پیر ‘ 24 ؍ ربیع الا ول 1432 ھ28؍ فروری ‘ 2011ء
ـ 27 فروری ، 2011
رحمن ملک نے کہا ہے مسلم لیگ ن کے فیصلے سے بینظیر شہید کی روح ضرور تڑپی ہوگی نادان ملک ایک بار دانا ملک بن چکے ہیں، اب اُن کی باتوں میں کوئی بات ہوتی ہے اور اُن کی بات کی کوئی ذات بھی ہوتی ہے، بہر حال اچھی ذات کی باتیں کرنے لگے ہیں،اُنہوں نے کتنی دور کی یعنی عالم ارواح کی بات کی ہے کہ مسلم لیگ ن کے فیصلے سے اس لئے بھی محترمہ شہیدہ کی روح تڑپی ہوگی کہ ہسپتال میں انہیں سب سے پہلے میاں نواز شریف ہی دیکھنے گئے تھے ،تو اُن کی روح کا تڑپنا تو فطری ہے اور رحمان ملک عالم بالا کی خبر لانے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں، ملک صاحب باقی اچھی باتوں میں سے ایک بات لائق تحسین ہے کہ صحافیوں کو کسی این او سی کی ضرورت نہیں ، مگر صحافیوں کو راحت بے عزتی پروگرام کے بعد اور قومی غیرت کے حوالے سے بھارت جانے کی ضرورت ہی نہیں،البتہ امن آشا والے ایک آدھ ٹوٹروکی ہم بات نہیں کرتے کیونکہ شیوسینا تو امن آشا کی قائل ہی نہیں اسلئے آشا پر ستوں کی مرمت وقت کی ضرورت ہے،مسلم لیگ ن نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بھی شہید بی بی کی یاد میں ہی کیا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے اکثر فیصلوں سے بھی محترمہ عالم ارواح میں ہر روز تڑپتی ہوں گی، اگر بابر اعوان تڑپتے ہیں تو کہاجاسکتا ہے…؎
وہ جو تڑپے تو ہم یہ سمجھے یارو..... یہ تڑپنا اُسی خانہ خراب کا سا ہے
٭…٭…٭…٭…٭
منظور وٹو نے کہا ہے: حکومت مسئلہ کشمیر ایٹمی صلاحیت اور چین سے دوستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
وٹو صاحب آپ وزارت میں آگئے ہیں تو مان لیتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر ایٹمی صلاحیت اور چین سے دوستی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوگا، کیونکہ اکثر سمجھوتے تو پہلے ہی ہوچکے ہیں، کشمیر پر بھارت کے حسب خواہش مذاکرات تک ہی رہنا ہے، چین سے دوستی ہے مگر اُس کا اظہار امریکہ کی غلامی کی صورت میں سامنے ہے اور ایٹمی صلاحیت پر تو آپ وزارت میں آنے سے پہلے بھی کہہ سکتے تھے کہ اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے کیونکہ ایٹمی صلاحیت ہماری جری افواج کے ہاتھوں میں اس طرح محفوظ ہے جیسے سیپ میں موتی اور یہ سیپ قلزم شجاعت کی تہہ میں محفوظ ہے گویا آپ کے پاس سمجھوتے ہی سمجھوتے رہ گئے جو ہوچکے ہوئے ہیں بلکہ آپ کو وزیر سمجھوتہ جات بھی کہنے میں حرج نہیں۔اگر کشمیر پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے تو اُس کا ثبوت پیش کیجئے ہماری مراد خشک دریائوں میں پانی کا رواں ہونا ہے اور جہاد کشمیر کا چلتا کارواں ہونا ہے، منظور وٹو کو اس مرتبہ پیپلز پارٹی کی وزارت مبارک ہو، ہم نے اُن کے تلونِ مزاج کی خاطر اُن کیلئے کتنی ہی مبارکبادیں سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں، پھر ملیں گے اگلی مبارکباد پر اُس وقت تک ایک چھوٹا سا بریک۔
٭…٭…٭…٭…٭
طالبان نے کہا ہے ریمنڈ کو رہا کیا تو پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو چُن چُن کر قتل کردینگے۔
بھلا پیپلز پارٹی کیوں ریمنڈ کو رہا کریگی، رہا کرانیوالے رہا کرائیں گے، ہمیں بے حد افسوس کہ پیپلز پارٹی نے نکی جئی جنڈڑی کو کتنے روگ لگالئے ہیں،اب یہ طالبان کی دھمکی توعین الیقین ہوتی ہے، پارٹی اس درد کا کیا مداوا کرے، طالبان جو کہتے ہیں کرکے دکھا دیتے ہیں اس لئے اللہ کرے کہ عدالت ریمنڈ ڈیوس کو تین قتلوں کے عوض سزائے موت دیدے اور اُس کے استثناء کو بھی دو نمبر قرار دیدے، پشتو زبان میں طالبان بنیادی طورپر دینی مدرسوں کے طلبہ کو کہتے ہیں، مجھے اچھی طرح یاد ہے میری والدہ میرے والد کو کبھی کبھی واطالبا! کہہ کر بھی پکارتی تھیں، یہ دینی مدرسوں کے طالب علم چونکہ جہاد کی اہمیت اور کفر کی مضرت سے آگاہ ہوتے ہیں،اس لئے وقت آنے پر جب جہاد فرض ہوجائے تو اُس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے،آج ایک سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں وہ طلبہ جو قال اقوال کے ماہر ہوتے ہیں،اس طالبان کی دھمکی کو خالی خولی نہ سمجھیں اور عدلیہ کوآزاد فیصلہ کرنے دیں، یہ افغانستان کے طالبان ہی ہیں جنہوں نے …؎
بنا کردند خوش رسمے نجاک و خون غلطیدن.... خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت
٭…٭…٭…٭…٭
امریکہ نے لیبیا پر پابندیاں لگا دیں، بن غازی میں سابق وزیر نے حکومت بنالی مظاہرے جاری اور ہلاکتیں500ہوگئیں، مظاہرین پر زہریلی گیس کے استعمال کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔
بے وفائی، طوطہ چشمی، وقت پر دھوکہ دینا توکوئی امریکہ سے سیکھے، وہ پودے جو اُس نے اگائے لگائے اور تناور درخت بنائے جب عوامی غیظ و غضب کی ہوا چلی تو امریکہ نے اُن کی کوئی حفاظت نہ کی، یہ کیسی ستم ظریفی اور سنہری ٹوپی ڈرامہ ہے کہ معمر قذافی پچھلے 45 برس سے برسر اقتدار ہیں، لیکن تابکے! آخر ٹوپی ڈرامہ نے کسی نہ کسی روز تو فلاپ ہونا ہی ہوتا ہے،سو وہ فلاپ ہوچکا ہے مگر صاحب کج کلاہ اپنے تخت سے ہل نہیں رہے، لیکن انقلاب کا زہر اُس زہر سے کہیں زیادہ ہلاکت خیز ہے جو وہ عوامِ لیبیا میں چھڑک رہے ہیں،اقتدار کی رسیا شخصیات بلا کی ڈھیٹ ہوتی ہیں، دیکھتے ہیں کہ لیببا کا آمر مطلق کب تک قائم رہتا ہے اور کب اقتدار کو طلاق دیتا ہے جب پانچ سو افراد جان دے چکے ہیں تو خون کا سیلاب تو آکے رہے گا، یہ قانونِ قدرت ہے کہ ہر کمال کو زوال ہے اور آمریت کا زوال تو یقینی ہے…؎
نہ گور سکندر نہ ہے قصرِ دارا.... مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں