہ اگلا جا سکے۔ پاکستان کو اب پھاٹک بند کرکے اپنے ہاں وسائل پر انحصار کرنا ہو گا۔
٭…٭…٭…٭
سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکہ ایران کیخلاف کارروائی میں ملوث ہے۔
اسلم بیگ کی باتیں سن کر کوئی بھی ہم وطن رنج و غم کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جنرل صاحب نے بجا طور پر کہا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی سنڈی ایران کے سبزہ زاروں پر حملہ آور ہو چکی ہے‘ امریکہ اس وقت جو کھیل کھیل رہا ہے‘ اسکی کئی جہتیں ہیں۔ وہ بیک وقت ایران‘ پاکستان اور افغانستان کو اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے۔ ایران اور پاکستان دونوں جگرِ امریکہ میں کانٹے کی مثل ہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ افغان طالبان ایک قوت ہیں اور امریکہ شکست کھا چکا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ طالبان سے سیاسی روابط قائم کریں‘ پاکستان میں جو شدت پسند سرگرم عمل ہیں‘ ان کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان‘ افغانستان اور ایران کی کامیابی امریکہ سے نجات میں ہے۔
٭…٭…٭…٭
شاہراہ میں باجا ٹھیک نہ بجانے پر باراتی نے بینڈ ماسٹر کو قتل کر دیا۔
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مشہور موسیقار امانت علی خان اپنے بیٹے کے ساتھ ریکارڈنگ کیلئے گئے‘ وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک فنکار غلط ستار بجا رہا ہے‘ بیٹے نے کہا‘ ابو یہ کیا بجا رہا ہے؟ امانت علی خان نے جواب دیا بیٹا یہ سات بجا رہا ہے) پھر ہماری باری آئیگی۔ بہرحال یہ بات انتہائی قابل افسوس ہے کہ ایک بینڈ ماسٹر کو بے خطا گولی مار دی گئی ہے۔
کیا زمانہ آگیا ہے کہ دہشت گردی‘ بدعنوانی اور طرح طرح کی دیگر بیماریاں عام ہو گئی ہیں۔ چاہئے تو یہ کہ اس شخص کو ایران کے طرز پر پھانسی دی جائے تاکہ آئندہ کوئی خوشیاں بانٹنے والا فنکار گولی کا شکار نہ بنے۔ ویسے ہمارے اکثر باراتی کچھ زیادہ ہی اوور ہو جاتے ہیں۔ شوخی میں آکر ایسی کئی غلط حرکات کر جاتے ہیں جن کا مزہ وہ اور انکے لواحقین بعد میں چکھتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
ایک امریکی وفد نے پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ توانائی کے بحران کے خاتمے کیلئے بجلی پر سبسڈی ختم کرے۔
خدا جانے امریکی کیوں جوق در جوق ٹڈی دل کی طرح پاکستان کی سرزمین پر آتے جاتے ہیں‘ اس سے بڑھ کر زیادتی کیا ہو گی کہ ہمارے ہی صحن میں ہمیں ہی میائوں میائوں کرتے ہیں۔ یعنی امریکہ کی پاکستانی عوام سے ہمدردی کا یہ عالم ہے کہ اسے سستی چیزیں فراہم نہ ہوں اور پاکستان بہرصورت اپنے عوام کا گلا گھونٹ کر قرضے چکائے۔ پاکستان کو قرضے دیئے ہی اس لئے جاتے ہیں تاکہ وہ کبھی اپنے پائوں پر نہ کھڑا ہو سکے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter