جمعرات ‘8 ؍ذی الحجہ 1430 ھ‘ 26 ؍ نومبر 2009ء
ـ 26 نومبر ، 2009
صدر آصف علی زرداری جلد 17ویں ترمیم کے خاتمے کی خوشخبری دیں گے‘ صدر اپنے بعض دوسرے اختیارات بھی چھوڑ دیں گے۔
پاکستان میں اس وقت ایک بار پھر جمہوریت کو خطرہ ہے‘ اس لحاظ سے 17ویں ترمیم کے خاتمے کی خوشخبری کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ صدر نے اپنے بعض دوسرے اختیارات بھی چھوڑنے کی بات کی ہے‘ یہ اپنی جگہ خوش آئند ہے۔ این آر او کے حوالے سے جو بدمزگی پیدا ہوئی ہے‘ اس کا بھی کوئی اچھا سا حل نکالنا چاہئے تاکہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کو لاحق خطرہ ٹل جائے۔ یہ بات بھی بڑی اچھی ہے کہ این آر او میں عدالت کا فیصلہ مانا جائیگا جس کے نتیجے میں منتخب حکومت اپنا وقت پورا کر سکے گی۔ اس وقت پاکستان کو اندرونی استحکام کی ضرورت ہے‘ یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری ہر قربانی کیلئے تیار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو بھی موجودہ حالات میں اچھا مشورہ دینا چاہئے اور حالات کو کسی دوسری طرف جانے سے روکنا چاہئے۔ امید ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان لوگوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا جو جمہوری رائے کا حق چھیننا چاہتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کشمیر کی سرحد کا دوبارہ تعین نہیں ہو سکتا۔
کشمیر دو نہیں کہ انکی سرحد کا تعین نہ ہو سکے اور پاکستان نے بجا کہا کہ کسی کو یکطرفہ فیصلے کا حق نہیں‘ کشمیر ایک ہے اور مقبوضہ ہے‘ صرف اس کا حاصل کرنا باقی ہے۔ من موہن سنگھ جی جن بھول بھلیوں میں پھر رہے ہیں‘ ان سے نکل آئیں‘ کشمیر آزاد ہو کر رہے گا‘ اس لئے کہ اسکے مقبوضہ ہونے میں پورے خطے کی سیاست پابازنجیر ہو کر رہے گی۔ من موہن سنگھ اس لہجے میں بات کر رہے ہیں جیسے مسئلہ کشمیر کا کوئی وجود ہی نہیں۔ انکی سوئی تجارت‘ مذاق رات وغیرہ پر اٹکی ہوئی ہے‘ ان کی گفتگو میں منافقت کے اعلیٰ نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہ مذاکرات اپنے مقاصد کیلئے کرنا چاہتے ہیں‘ لاکھوں شہیدوں کی قبریں ان کو نظر نہیں آتیں۔ مقبوضہ کشمیر آزاد ہو گا اس لئے کہ یہ پاکستان کی شہ رگ ہے۔ مقبوضہ کشمیر کبھی تنہا نہیں رہے گا اور پاکستان جہاد کشمیر سے بھی کبھی ہاتھ نہیں کھینچے گا۔
٭…٭…٭…٭
بلوچستان کی انتظامیہ نے پنجاب کے طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ خوش نصیب ہیں کہ آپکے وزیر اعلیٰ شہباز شریف ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب بڑے عمدہ انداز میں طالب علموں کی آنکھوں کا تارا بن گئے‘ اس لئے کہ انہوں نے بلوچستانی طالب علموں کیلئے پنجاب میں سیٹیں بڑھا دی ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں اور کیا بڑھایا ہے‘ اس کی تفصیل راوی بیان کریگا۔ پنجاب میں اس وقت گرانی‘ غربت‘ چور بازاری کی کمی نہیں‘ اس طرف بھی توجہ دی جانی چاہئے تاکہ وزیر اعلیٰ دوسرے طبقوں میں بھی مقبول ہو جائیں۔ انکے پاس دولت کی کمی نہیں اور پنجاب میں چینی دستیاب نہیں‘ وہ اچھے کاموں کی شہرت رکھتے ہیں‘ مگر کچھ عرصے سے انکی رفتار میں وہ تیزی نہیں رہی۔ طالب علموں کے ساتھ انکی خاصی رغبت ہے‘ وہ انہیں شعر بھی سناتے ہیں‘ ان سے پیاری پیاری باتیں بھی کرتے ہیں مگر ان کو یہ نہیں بتاتے کہ بیرونی دنیا کے بنکوں میں ہمارے کتنے لوگوں کی کتنی دولت ہے۔ پاکستان میں حکمرانی کا اولین مقصد ہی دولت جمع کرکے اس پر سیاست کھڑی کرنا ہے‘ اس میں جو جتنا آگے ہے‘ اتنا ہی بڑا سیاست دان ہے۔
٭…٭…٭…٭
ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے 32 ڈیم تعمیر کئے جائیں گے۔
مگر قسم کھا رکھی ہے کہ کالاباغ ڈیم نہیں بنانا‘ اس لئے کہ اس اکیلے ڈیم سے ملک بھر میں بجلی اور پانی کی ضروریات اس قدر پوری ہونگی جتنی کہ 32 چھوٹے درمیانے ڈیم پوری نہیں کر سکیں گے۔ ہمارے ہاں منصوبوں کے ترجیحات سیاست کی بنیاد پر ہوتی ہے‘ اس لئے ملک وہیں کھڑا ہے‘ جہاں کھڑا تھا۔ بھارت نے بیسیوئوں ڈیم بنا ڈالے‘ مگر کسی ڈیم پر سیاست بازی نہیں ہوئی اس لئے کہ وہ اپنے نفع نقصان کو سمجھتے ہیں اور سیاست کی تجارت نہیں کرتے۔ اگر کسی میں ہمت ہے اور وہ ملک کو خوشخبری دینا چاہتا ہے تو کل ہی اعلان کر دے کہ کالاباغ ڈیم پر کام شروع ہو گیا ہے‘ پتہ نہیں کس عقل کل نے بتایا ہو گا کہ پہلے چھوٹے موٹے ڈیم بنائو لوگ خود ہی بڑے کو بھول جائینگے۔
٭…٭…٭…٭
پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ نواز شریف کیلئے جیلیں کاٹیں مگر انہوں نے ہمارے لئے کچھ نہیں کیا۔
لگتا ہے صحیح معاوضہ طے نہیں ہوا ہو گا‘ باقی جیلیں کاٹنا پاکستان میں خود اپنی جگہ ایک تعیش ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہو یا (ق) دونوں کے تانے بانے تو ایک ہی ہیں بس کوئی کچھ ذرا کم ہے کوئی کچھ زیادہ۔ خدا جانے مسلم لیگ (ق) والے مسلم لیگ (ن) سے کیا چاہتے ہیں‘ بہرحال مسلم لیگ (ن) کو چاہئے کہ انہیں خالی ہاتھ نہ بھیجیں‘ ہمارے ہاں سیاست لے دے کا تماشا ہے‘ یہ الگ بات ہے کہ کوئی مانتا نہیں۔ یہ تو مسلم لیگ (ق) نے جرأت کرکے اپنا معاوضہ مانگ لیا ورنہ ایسی باتیں تو اندرون خانہ ہوتی ہیں۔ آج بھی یہ آپشن کھلا ہے کہ دونوں مسلم لیگی ایک ہو جائیں تاکہ بابائے قوم کی روح خوش ہو اور مسلم لیگ ایک بڑی عظیم ترین سیاسی پارٹی بن کر ابھرے۔ کئی بار کوششیں کی گئیں کہ دونوں پارٹیاں ایک ہو جائیں مگر چودھری صاحبان جو آج کچھ مانگ رہے ہیں‘ انہوں نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔ ویسے بھی منطقی طور پر مسلم لیگوں کی تقسیم کا کوئی جواز نہیں اس لئے کہ بابائے قوم نے تو ایک ہی مسلم لیگ بنائی تھی اور آج مسلم لیگوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں اور یہاں تک کہ قبائلی بادشاہ نے بھی عوامی مسلم لیگ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان لوگوں کی روحوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہو گی جنہوں نے ایک مسلم لیگ کے جھنڈے تلے لاکھوں کی تعداد میں جانیں اور عزتیں قربان کیں
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں