ہفتہ،17 ؍رمضان المبارک‘1431ھ‘28 ؍ اگست 2010ء

ـ 28 اگست ، 2010
زعیم قادری نے کہا ہے‘ دہشت گردی کا ناسور بھگوڑے جرنیل اور چودھری برادران کی وجہ سے پھیلا ہے۔
بھلا کوئی زعیم نون سے پوچھے کہ اس وقت آپ لوگ کہاں تھے‘ جب مشرف کی دیگ میں چودھری برادران کڑچھا پھیر رہے تھے‘ الزام ہمارے ملک میں ایک ایسی حقیقت عام ہے کہ اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ مسلم لیگ نون کی خوش قسمتی ہے کہ اسے زعیم قادری اور سعد رفیق جیسے دو نوجوان سیاست دان مل گئے ہیں جو ٹھیک اور غلط ہر طرح کے نشانے لگا لیتے ہیں۔
زعیم صاحب کا یہ نشانہ تو بہت زعیمانہ ہے کہ یہ جو افتاد آج ہم پر پڑی ہوئی ہے‘ اس میں بھگوڑے جرنیل اور چودھری برادران کا بڑا ہاتھ ہے مگر چھوٹا ہاتھ ان کا بھی ہے جو مشرف اور اسکے مصاحیوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور امریکہ بغلیں بجا رہا ہے‘ جبکہ بھارت تالیاں پیٹ رہا ہے‘ دہشت گردی ہمارے ہاں معجون مرکب ہے‘ ایک تو ہم نے طالبان کو اپنا دشمن بنا کر مول لی‘ دوسرے امریکہ نے بھارت کو افغانستان کے راستے پاکستان پر مسلط کر دیا اور اسکی اپنی فتنہ پرور ایجنسیاں اسکے علاوہ ہیں اور بالآخر یہ ہوا کہ ہمارے اپنے پیدا کردہ حالات کے بدلے ہم پر آسمانی عذاب بھی آگیا۔ زعیم قادری‘ جذبات سے معمور رہنما ہیں اور اب تو ان میں روز بروز ایک پختہ سیاست دان کی خوبیاں بھی آتی جا رہی ہیں۔ جو قائد حزب اختلاف میاں نوازشریف کا سیاسی فیض بھی ہے۔
٭…٭…٭…٭
افغانستان میں جاری جھڑپوں میں 24 طالبان شہید‘ گیارہ اہلکار ہلاک ہو گئے۔
طالبان اس قوم اور خطے سے تعلق رکھتے ہیں جس کی تاریخ یہ ہے کہ افراد مرتے ہیں اور مارتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ کوئی فرق نہیں آنے دیتے تاآنکہ دشمن دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ برطانیہ کے ساتھ ماضی بعید میں جو کچھ افغانستان کی سرزمین پر ہوا‘ امریکہ کو ضرور یاد ہو گا۔ طالبان ہوں یا افغانستان کے دوسرے باشندے‘ ان کا ہمیشہ سے یہ طریقہ رہا ہے کہ دشمن کو اندر آنے دو اور پھر وہ موت کا کنواں چلا دیتا ہے۔ طالبان تو شہید ہو کر اللہ کی بارگاہ میں تحفے پاتے ہیں‘ جبکہ امریکہ سمیت اسکے اتحادیوں کے ممالک میں ہر روز تابوتوں کے تحفے جاتے ہیں۔ جنہیں اکثر صیغۂ راز میں رکھا جاتا ہے۔ امریکہ نے تو نیٹو فورسز کو طالبان کے موت کے کنویں میں دھکیل کر اپنے لئے نرم گرم بستر پاکستان کو بنا لیا ہے‘ اس لئے کہ یہاں وہ مارتا ہے‘ مرتا نہیں۔ اسکے ساتھ ہی اس کا وہ مقصد بھی سامنے آگیا ہے کہ وہ افغانستان میں پاکستان میں داخل ہونے کیلئے آیا اور یہی وجہ ہے کہ یہاں اس نے بھارت کو بھی ساتھ ملا لیا ہے اور اپنی جگہ اسے افغانستان پہنچا دیا ہے۔ یہ اہلکار کون ہوتے ہیں‘ یہ اگرچہ ایک معمہ ہے اور کیموفلاج تاہم جاننے والے جانتے ہیں کہ اہلکاروں میں کون کون مرتا ہے۔
بنا کہ دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
٭…٭…٭…٭
نیویارک میں ٹریڈ سنٹر کے قریب مسجد اور مسلم سنٹر کی تعمیر کیلئے مسلمانوں‘ یہودیوں‘ عیسائیوں اور شہری تنظیموں نے مل جل کر 40 کا ایک اتحاد بنالیا ہے‘ جس کے نتیجے میں امریکہ میں ایک گرما گرم بحث چھڑ پڑی ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس موضوع پر اس خاتون نے واضح طور پر کہہ دیا کہ ہم پر مسلمانوں نے حملہ نہیں کیا تھا‘ جو نائن الیون کے متاثرین کی ترجمان ہے اور جسکی حاملہ بیٹی اس سانحے میں فوت ہو گئی تھی۔ اس خاتون نے کھل کر کہا کہ ہم نیویارک میں اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کی سو فیصد حمایت کرتے ہیں مگر امریکی قدامت پسند تنظیمیں اس پراجیکٹ کی بھرپور مخالفت کر رہی ہیں۔ اگر یہود و نصاریٰ اور مسلمان اسی طرح کا اتحاد برقرار رکھیں تو وہ شیطانی قوتیں مات کھا سکتی ہیں‘ جو پوری دنیا میں بین المذاہب اختلافات کو ہوا دیکر انسانیت کو آنیوالے اچھے دنوں سے محروم رکھنا چاہتی ہیں۔ رسول اللہ ؐ کے عہد مبارک میں بھی اسی طرح کا اتحاد قائم تھا۔ یہاں تک کہ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا تھا کہ عبادت گاہیں سانجھی ہیں۔
حیرانی ہے کہ اسلام بت خانے سے اٹھنے لگا ہے اور مثبت سوچ رکھنے والے امریکیوں نے بلاتفریق مذہب و ملت مسلمانوں کی آزادی کو قبول کرلیا ہے۔ اوباما نے بھی کہہ دیا کہ ہم مسلمانوں کی مسجد اور کلچرل سنٹر کے قیام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیورز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بھی مکمل تائید کا اعلان کردیا ہے‘ جہاں تک قدامت پسند امریکیوں کا تعلق ہے‘ تو انکے خیالات قدیم اور فرسودہ ہوتے جا رہے ہیں اور ایک فلوریڈی پادری کی بوسیدگی کا تو یہ حال ہے کہ اس نے 9/11 کو قرآن مجید کو نذرآتش کرنے کا اعلان کر رکھا ہے‘ گاڈ نہ کرے امریکی انتظامیہ اسے ایسا کرنے دے‘ ورنہ اسکی اپنی راکھ بھی فلوریڈا میں اڑتی نظر آئیگی…؎
ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است برجریدۂ عالم دوام ما
٭…٭…٭…٭
شیخوپورہ میں وکیل نے ایڈیشنل سیشن جج کو جوتا دے مارا۔
یہ تو وہی بات ہوئی کہ بازی بازی باریش بابا ہم بازی (کھیلتے کھیلتے بابا کی داڑھی سے بھی کھیلنے لگے) کل تک جن وکیلوں نے ججوں کی توہین کرنے والوں کو جوتے مارے‘ آج اگر ان میں سے کوئی گندا خربوزہ اٹھ کر عدلیہ کے منہ پر جوتا مار دے تو یہ جوتا واپس ضرور آئیگا اور پوری قوم مذکورہ مذموم وکیل کو نکیل ڈالے گی۔ جوتا کھانے کے تو اپنے مخصوص منہ ہوتے ہیں‘ کم از کم اس میں عدلیہ تو شامل نہیں‘ البتہ اس رذیل وکیل کو اس لسٹ میں شامل کرلیا گیا ہے اور زودیا بدیر ایک پٹھانی ڈبل سول کا جوتا اسکے منہ کا انتظار ضرور کریگا۔ دیکھتے ہیں یہ گوئے سبقت کون لے جاتا ہے؟ اگر مذکورہ وکیل کو جوتا مارنے کا اتنا ہی شوق ہے تو کسی روز اپنا بوٹ اتار کر اپنا منہ لال کرلے۔ شاید اس طرح اسکے گلے سڑے ضمیر کو کچھ قرار آہی جائے۔ اب یہ زندہ ضمیر رکھنے والے وکلاء کا فرض ہے کہ وہ ایسے کسی واقعے کو نہ صرف روکیں بلکہ کوئی ایسا ضابطۂ اخلاق بنائیں جس کے تحت ایسے نابکاروں کیخلاف تادیبی کارروائی بھی کی جا سکے۔ عدالت کا ایک اپنا تقدس اور وقار ہوتا ہے اگر وہ بھی باقی نہ رہا تو یہاں صرف جوتے رہ جائینگے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter