الطاف حسین نے کہا ہے‘ عمران کو مبارکباد‘ پارٹی پروگرام پیش کرنا الزامات کی سیاست سے بہتر ہے۔
یہ وہی الطاف ہیں‘ جن کیخلاف مقدمہ لڑنے خان صاحب لندن پہنچ گئے تھے‘ تاہم پارٹی کے حجم نے الطاف بھائی کو مبارکباد پیش کرنے کی توفیق عطا کر دی۔ ٹیلی فونک لیڈر کی جانب سے یہ مبارکباد شادباد ہے اور ایک بات جو انہوں نے عمران کو بتائی ہے‘ بڑے پتے کی ہے کہ بہتر سیاست یہ ہے کہ لیڈر اپنا پروگرام پیش کرے‘ دوسروں پر الزامات نہ دھرے۔ اب اس پتے کی بات کو خان اعظم پان کا پتہ نہ سمجھ لیں اور نہ ہی تاش کا پتہ۔ یہ پاکستان ہے‘ اس لئے ایاک نعبدو ایاک نستعین پر ثابت قدم رہیں۔ عمران خان سیاست دان تو بن گئے ہیں اور لوگ حکمرانوں کے جبر سے تنگ آکر انکے گرد جمع ہو گئے کیونکہ جن کو انہوں نے اپنا سب کچھ حوالے کردیا تھا۔ انہوں نے انکو رب کے حوالے کر دیا‘ اب دیکھئے یہ جمگھٹے کیا رنگ لاتے ہیں اور قوم پاتال میں جاتی ہے یا فردوس بریں میں۔ ابھی بہت کچھ باقی ہے‘ ایک سال بعد مرغ بادنما کا کیا رخ ہو گا‘ یہ تو اللہ ہی جانے لیکن فوق کل ذی علم علیم کا فلسفہ سمجھ میں آگیا۔ الطاف حسین نے جب سے قوم کی حالت بدلنے کی کوشش کی ہے‘ تب سے وہ قوم ہی سے دور جا بسے ہیں لیکن انکے برادران کی محبت دیکھئے کہ وہ پھر الطاف بھائی سے پیار کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے الطاف بھائی کے بارے میں کہتے ہیں....ع
گھونگھٹ کے پٹ کھول تو ہے پیا ملیں گے
٭....٭....٭....٭
شہباز شریف کا لاہور میٹ کمپلیکس کی تقریب میں سرخ قالین بچھانے اور سجاوٹ پر اظہار ناپسندیدگی۔
سرخ قالین بچھانے اور سجاوٹ پر میاں شہباز شریف کا اظہار ناپسندیدگی کرنا ایک ایسی بات ہے جو ہمارے حکمرانوں کی تاریخ میں پہلی بار واقع نہیںہوئی‘ اس سے پہلے وہ چلڈرن ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر اس کا اظہار کر چکے ہیں لیکن میزبان ڈاکٹر سعید نے کہا کہ یہ انتظامات نہ ہوتے تو آپ ناراض ہو جاتے! بہرحال اسکی جس قدر تحسین کی جائے‘ کم ہے۔ لاہور میں میٹ کمپلیکس کا قیام خود اپنی جگہ سرخ قالین ہے اور بہترین سجاوٹ ہے۔ وزیراعلیٰ اس لحاظ سے انوکھے تو ہیں مگر لاڈلے نہیں کہ وہ ہمہ تن محو حرکت رہتے ہیں اور اپنے صوبے کی تزئین و آرائش پر توجہ دیتے ہیں۔ بوچڑ خانے کو شہر سے باہر لے جانے میں جہاں بعض افراد کی مساعی شامل ہیں‘ وہاں اسے ایک جدید ترین میٹ کمپلیکس بنانے کا کریڈٹ وزیراعلیٰ کو جاتا ہے۔
ریڈکارپیٹ کلچر کے ساتھ ہی اگر وہ وی آئی پی کلچر بھی ختم کر دیں تو یہ ایک اور کارنامہ ہو گا۔ ایک ایسا وزیراعلیٰ جو بہترین تقریر اور اشعار پیش کرتا ہے‘ ان سے انتھک محنت کی توقع اکثر نہیں کی جاتی لیکن یہ بڑی بات ہے کہ وہ دونوں کام کرلیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ انکے اردگرد کیا ہو رہا ہے؟ وہ اپنے کام سے غرض رکھتے ہیں۔ سرخ قالین تو عروس نو کیلئے بچھانا چاہیے کہ بعد میں اسے خارزار ہستی میں سے ننگے پاﺅں گزرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ مرکزی قیادت کے سنگھاسن پر بیٹھے رہتے تو شاید قوم کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ اگر وہ اس ذبح خانے کا بھی نوٹس لے لیں جہاں گاہکوں پر چھری پھیری جاتی ہے اور ایک ہی کوالٹی کی چیز کی قیمت ایک دکان پر کچھ اور اسکے ساتھ والی دکان پر کچھ اور ہوتی ہے۔ تو خلقِ خدا انکے حق میں گلابوں سے بڑھ کر سرخ اور خوشبو دار دعائیں دے۔
٭....٭....٭....٭
وی آئی پی موومنٹ کے باعث قائداعظم کے نواسے کو مزار قائد پر حاضری سے روک دیا گیا۔
اقتدار کے نواسے جہاں سے گزریں گے‘ وہاں قائداعظم کے نواسے کو اپنے نانا جان کے مزار میں کیسے داخل ہونے دیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ قائداعظم نے ان وی آئی پیز کو پاکستان دیا‘ جہاں وہ جھولیاں بھرتے اور عیش و نشاط کی زندگی گزارتے ہیں۔ یہ تو نواسہ قائد ہیں‘ نانا کی قبر پر وہ فاتحہ تو بعد میں پڑھ لیں گے‘ نواسہ قائد کو نوالہ الاﺅنس تو حکومت ادا کردے۔ لوگوں نے نواسہ رسول کو نہیں بخشا۔ نواسہ قائد محمد اسلم جناح کو جب روکا گیا ہو گا تو روح قائد کو کتنی اذیت پہنچی ہو گی اور موٹی توند والوں کو کتنی آسائش ملی ہو گی۔ یہ حکمران اس قدر محسن فراموش ہونگے کہ جس کے گھر میں بیٹھ کر ڈالر اڑاتے ہیں‘ وہاں خاندانِ جناح کےساتھ یہ سلوک کرینگے‘ یہ کب کسی محب وطن کو گوارا ہو سکتا ہے۔ ولادت قائد کے خوش کن موقع پر یہ تکلیف دہ سانحہ‘ شادی مرگ کی سی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ خاندان قائداعظم کو تو پھولوں کی سیج پر بٹھایا جاتا‘ انکی بود و باش کا اعلیٰ ترین بندوبست کیا جاتا‘ مگر حکمران ہیچمدان کیا جانیں زعفران کا بھاﺅ۔ نواسہ قائد کو مزار قائد پر جانے سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی گیا ہی نہیں۔ شاید ہم سب ملکر قائداعظم کے نام اور انکے پاکستان کا استحصال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ارض پاکستان تو ہے مگر اس پر کچھ موجود نہیں۔ سونا اگلتی زمینیں ہیں‘ معدنیات کے ذخائر ہیں‘ مگر اسکے باوجود ملک کے ہاتھ خالی ہیں اور حکمرانوں کی جیبیں بھری ہوئی۔ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہو گا تو شاید نواسہ قائد بھی مزار میں داخل ہو سکیں گے۔ برایں حکمرانی بباید گریست۔
٭....٭....٭....٭
عمران خان نے ہاشمی‘ شاہ محمود قریشی‘ قصوری اور ترین کو سیٹ ونرز کی تحریک انصاف میں شمولیت کا ٹاسک دیدیا۔ جنوبی پنجاب کے پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے انتخابی اتحاد والے حلقوں کو خصوصاً ٹارگٹ کیا جائیگا۔
پروین شاکر نے سچ کہا تھا....ع
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
اور اقبال نے تو اس سے بھی بڑا سچ بولا تھا....ع
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
ایک کھلاڑی‘ سیاست کے رستم‘ گاما اور جھارا کو یوں اکھاڑے سے باہر کردیگا یہ کون سوچ سکتا تھا‘ مگر جب بڑے بڑے پہلوان کسرت چھوڑ دیں اور دولت کی کثرت میں پڑ جائیں تو پھر انکے پٹھے بھی ان کو ایک ہی داﺅ لگا کر چت کر دیتے ہیں‘ اگر اب بھی یہ بڑے بڑے سیاسی پہلوان سبق حاصل کرلیں اور اپنے اپنے تفاخر کے چوباروں سے نیچے اتر کر قوم کی خدمت میں جُت جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ میلہ شالامار کا بکھر جائے۔
٭....٭....٭....٭
خبر ہے کہ عمران کی کراچی سونامی میں فرزندِ اقبال بمعہ اپنے فرزند کے بہہ گئے کیونکہ میزبان نے نہ اقبال کا نوٹس لیا‘ نہ ابن فرزند محترم کا اور نہ انکے فرزند عزیز کا جو عمران کی پارٹی میں داخل ہونے کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔