تازہ ترین:

اتوار ‘ 23 ؍ ربیع الا ول 1432 ھ27؍ فروری ‘ 2011ء

ـ 26 فروری ، 2011
کراچی میں محکمہ تعلیم کے غیرتدریسی عملے پر تشدد کیا گیا‘ اس موقع پر ماوری میمن نے بھی گرفتاری دیدی جبکہ صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہرالحق نے کہا ہے‘ حکومت کسی ملازم کو بیروزگار نہیں ہونے دیگی۔
لگتا ہے ماروی کے اندر کا عمر جاگ اٹھا ہے اور انہوں نے بہ ایں رخ زیبا نہ صرف کراچی کے محکمہ تعلیم کے غیرتدریسی ملازمین کے ساتھ مظاہرے میں حصہ لیا بلکہ ان پر پولیس کے تشدد کے نتیجے میں ملازمین کے ساتھ خود بھی گرفتاری دیدی …ع
’’ایں کار از تو آید و زناں ہم چنیں کنند‘‘
(ماروی یہ کام آپ ہی کے بس کا تھا اور عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں)
ہماری پولیس نابینا اور بہری ہے‘ ویسے بھی جیسے قبر میں عذاب دینے والے فرشتے نابینا اور سماعت سے محروم ہونگے تاکہ مار کھانے والا ان کو نظر آئے اور نہ اسکی چیخ و پکار سن سکیں۔ کیا پتہ وہاں بھی انہی کو بھرتی کرلیا جائے‘ کیونکہ یہ مظاہرین کو قبر کا مردہ سمجھ کر ان پر اندھا دھند لاٹھیاں برساتے اور اس بیدردی سے مارتے ہیں‘ جیسے بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کا حشر کرتی ہے۔ ماروی نے جو چلن شروع کر دیا ہے‘ اگر وہ دوسرے لیڈرز بھی اختیار کرلیں تو اس ملک میں پولیس کو آنکھیں اور کان بلکہ ضمیر بھی مل جائے اور غریب محروم عوام بالخصوص سرکاری ملازمین کو اپنے اندر کسی لیڈر کی موجودگی سے افاقہ بھی ملے اور مطالبے تسلیم کرانے میں بھی آسانی ہو۔ ماروی شیرنی ہے‘ وہ لپٹتی نہیں‘ جھپٹتی ہے اور جھپٹ کر پلٹتی بھی ہے اس لئے کراچی پولیس اپنی آنکھیں اور کان کھول ضمیر کی آواز بھی سنے۔
٭…٭…٭…٭
حکومت پاکستان نے ایک اور معرکہ مارا ہے کہ ریلوے‘ واپڈا‘ پیپکو اور پوسٹ آفس کی سیل لگا دی ہے‘ جس کیخلاف ایک جلوس نکالا گیاجس کے شرکاء ان تمام محکموں کے نیلام عام کیخلاف نعرے لگا رہے تھے۔
حکمرانوں نے سر پر ایک چھابہ اٹھا رکھا ہے اور مل کر گلی گلی‘ کوچہ کوچہ آواز لگا رہے ہیں‘ خسارہ بداماں ریلوے لے لو‘ نابکار واپڈا لے لو‘ ساہوکار پیپکو لے لو اور یتیموں کی طرح نرم پوسٹ آفس لے لو اور چاہو تو یہ چھابہ بھی مفت لے لو تاکہ کل کلاں کو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ جب ملک کی باری آئی تھی تو وہ بھی ہم نے بیچا تھا۔ کیا معلوم جو جلوس اب اس چھابہ فروشوں کیخلاف سڑک پر نکلا ہے‘ اس کا نتیجہ یہ بھی نکل آئے کہ چھابے والے بھی حکومت سے نکل گئے ہیں کیونکہ حسنی مبارک‘ تیونسی حکمران بھی نہیں نکلے تھے‘ مگر جب لوگ باہر نکلے تو وہ بھی نکل گئے۔ گویا اب نکلنے سے ہی وطن فروش نکلیں گے‘ وگرنہ نئے مالک ہمیں نکال باہر کر دینگے۔ غالب کا ایک شعر ہمارے بڑے کام کا ہے مگر اس سے پہلے کہ چھابہ بردار اسے استعمال کرکے ہمیں نکال دیں‘ ہمیں وہ شعر کام میں لے آنا چاہیے‘ شعر یوں ہے کہ…؎
میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کر ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
اس شعر میں یہ ہنر پوشیدہ ہے کہ کون کس کو کیسے نکال سکتا ہے‘ ہمیں اس شعر کے میکنزم پر غور کرنا ہو گا۔
سندھ حکومت کے وزیر قانون ایاز سومرو نے کہا ہے‘ ایک ٹی وی والے خود اربوں روپے کے ٹیکس ادا نہیں کرتے‘ میرے بارے میں بریکنگ نیوز چلاتے ہیں۔
برہنہ کو برہنہ ہی بے نقاب کر سکتا ہے‘ جیو جیا ٹی وی اوہو جیا وزیر باتدبیر‘ بریکنگ نیوز جب بھی چلائی جاتی ہے‘ اس ملک میں اکثر چلانے والے بھی ٹوٹتے ہیں اور وہ بھی جن کے بارے میں چلائی جاتی ہے‘ یہ ملک ایک اتنا بڑا حمام بن چکا ہے جس میں انتظار کرنیوالوں کے سوا سبھی ننگے ہیں۔ خدا کرے کہ اس میں موجود برہنگان حمام میں کوئی مدرسہ کھول لیں اور خود اپنے اپنے کپڑے پہن لیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کپڑے انکے اپنے ہوں اور توبہ تائب ہو کر حفیظ تائب کی نعتیں پڑھنے لگیں۔ اس سے وہ عہد نبوت میں چلے جائینگے اور طرز حکومت اور طرز ادارہ جات و محکمہ جات ایک دم سیدھے ہو جائینگے۔ توبہ کے دروازے کھلے ہیں‘ مگر ٹکٹ کے پیسے ادا کرکے اس میں داخل ہونے پر کوئی پابندی نہیں۔ ٹیکس جس کے ذمہ بھی واجب الادا ہے‘ ادا کر دے اور ثوابِ دارین حاصل کرے۔ اللہ جانے وہ کونسا ٹی وی ہے جو شیشے کے کیبن میں بیٹھا دوسرے کیبنوں کو ’’وٹے‘‘ مار رہا ہے‘ بہرحال حکومت کو چاہیے کہ تمام شیشے کے کمروں میں بیٹھ کر دوسرے شیشے کے گھروں میں مقیم حضرات کو لوہے کے کمرے میں بند کر دے۔ اس سے نہ شیشہ گر ٹوٹیں گے اور نہ انکے مکین بھاگ سکیں گے۔ میر نے شاید انہی شیشہ محلات کو ذہن میں رکھ کر کہا ہو گا…؎
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا
٭…٭…٭…٭
گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے کہا ہے‘ جیالے دمادم مست قلندر کرنا جانتے ہیں‘ حکم نہ ماننے والے وفاقی افسر او ایس ڈی بنا دیئے جائینگے۔
لطیف کھوسہ کو بھی پنجاب حکومت کے فیصلے کے بعد کثیف کھوسہ بننا پڑ گیا ہے اور پنجاب کے افسران نہ سہی‘ وفاقی افسران ہی سہی‘ کہیں تو دمادم مست قلندر ہو گی۔ مگر اب جو نئی حکومت بنے گی‘ اس میں بھی تو دمادم مست قلندر کا امکان موجود ہے کیونکہ مسلم لیگ نون کو جتنے پیارے پیپلز پارٹی کے وزیر تھے‘ اتنے ہی عزیز نئے آنیوالے وزیر بھی ہو سکتے ہیں اور جب پیار‘ پیار سے ٹکرائے گا تو بڑی پیاری سچوایشن بھی جنم لے سکتی ہے۔ مسلم لیگ نون کے قائد کو مسلم لیگ قاف اتنے پیارے لگتے ہیں کہ اسکے نتیجے میں قائداعظم کی مسلم لیگ ایک نہیں ہو سکتی۔ ایجنڈا‘ تعاون کو کھا گیا‘ یہ نہ ہو کہ ایجنڈے کی بدہضمی کسی افراتفری کی قے نہ کر دے اور ایک چلتی گاڑی جس نے آگے چل کر آئندہ انتخابات میں اور اچھی طرح چلنا تھا‘ اس پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ چھ وزیروں کے اندر باہر ہونے پر پوری پنجاب حکومت کو کیا ہو جانا تھا‘ زیادہ وقت گزر گیا تھا‘ تھوڑا رہ گیا تھا‘ یہ بھی گزر ہی جاتا۔ خدا نہ کرے کہ دمادم مست قلندر کو روکنے کیلئے فرشتے آجائیں اور مصلحت‘ خرابی کا باعث بن جائے۔ بہرحال مسلم لیگ نون ایک مضبوط سیاسی پارٹی ہے‘ نئی کھلنے والی کلی نہیں جسے معمولی سی دھوپ چھائوں بھی مرجھا دے‘ پنجاب حکومت میں پیپلز پارٹی کی آمیزش نہ تو اکثریتی پارٹی کو نچوڑ سکتی ہے نہ توڑ سکتی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter