جمعرات ‘ 12؍ صفر المظفر1431ھ‘ 28 ؍ جنوری 2010ء

ـ 28 جنوری ، 2010
اے این پی اور مسلم لیگ (ن) میں سرحد کا نیا نام اباسین پختونخوا رکھنے پر اتفاق ہو گیا۔
صوبہ ایک ہے‘ نام دو رکھنے پر اتفاق ہوا ہے‘ اس سے بہتر یہ نہ تھا کہ تین نام رکھے جاتے‘ بجائے اسکے کہ صوبہ سرحد ترقی کرتا‘ نام کی ترقی ہو رہی ہے اور نام بھی ایسا طویل رکھا گیا ہے کہ کہتے ہوئے زبان میں لکنت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسفندیار ولی خان اپنے دادا باچا خان کی خواہش پوری کرنے کیلئے نام بدل رہے ہیں جو پاکستان کے وجود کیخلاف تھے اور مسلم لیگ (ن) اس کا ساتھ دے رہی ہے۔
لفظ پاکستان میں سے حرف ’’س‘‘ کو اگر نکال دیا جائے تو باقی ’’پاکتان‘‘ رہ جاتا ہے۔ ایک صوبے کا نام بدل کر پاکستان کے نام کو بدلنا کیا مسلم لیگ (ن) کو بھی گوارا ہے؟ جو یہ جانتی ہے کہ بابائے قوم نے پاکستان کے نام کو پسند کیا تھا۔
پاکستان کا لفظ چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اباسین پختونخوا سے یہ کس کی نمائندگی کریگا۔ سرحد کا لفظ پاکستان کا حصہ بنے ہوئے 61 برس ہو چکے ہیں اور ہر پاکستانی کی زبان پر جاری ہے۔ سرحد کا نام اباسین پختونخوا رکھنا پاکستان کے نام میں تحریف ہے۔ کم از کم مسلم لیگ (ن) سے یہ توقع نہ تھی کہ وہ نئے نام پر اتفاق کریگی اور پاکستان کے نام پر سیاست بازی کریگی۔
اے این پی ایک سیکولر سیاسی جماعت ہے اور وہ پاکستان میں سے لفظ ’’س‘‘ کو نکال کر اپنا لچ تل رہی ہے۔ جس میں وہ جماعت بھی شامل ہو گئی ہے جو نظریہ پاکستان کی دعویدار ہے۔ پاکستان کا حصہ سرحد ہے‘ اباسین پختونخوا نہیں‘ اس لئے اس نئے نام کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک طرح سے لفظ پاکستان کو توڑنے کی کوشش اور بابائے قوم کی جگہ باچا خان کی خواہش کی تکمیل ہے۔
٭…٭…٭…٭
شمالی وزیرستان میں قبائلیوں نے ایک اور ڈرون طیارہ مار گرایا۔
اب تو امریکہ کو سمجھ آجانی چاہئے کہ یک نہ شد دو شد‘ جو کام ہماری فوج نہ کر سکی‘ وہ قبائلیوں نے کر ڈالا۔ قبائلیوں نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ اس طرح امریکہ سے الجھ جائیں گے مگر ہم الجھنے سے ڈر گئے اور جو ڈر گئے‘ وہ مر گئے۔ اب تو چاہئے کہ پاک فوج وزیرستان میں اپریشن ترک کردے کہ آخر غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
ہماری جانب سے صرف بیان آتے ہیں کہ ڈرون طیاروں کو گرانا امریکہ سے الجھنا ہے اور اس سے وہ ڈرتے ہیں۔ مگر شاباش ہے قبائلیوں کو کہ انہوں نے سپرپاور سے الجھنے کو درخور اعتنا ہی نہ سمجھا۔ جن پاکستانی قبائلیوں کی حفاظت پاک فوج کو کرنی چاہئے تھی‘ وہ اپنی مدد آپ پر اتر آئے ہیں۔ اب امریکہ سوچ لے کہ وہ اپنی نام نہاد جنگ سے کیا نتائج حاصل کر سکتا ہے اور پاکستان کو اس سے ماسوا امریکہ کی خوشنودی کے کیا مل سکتا ہے؟کچھ عرصہ پہلے کہا جاتا رہا کہ ہم ڈرون نہیں گرا سکتے‘ ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہی نہیں‘ پھر کہا گیا کہ ہم گرا سکتے ہیں‘ مگر امریکہ سے ڈر لگتا ہے۔ لیکن قبائلیوں نے دوسرا ڈرون گرا کر پاکستان کی لاج رکھ لی۔
٭…٭…٭…٭
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شہباز شریف سے استدعا کی ہے کہ مشکل گھڑی میں پی پی پر دبائو نہ ڈالا جائے جبکہ مسلم لیگی قیادت نے کہا ہے کہ موجودہ نظام کو عدم استحکام سے دوچار نہیں کیا جائیگا۔
ایک بھائی تھپکیاں دے رہا ہے‘ دوسرا بھائی تھپڑ ما رہا ہے اور پی پی ہاتھ جوڑے استدعا کر رہی ہے کہ جانے دیں‘ ہماری حکومت کو رہنے دیں۔ شہباز شریف موجودہ صورتحال سے بقول گیلانی سیاسی فائدہ اٹھا رہے ہیں اور میاں نوا شریف بظاہر یہ کہہ رہے ہیں کہ تسلی رکھیں‘ موجودہ نظام کو عدم استحکام سے دوچار نہیں کرینگے۔ این آر او پر جس قدر جلدی عملدرآمد ہو گا‘ اتنی ہی جلدی موجودہ حکومت کی رخصتی قریب آتی جائیگی۔ جس میں ڈھول باجے کی جگہ افراتفری کے نقارے بجیں گے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے‘ پیپلز پارٹی کی گردن کسی جا رہی ہے۔ استدعا تو امریکہ سے کی جانی چاہئے کہ وہ اب پاکستان سے بوریا بستر باندھ کر رخصت ہو مگر وہ تو سب کی آنکھ کا تارا ہے۔ بھلا اسے کیوں رخصت ہونے کو کہا جائے؟ گیلانی صاحب اس وقت زرداری صاحب کی زبان بول رہے ہیں کیونکہ انکی مسلم لیگ (ن) سے علیک سلیک ہے‘ حقیقت تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو کسی کے دبائو کی پرواہ نہیں اور وہ خود یہ چاہتی ہے کہ این آر او کیخلاف اسکے فیصلے پر جلد از جلد عملدرآمد ہو۔
٭…٭…٭…٭
پاکستان نے کہا ہے کہ اگر کنٹرول لائن پر اسی طرح بھارت کی جانب سے فائرنگ جاری رہی تو بھرپور جواب دیا جائیگا۔
پاکستان نے صرف اتنا کیا ہے کہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج کیا ہے جبکہ اسکی نوبت تو آنی ہی نہیں چاہئے تھی‘ جہاں تک بھارتی توپوں کو خاموش کرانے کا معاملہ ہے تو وہ ناکافی ہے۔ اگر بھارت ایسی کارروائیوں کا آغاز کر سکتا ہے تو پاکستان کو ایسی توفیق کیوں نہیں ہوتی۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے امریکہ پاکستان کو کہہ رہا ہے کہ وہ مشرقی سرحدوں سے فوجیں ہٹا لے تاکہ بھارت جو آج کنٹرول لائن پر چھیڑ خوانی کر رہا ہے‘ اسے پورا موقع دیا جائے کہ وہ پاکستان پر حملے کر دے۔
بھارت نے کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے‘ وہاں ظلم و ستم ڈھا رہا ہے اور پانی روک رہا ہے‘ ایسے میں تو پاکستان کو جرأت کرنی چاہئے تاکہ بھارت کو معلوم ہو کہ ڈیفالٹر کون ہے اور کس کو آغاز کرنا چاہئے۔ نورجہاں کی قبر سے آواز آرہی ہے‘ میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیا رکھاں۔ بھارت نے پانی کا مسئلہ بھی اسی لئے چھیڑا ہے کہ یہ پاکستانی ٹس سے مس کیوں نہیں ہوتے بلکہ امن کی آشا کر رہے ہیں۔ بھارت اس وقت پاکستان کو جہاد پر اکسا رہا ہے‘ مگر ہم کشمیر اور اسکے بعد پانی گنوا کر بھی خاموش ہیں جن قبائلیوں نے ڈرون گرائے ہیں‘ انہیں آج جہاد کشمیر کیلئے کہیں تو وہ اس پر چڑھ دوڑیں گے مگر ہم انہیں ضائع کر رہے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter