نیٹو کمانڈر نے کہا ہے‘ افغانستان میں بہت لڑائی ہو چکی‘ سیاسی حل ہونا چاہئے۔
افغانستان کو اکثر حلوہ سمجھ کر وہاں مغربی قوتیں داخل ہوتی ہیں اور بالآخر زہر سمجھ کر وہاں سے بھاگ کھڑی ہوتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج تک افغانستان کو کوئی فتح نہیں کر سکا۔ نیٹو فورسز اپنے جدید ترین ہتھیاروں کے ساتھ بھی افغانستان کے جنگجوئوں پر قابو نہ پا سکیں اور اب مذاکرات تک آپہنچی ہیں۔ دیکھئے وہ مستقبل میں کس طرح افغانستان سے دم دبا کر بھاگتی ہیں۔
امریکہ نے افغانستان میں کھویا‘ پایا کچھ نہیں‘ ماسوا اسکے کہ تابوت پائے اور اپنے فوجیوں کے بچے یتیم بنائے۔ ایک مرتبہ برطانیہ نے بھی تجربہ کیا تھا اور اپنی تمام فوج مروا کر یہاں سے رخصت ہو گیا تھا۔ مگر امریکہ نے اس سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی۔ اقوام متحدہ نے بھی کافی انتظار کیا کہ شاید فتح حاصل ہو جائیگی‘ مگر وہ اپنی امریکی زبان میں کہہ اٹھا‘ کہ افغانستان میں طالبان رہنمائوں سے مذاکرات کا وقت آگیا ہے۔ گویا نیٹو کو افغانستان میں لڑنے کا شوق تھا‘ سو وہ پورا ہو چکا ہے۔
یہی حال قبائلی علاقوں میں بھی ہو گا‘ یہ تو پاکستانی فوج انکی مدد کر رہی ہے‘ وگرنہ کب کا امریکہ وزیرستان کو چھوڑ چکا ہو تا۔ امریکہ کو ایک عرصے سے اس بات کا اندازہ ہے کہ جب افغان جہاد پر اتر جاتے ہیں تو انکے سامنے کوئی زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا اس لئے اب امریکی اتحادی اس سازش کے تانے بانے بن رہے ہیں کہ کیوں نہ مسلم امہ کی اس جہادی قوت کو ختم کر دیا جائے تاکہ باقی صرف جھاگ رہ جائے۔
اکیسویں صدی میں ایک نہتے اسلامی ملک کا سپرپاور کے ساتھ اپنے حواریوں سمیت جنگ کرنا جہاد ہی کا معجزہ ہے‘ اس میں بھارت کیلئے بھی عبرت کا سامان موجود ہے کہ جہاد کتنی بڑی قوت ہے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ لاہور میں 36 ڈکیتیاں ہوئیں۔
یہ تو صرف ایک دن کی کارکردگی ہے‘ جو ڈاکوئوں نے انجام دی‘ اگر ایک ماہ کے اعداد و شمار جمع کئے جائیں تو تعداد کہاں تک جا پہنچے گی۔ لاہور پاکستان کا دل ہے مگر اس پر راہزنوں‘ چوروں‘ ڈاکوئوں کا ٹڈی دل حملہ آور ہو چکا ہے‘ پنجاب پولیس صرف جیبیں لوٹنے میں مصروف ہے اور ڈاکو شہریوں کو لوٹنے میں۔ پنجاب حکومت ایسے میں کیا کر رہی ہے‘ اسکے ثبوت کیلئے یہ 32 ڈاکے ہی کافی ہیں۔
پنجاب حکومت نے اپنی پولیس کو جتنا بھی خوش رکھنے کی کوشش کی‘ اس نے اتنا ہی صوبے کو رلایا ہے۔ صوبے میں اسلحہ اس قدر عام ہے کہ جو چیونٹی کو نہیں مار سکتا‘ وہ بھی انسان مار رہا ہے۔
حکومت پنجاب کو اپنی لاڈلی پولیس سے پوچھنا چاہئے کہ آخر وہ اتنی مراعات لینے کے بعد بھی اتنی بے کار کیوں ہو گئی ہے۔ خفیہ ایجنسیاں نہ جانے کیا کر رہی ہیں کہ انہیں ڈاکوئوں کی نقل و حرکت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ لاہور میں پولیس اور سیاسی شخصیات اپنے کرتوتوں میں مصروف ہیں‘ جوئے کے اڈے انکی سرپرستی ہی میں تو چل رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شہر لٹ رہا ہے اور پولیس جوئے کے اڈے چلا رہی ہے۔ ڈاکوئوں کو بھی پنجاب پولیس کی مصروفیات کا اچھی طرح علم ہو چکا ہے‘ اس لئے وہ آزادانہ اپنی مصروفیات میں لگی ہوئی ہے‘ اگر پولیس کا یہی حال ہے تو اس محکمے کو ختم کر دیا جائے‘ امن و امان خود ہی قائم ہو جائیگا۔ واردات ہو جاتی ہے تو پولیس پہنچتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ڈاکوئوں اور پولیس نے آپس میں ٹائم فکس کر رکھا ہے۔ اسی لئے تو شہری فکس اپ ہیں‘ البتہ ہم ٹریفک پولیس کی ستائش کرتے ہیںکہ وہ ابھی پرانی پولیس کی آلائشوں سے پاک ہے۔ پنجاب حکومت نے جتنی بھی پولیس سیاست دانوں اور وزیروں کی حفاظت پر لگا رکھی ہے‘ اسکے بعد شہریوں کی حفاظت کیلئے تو خود وزیر اعلیٰ پنجاب ہی بچتے ہیں اور وہ تنہا کس کس شہری کی حفاظت کر سکیں گے؟
٭…٭…٭…٭
امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ امریکی مداخلت حد سے زیادہ بڑھنے سے عوام پریشان ہیں۔
اگر یہی عالم رہا تو کہنا پڑیگا کہ خدانخواستہ پاکستان امریکہ کی 53ویں ریاست ہے بس فرق اتنا رہ گیا ہے کہ یہاں روپیہ چلتا ہے اور وہاں ڈالر۔ یہ بات صحیح ہے کہ پاکستان کے عوام امریکہ کی حد سے بڑھ کر مداخلت پر پریشان ہیں‘ وزیراعظم گیلانی کی حفاظت کیلئے بلیک واٹر کو مقرر کرنا پاکستان کو واقعتاً امریکہ کی غلامی میں دینا ہے۔ ہمیں تو اس بات پر حیرانی ہے کہ وزیراعظم نے اس تعیناتی کو کیسے قبول کرلیا ہے۔
جب حکومت کو یہ معلوم ہے کہ اسکے عوام امریکہ کی مداخلت کو پسند نہیں کرتے اور وہ اب اس سلسلے میں پریشان بھی رہنے لگے ہیں تو وہ کیوں امریکہ کی گود میں کھیل رہی ہے۔ کیا حکومت کو امریکیوں نے ووٹ دیئے کہ انکی اتنی پرواہ کی جا رہی ہے اور اپنے ووٹروں کو ناراض کیا جا رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ آئی ایس آئی کی جگہ بلیک واٹر کو لایا جا رہا ہے‘ اس لئے کہ امریکہ آئی ایس آئی کے وجود سے خائف ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر کے بیانات تو حق بجانب ہوتے ہیں مگر اتنی بڑی جماعت کو یہ توفیق کیوں نہیں کہ وہ امریکہ کے یہاں سے نکل جانے کی مہم چلائے۔ وکیلوں کی مہم چند روز چلی اور اس نے اعلیٰ ترین عدلیہ کو آزادی دلوادی اور ملک کے آمر کو دیس نکالا دے دیا۔ کیا جماعت اسلامی جو اتنی قدیم اور وسیع تنظیم ہے‘ وہ اتنا بھی نہیں کر سکتی کہ امریکہ کی حد سے بڑھتی ہوئی مداخلت کو روک سکے۔
کہا جاتا تھا کہ ظالمو! قاضی آگیا‘ وہ چلا بھی گیا اور اب ظالمو! سید منور حسن آگیا‘ کیا وہ بھی اسی طرح چند بیانات دے کر چلا جائیگا۔ہم سید منور حسن اور انکی جماعت سے اتنا ہی کہیں گے کہ…؎
فاعتبر وایا اولیٰ الابصار۔