تازہ ترین:

جمعرات‘ 2 ربیع الاوّل 1433ھ‘ 26 جنوری 2012

ـ 26 جنوری ، 2012
وزیر داخلہ رحمان ملک کے نام پر موبائل فون کی غیرقانونی سم کا اجرائ۔
ملک کے وزیر داخلہ کے ساتھ جب ہاتھ ہو جائے‘ عوام کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ نادان ملک تو خود ہی غیرقانونی کاموں میں ملوث ہے‘ اسکی اپنی گاڑی کی نمبر پلیٹ جعلی ہوتی ہے اور تو اور وزیراعظم بھی جعلی نمبر پلیٹ لگا کر سپریم کورٹ چلے گئے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ سیکورٹی کیلئے کیا گیا ہے۔ لاکھوں روپے سیکورٹی پر خرچ کئے جاتے ہیں‘ اگر وہ حفاظت نہیں کر سکتے توانہیں پیا گھر سدھار دیں‘ یا مُنی اور شیلا کی جوانی والے گانوں پر ان سے رقص کروائیں۔ نادان ملک تو عدم سے ہی ایسا ہے۔ اب تو گیلانی صاحب بھی اسکے پیچھے الف‘ ب پڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔ منصور اعجاز کی متوقع آمد سے وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ آجکل انہیں دن میں تارے نظر آتے ہیں۔ ایسے ہی ایک افیمی کی بکری گم ہو گئی‘ بہت تلاش کیا‘ مگر نہ ملی۔ شام کو گھر آیا تو بکری سامنے بندھی ہوئی تھی۔ غصے میں آکر بکری ذبح کر دی خود بھی کھائی اور دوستوں کو بھی کھلائی۔ جب صبح سو کر اٹھا تو دیکھا بکری صحیح سلامت کھڑی تھی اور کتا غائب تھا۔
نادان ملک کی بوکھلاہٹ ”افیمی“ سے تو مختلف ہو گی‘ وہ غیرقانونی جاری ہونیوالی سم کی جگہ اپنی اصلی سم بند کروا دینگے تاکہ منصور اعجاز کے متعلق آنیوالے ”پلان“ ایس ایم ایس کا ریکارڈ غائب ہو جائے۔ بہرحال آجکل سیاست دان کچھ ڈرامے میڈیا میں ”اِن“ رہنے کیلئے کرتے ہیں۔ شاید نادان ملک کا سم کا شوشہ بھی ایسا ہی ہو۔ اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا....
کچھ دیکھتا نہیں میں دل زار کیلئے
جو کچھ یہ ہو رہا ہے‘ سب اخبار کیلئے
٭....٭....٭....٭
پاکستانی قیدیوں کو رہا نہ کرنے پر بھارتی سپریم کورٹ کا اظہار برہمی‘ رہائی کیلئے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت۔
شکر ہے سرحد پار سے کوئی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا۔ بھارت میں 64 سال میں پہلی مرتبہ کوئی انسان چیف جسٹس آیا ہے‘ جسے اس بات کا احساس ہوا ہے کہ انسانیت کی کیا قدر ہے؟ پہلے تو قیدیوں کی لاشیں آتی تھیں‘ اب کی بار شاید صحیح سلامت واپسی ہو جائے۔ پاکستان کا ایک شہری 1965ءسے بھارت میں قید ہے‘ 254 پر کوئی مقدمہ نہیں‘ لیکن بھارت کے ”بھگیاڑ سنگھ“ وزیراعظم کی کھوپڑی تک احتجاج کی صدا پہنچ ہی نہیں پا رہی‘ سر پر 20 کلو وزنی پگڑی ہے‘ سوچ کا تو اس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ہمارے حکمران بھارتی قیدیوں کو بگھیوں میں بٹھا کر سرحد پر چھوڑتے ہیں جبکہ ادھر سے سٹریچر پر ڈال کر لایا جاتا ہے۔ چلیں بھارت میں سپریم کورٹ تو بندے کی پتر نکلی ہے ورنہ وہاں تو بندوں کی سوچ ہی عنقا ہو گئی ہے۔
پاکستانی قیدیوں کو سپریم کورٹ کی ایک مہینے کی مہلت کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ بقول شاعر....
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
سن رکھا تھا کہ بھارت کی عدلیہ آزاد ہے‘ دیکھتے ہیں اسکی آزادی کو کہاں تک برقرار رکھا جاتا ہے۔
٭....٭....٭....٭
نیٹو سپلائی بحال کی گئی تو عوام پارلیمنٹ کا گھیراﺅ کرینگے۔منور حسن۔
عوام تو پہلے بھی گھیراﺅ کرتے ہیں‘ لڑتے اور مرتے ہیں لیکن لیڈران کرام تو شیشوں کے محلوں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ سیدزادے نے اپنے دورِ امارت میں کبھی گھیراﺅ کیا؟ گو امریکہ گو کے نعروں سے اگر انقلاب آتا تو افغان طالبان کو قندھار کا قبضہ چھوڑنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ جماعت اسلامی 64 سال سے نعرے بلند کر رہی ہے لیکن نتیجہ وہی ”ڈھاک کے تین پات“ ہے۔ واجپائی کی پاکستان آمد پر احتجاج کیا گیا لیکن پرویز مشرف کے کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے پر سانپ سونگھ گیا کیونکہ پارلیمنٹ کی ممبری بھی تو عزیز ہے۔ جاوید ہاشمی کی سزا کے بعد تو صدائے احتجاج بھی مدھم ہوتی گئی‘ بہرحال سیدزادے کے ہوتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا ایم ایم اے کو بحال کرنیوالا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف جماعت کا بھی وہ بانکپن دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بقول شاعر....
امیر کارواں رہنے کا اتنا شوق ہے اس کو
کہ دانستہ بھی تکمیل سفر ہونے نہیں دیتا
٭....٭....٭....٭
ادویات کے ری ایکشن سے ہلاکتوں کا سلسلہ بتدریج جاری‘ گزشتہ روز بھی دو مریض جاں بحق ہو گئے‘ مجموعی تعداد 86 ہو گئی۔
موت کے سوداگر کہاں سے آگئے‘ کیا انسانیت کی اتنی ہی قدر باقی ہے؟ ہسپتالوں میں ریوڑیوں کی طرح موت بانٹی جا رہی ہے‘ فارمیسی سنٹر بہروپیوں سے میڈیسن لے کر کس کی خدمت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر تو مسیحا ہوا کرتے ہیں لیکن اب صورت یہ پیدا ہوتی جا رہی ہے کہ مائیں ڈاکٹروں کا نام لے کر بچوں کو ڈرائیں گی‘ انکے پاس لے کر نہیں جائینگی۔ 86 افراد کو ادویات نگل گئیں‘ گویا ہر گلی اور محلے میں ماتمی فضا بن گئی ہے۔ اپوزیشن سراپا احتجاج ہے‘ راجہ ریاض احتجاج کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں جیسے کوئی ذاتی لین دین ہو۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ذوالفقار گوندل تو فنڈز لینے کے پیچھے ایسے دوڑ رہے ہیں جیسے ان کا مطمح نظر فنڈز ہی ہیں اور کچھ نہیں۔ دو چار مہینے بعد پی پی کے ارکان ایسے آسمان سر پر اٹھاتے ہیں جیسے انکی بکریاں ”گواچ“ گئی ہوں۔ سنجیدہ رہ کر احتجاج کریں اور سب مل کر اس آفت پر قابو پائیں‘ آلو چھولے بیچنے والے کی طرح دوچار آوازیں لگا کر بیٹھ جانے سے کچھ نہیں ہو گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter