حسین حقانی نے ان دنوں ٹویٹر نامی ویب سائٹ پر باقاعدہ شعر و شعری جاری رکھی ہوئی ہے۔
وہ بے ضمیری کی ناکام پریکٹس کے بعد شعر و شاعری عام کرنے کی کامیاب کوشش کر رہے ہیں‘ یہ انہوں نے اچھا کام پکڑا ہے‘ اس طرح جہاں شعر و سخن کی آبیاری ہو گی‘ وہاں انکے اس دردِ دل کا مداوا بھی ہوتا رہے گا جس کا انہوں نے بظاہر انکار کیا ہے لیکن دل ِ پُرغم تو آخر اپنا آپ نہیں چھپاتا‘ جیسے کسی نے کہا ہے....ع
درد اٹھ اٹھ کے بتاتا ہے ٹھکانہ دل کا
ٹویٹر پر انہوں نے ایک شعر یہ بھی پیش کیا ہے....
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار چلے
ہم ان کو داد دیتے ہیں کہ بعینہ اس شعر کے مطابق وہ سفارت کے بغیر جو راتیں گزار اور جتنے اشک بہا رہے ہیں‘ واقعتاً ان سے انکے ممدوح کی راتیں خوشگوار ہو گئی ہونگی۔ وہ چاہیں تو خود کو یہ شعر سنا سکتے ہیں....
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
شعیب بن عزیز ہمیں اس لئے بھی عزیز ہیں کہ انہوں نے یہ شعر کہہ کر کتنے حقانیوں کا حق ادا کر دیا ہے۔ یہ وہ ضرب المثل شعر ہے جسے کہیں بھی کسی پر بھی فٹ کیا جا سکتا ہے۔ حقانی صاحب نے کہا ہے کہ وہ یہ شعر و شاعری اس لئے دہراتے رہتے ہیں کہ پاکستان کی سفارت کاری تو منڈے نہ چڑھ سکی۔ کم از کم شاعری کو تو ترویج ملے۔
٭....٭....٭....٭
امریکی سفیر منٹر کا محافظ جوتوں سمیت سنہری مسجد میں داخل مذہبی و سیاسی حلقوں کا احتجاج‘ امریکی سفیر کے دورے کے دوران منع کرنے کے باوجود سیکورٹی اہلکار نے مسجد کی بے حرمتی کی۔
امریکی سفیر کیمرون منٹر‘ کیمرون ہنٹر نہ بنیں اور اپنے سیکورٹی اہلکار کو آداب مسجد سکھا دیں‘ وگرنہ یہاں ادب تادیب سکھانے والوں کی کمی نہیں۔ اگرچہ منٹر نے معافی مانگ لی ہے لیکن بے حرمتی کے بعد۔ یہ ایک انداز ہے امریکہ اور اسکے شکاری کتوں کا کہ وہ پہلے زیادتی کرتے ہیں‘ بعد میں معافی مانگ لیتے ہیں۔ اب یہ انداز ہم بھی اختیار کرینگے اور بعد میں معافی بھی نہیں مانگیں گے۔ امریکی اہلکار جس درجے کے بھی ہوں‘ ان کا پاکستان کے بارے میں تاثر درست نہیں۔ اب امریکی سفیر یوں تو نہ کرے کہ بھوک میں خربوزے کھا گیا اور جو بچ رہے ان پر پیشاب کر دیا۔ کچھ دیر بعد پھر بھوک لگی تو پیشاب آلودہ خربوزے یہ کہہ کر کہ اس پر تو نہیں کیا تھا‘ سارے کے سارے کھا گیا۔ امریکہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسے پاکستان اور بالعموم مسلمانوں کے تمام شعائر اور سرزمینوں کا کوئی احترام نہیں۔ مسلم امہ کی نفرت میں یہ اضافہ امریکہ کو آخرکار بہت مہنگا پڑیگا۔ کیسی شرم کی بات ہے کہ امریکہ اپنے ہوائی اڈوں پر ہمارے جوتے‘ جرابیں اتروا لیتا ہے اور خود ہماری مساجد میں داخل ہوتے وقت جوتے نہیں اتارتا‘ اب اس کا جواب جوتا ہے‘ جو اتر تو چکا ہے‘ بس پڑنے کی دیر ہے۔
ہمارے حکمران چونکہ واقف آدابِ غلامی ہیں اس لئے پابجولاں بھی رقصاں ہیں لیکن پاکستان کے غیور عوام اب مزید امریکی دیدہ دلیریاں برداشت نہیں کرینگے۔ اسکا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی مورکھ سنہری مسجد میں جوتوں سمیت گھس گیا۔ کاش! کوئی اس گندے انڈے کو اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیتا۔
٭....٭....٭....٭
آزاد کشمیر کے صدر سردار یعقوب کہتے ہیں‘ بھارت کو پسندیدہ قرار دینے سے مسئلہ کشمیر پر فرق نہیں پڑیگا۔
اگر آزاد کشمیر کے تمام لیڈران اپنے نام سے سردار ہٹا لیں تو ممکن ہے وہ سرداروں کی سی باتوں کے بجائے فرزانوں جیسی باتیں کرنے لگیں اور وہ یہ ہرگز نہ کہیں کہ زخموں پر نمک چھڑکنے سے زخم ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ بھارت کو واقعی پسندیدہ ملک قرار دینے سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائیگا‘ ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں سردار یعقوب صاحب مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر کے نکاح کو تو مسئلہ کشمیر کا حل نہیں سمجھتے؟ وگرنہ ان کو کیا پڑی تھی کہ وہ ایسا بیان دیتے کہ انکی شان ہی گھٹ جائے۔ ہندو نیتا بھی کیسے بھنگڑے ڈالتے ہونگے کہ پہلے حکومت پاکستان نے ناپسندیدہ کارروائیوں کے باوجود بھارت کو پسندیدہ قرار دےدیا اور اب اسکے بعد آزاد کشمیر کے صدر نے بھی پسندیدہ قرار دے دیا کیونکہ کنٹرول لائن سے وہ وقفے وقفے سے ”ریوڑیاں“ جو پھینکتے ہیں‘ جنہیں کھا کر سردار صاحب بچ جاتے ہیں اور بے چارے بے گناہ کشمیری مر جاتے ہیں۔ ویسے یعقوب اگر اپنا اسم گرامی رکھ دیں ”یاگوف!“ تو پھر یہ ان کا بیان انکے مطابق ہو جائیگا‘ ورنہ یہ لگا نہیں کھائے گا۔ ویسے سردار صاحب نرگس کا مشہور گیت ”وے گجرا وے“ ضرور بار بار سنیں شاید انکی حسِ کثیف میں کچھ افاقہ یا اضافہ ہو۔ اگر آزاد کشمیر ہی سے ”غاصب“ کو پسندیدہ قرار دینے کی آواز اٹھے گی تو مسئلہ کشمیر کے گنگا میں حل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
٭....٭....٭....٭
”لاجواب سروس“ پی آئی اے چارٹر پرواز میں فضائی میزبان بھیجنا بھول گئی۔
لاجواب سروس‘ فضائی میزبان کو چارٹر طیارے کے ساتھ روانہ کرنا بھول گئی اب تو اسے ”لاجواب نروِس“ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ ریلوے کے منظر سے غائب ہونے کے بعد اب پی آئی اے بھی اسکے نقشِ پا پر چل نکلی ہے تو یہ ایک ”مبارک“ بات ہے اور جس جہاز میں ایئرہوسٹس نہیں ہوگی‘ اسکے مسافر کہتے ہونگے....
ترے بغیر سفر اتنا ناگوار گزرا ہے
کہ لمحہ لمحہ بہت سوگوار گزرا ہے
پی آئی اے کا حافظہ اتنا تیز ہو جائیگا کہ میزبان تک کو جہاز کے ساتھ بھیجنا بھول جائیگا‘ اس کا اندازہ تو میزبان کے حافظہ ٹیسٹ کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ کہیں میزبان کے ساتھ یہ نہ ہوا ہوکہ....ع
بھول گئی سب کچھ یاد نہیں اب کچھ
بس اک ترا نام جوزف نہیں بھولی
پاکستان ایئر لائنز کی بالآخر لائنز ہی رہ جائیں گی اور مسافر لکیر ہی پیٹتے رہ جائیں گے۔ ایم ڈی پی آئی اے کو ”شاباش“ ہے‘ دو باتوں پر ایک تو میزبان نہ بھیجنے پر‘ دوسرے کسی کا ان کےخلاف کوئی ایکشن نہ لینے پر۔ اب تو اور بھی ایئر لائنز آرہی ہیں‘ اس لئے ان کیلئے رن وے کو پی آئی سے خالی کرانا بھی ضروری ہے۔