پی پی 34 سرگودھا کے آزاد امیدوار اعجاز کاہلوں ضمنی انتخابات جیت گئے‘ جبکہ پی پی کے حمایت یافتہ امیدوار کو شکست کا سامنا۔ گورنر پنجاب نے جیتنے والے امیدوار کو مٹھائی بھیجی۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کیلئے یہ انتہائی لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ انکی حکومت ہوتے ہوئے انکی پارٹی کے امیدواروں کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا‘ حالانکہ فیاض صاحب کو تو اپنی پیپلز پارٹی کی طرف سے بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں پارٹیوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پیپلز پارٹی جب سے اقتدار میں آئی ہے‘ اس نے قوم کو ریلیف دینے کے دعوے تو بہت کئے‘ لیکن عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کے سوا اس نے کچھ نہیں کیا۔ ظاہر ہے جب اسے نون لیگ جیسی فرینڈلی اپوزیشن میسر ہوگی پھر دعوے ہی ہونگے‘ کام کس نے کرنا ہے؟ ایسے میں انتخابات میں اپنے امیدواروں کی جیت کی امید رکھنا‘ چہ معنی دارد؟
جہاں تک گورنر پنجاب کا جیتنے والے امیدوار کو مٹھائی بھیجنے کا تعلق ہے ‘ اس پر ہمیں تھوڑی سی حیرت ہوئی ہے‘ انہوں نے یہ مٹھائی جمہوریت میں اپنی تاثیر بڑھانے کیلئے بھیجی ہے یا پیپلز پارٹی کے امیدوار کے ہارنے کی خوشی میں۔ ویسے مٹھائی بھیجنے سے پہلے انہیں اپنے وزیراعظم اور صدر صاحب سے مشورہ کرلینا چاہیے تھا۔ گورنر صاحب جس میکدے میں بیٹھے ہیں‘ ان سے کچھ بعید نہیں۔
٭…٭…٭…٭
جب سے ہم نے امریکی جنگ کو اپنی جنگ میں تبدیل کیا ہے‘ ہمارے ملک میں ہر طرف تباہی ہی تباہی نظر آتی ہے‘ صبح کو گھر سے نکلنے والا یہ امید نہیں رکھتا کہ شام کو وہ صحیح سلامت گھر لوٹ پائے گا یا نہیں۔ یہ امریکی ’’دوستی ‘‘ کا ثمر ہی تو ہے جسے ہم اپنے معصوم شہریوں کو اپنی ہی فوج کے ہاتھوں اور امریکی ڈرون حملوں کے ذریعے قتل کر رہے ہیں۔ خودکش بمبار ‘ خودکش حملے یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ ایسا کرنے سے انہیں جنت ملے گی۔ انکی نظر میں یہ انتقامی حملے نہیں‘ بلکہ ’’بہشتی حملے ‘‘ ہیں۔ یہ امریکہ کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج جنت کا حصول اتنا آسان ہو گیا ہے۔
٭…٭…٭…٭
خیبر پی کے کی کم و بیش دو ہزار نرسوں نے اپنی حفاظت کیلئے حکومت سے اسلحہ مانگ لیا۔
یہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ ملک میں امن و امان کے حوالے سے اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ مسیحائی کرنے والی صنف نازک بھی اسلحہ اپنے پاس رکھیں گی۔ وہ تو شکر ہے کہ ڈاکٹر حضرات نے اسلحہ کا مطالبہ نہیں کردیا‘ ورنہ خیبر پی کے کا ہر ڈاکٹر اور نرس سیکورٹی گارڈ نظر آتا اور مریض ہسپتال کو سیکورٹی ایجنسی سمجھ کر وہاں کا رخ ہی نہ کرتے۔
نرسوں کا حکومت سے اسلحہ مانگنا‘ ہسپتالوں کیلئے فراہم کردہ حکومت کی سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے‘ نرسوں کو ہسپتال کی سیکورٹی پر بالکل اعتماد نہیں رہا‘ جس کی وجہ سے وہ ہسپتال میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔
ویسے پشاور کے مریضوں کیلئے یہ ایک خوفناک صورتحال ہو گئی ہے‘ ظاہر ہے جب وارڈ میں نرس کسی مریض کے پاس اسکی مرہم پٹی کیلئے جائیگی ‘ مریض خوف سے نڈھال جائیگا کہ کہیں اسکے نازک ہاتھوں سے یہ اسلحہ نہ چل جائے۔ خیبر پی کے کی حکومت کو نرسوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دینے کے بجائے‘ ہسپتال کی سیکورٹی کو مضبوط کرنا چاہیے تاکہ وہ مریضوں کی تیمارداری میں بے خوف و خطر دلچسپی لیں۔
٭…٭…٭…٭
نیویارک کی ایک یونیورسٹی نے بلی کے سائز کا چوہا پکڑا ہے‘ چوہا سبزی خور ہے۔
یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے‘ ہمارے ریلوے سٹیشنوں کے ویٹنگ رومز میں کچھ دیر بیٹھنے کا اتفاق ہو تو اس سائز کے چوہے ادھر ادھر دوڑتے عام نظر آئیں گے‘ بعض چوہے تو بلی سے بھی بڑے نظر آتے ہیں‘ جنہیں دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارا ریلوے کا محکمہ دن بدن خسارے کی طرف کیوں جا رہا ہے؟ کیونکہ ریلوے کی ساری کمائی تو وہاں کے ’’چوہے‘‘ ہڑپ کر جاتے ہیں۔ جس طرح ریلوے کو کتر کتر کر کھایا جا رہا ہے‘ وفاقی وزیر ریلوے کو چاہئے کہ ان چوہوں کیخلاف بھی ایک آدھ اپریشن کر ڈالیں‘ جہاں ملک میں اتنے اپریشن ہو رہے ہیں‘ ایک اپریشن اور سہی۔
٭…٭…٭…٭
تجاوزات کرنیوالوں نے شاید لاہور کا مطلب ’’لا… ہور‘‘ لیا ہوا ہے‘ اسی لئے تو وہ لاہور کا کشادہ دل دیکھتے ہوئے اس میں تجاوزات کرتے چلے جا رہے ہیں۔ لاہور شہر میں تجاوزات اکثر چلتی پھرتی ہیں اور اسی شوق آوارگی میں وہ اپنا کاروبار بھی کرلیتی ہیں۔ فٹ پاتھوں کا یہ حال ہے کہ وہ ہر چند کہیں کہ ہیں ‘ نہیں ہیں۔ مارکیٹوں میں چلے جائیں‘ کوئی ریڑھی بان‘ کوئی سبزی فروش یا کھوکھے کا مالک کسی ترتیب میں نظر نہیں آئیگا۔ خریداری کرنیوالے اگر اپنی سواری ’موٹر سائیکل‘ گاڑی‘ مارکیٹ کے اندر لے جائیں تو شام تک ان کا باہر نکلنا محال ہو جاتا ہے۔
شہر کا کوئی بھی شعبہ لے لیں‘ تجاوزات ہی تجاوزات دکھائی دیں گی‘ جیسے آجکل پولیس ناکوں نے تجاوز کیا ہوا ہے‘ سڑکیں سکڑتی جارہی ہیں گاڑیاں بڑھتی جا رہی ہیں‘ اگر ریڑھی والوں ہی کو ہٹا دیا جائے تو ان کو متبادل روز گار کون دیگا؟ یہ تو حکومت کا کام ہے کہ جہاں سے تجاوزات ہٹائے‘ ان کو مناسب روزگار بھی دے۔ ہمارے ہاں صرف تجاوزات نے ہی ترقی کی ہے‘ یعنی ناکوں میں ترقی‘ کاکوں میں ترقی‘ دھماکوں میں ترقی‘ کرپشن میں ترقی‘ ہم تو بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ…؎
بولو جی تم کیا کیا ہٹائو گے؟