وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے اداروں میں تصادم ہو گا‘ نہ فوج آئیگی۔ نادان غلط فہمی میں ہیں‘ رینٹل پاور پراجیکٹس سے بجلی مہنگی ہو جائیگی انکی بجائے پن بجلی اور تھرکول منصوبوں کو وسعت دینگے۔
ملک کی حالت ایسی ہو چکی ہے کہ کچھ بھی ہونے کا کہا جا سکتا ہے‘ ہر خطرناک بات صحیح ثابت ہو رہی ہے اور ہر مثبت بات ناممکن۔ وجہ اسکی صرف یہی ہے کہ پاکستان کو اندر باہر سے گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ اندرونی انتظام متوازن نہیں رہا اوپر سے مہنگائی کا دیو غریبوں کو قابو کئے ہوئے ہے۔
بہرحال ان حالات میں وزیراعظم کا بیان زبانی ہی سہی‘ کچھ نہ کچھ باعث تسکین ہوتا ہے اور بیچارے عوام الناس کی یہ حالت ہے کہ ’’جھوٹ کہہ دو میرا دل رکھ لو‘‘ خدا کرے کہ اداروں میں تصادم نہ ہو اور نا ہی فوج آئے۔ بجلی کے بحران پر بھی قابو پالیا جائے اور مہنگائی کم کرنے کیلئے بھی وزیراعظم صاحب کوئی مربوط منصوبہ بنالیں مگر ایک سچ جو لوگوں کے سروں پر منڈلا رہا ہے‘ وہ پاکستان کی عدم خودمختاری ہے۔ امریکہ کا وجود پاکستان میں ایک ایسا بھوت ہے‘ جو مسائل کو جنم تو دے سکتا ہے‘ حل نہیں کرنا چاہتا۔ یہ بات سچ ہے کہ پاکستان کسی طرح کے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سارے ادارے اگر مل کر کوشش کریں تو پاکستان میں اداروں کے تصادم کو بچایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے مسائل کا حل امریکہ سے اس خطے کو خالی کرنے میں ہے جو کہ سردست ممکن نہیں نظر آرہا۔ شاید ہم پر اس وقت کسی جن کا سایہ ہے۔
٭…٭…٭…٭
وکلاء نے کہا ہے‘ این آر او فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہوا تو 28 جنوری کو ملک گیر ہڑتال کی جائیگی اور 13 فروری کو اگلے لائحہ عمل کا اعلان ہو گا‘ اداروں کا تصادم چاہتے ہیں‘ نہ مارشل لائ۔
وکلاء نے ماضی قریب میں بڑی خدمات انجام دی ہیں اور قوم کی بیداری میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ مگر وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ وہ نہیں چاہتے کہ اداروں کا تصادم ہو یا مارشل لاء آئے‘ کیونکہ اگر ایسا ہوا تو یہ این آر او پر عمل نہ کرنے سے بھی بڑا خطرہ ہوگا لیکن احتیاط رہے کہ شیشے کا نازک گھر ٹوٹ نہ جائے۔
شہید بی بی نے بڑا صحیح کہا تھا کہ امریکہ اپنے ملک کو جائے‘ ہم اپنے مسئلے خود حل کرلیں گے‘ وکلاء چاہیں تو اس مطالبے کو بھی پیش نظر رکھ سکتے ہیں۔ عدالتی فیصلے پر عمل ضرور ہونا چاہئے مگر یہ بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ پاکستان دشمن قوتیں جو اندر باہر موجود ہیں‘ یہ چاہتی ہیں کہ این آر او سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ملک میں مارشل لاء یا اداروں میں تصادم کا سبب بنایا جائے۔ یہ اب ہمارا کام ہے کہ یہ عمل اس قدر احتیاط سے ہو کہ ملک افراتفری کی نذر نہ ہو جائے۔
بھارت پاکستان پر حملے کیلئے پر تول رہا ہے‘ اس نے پانی کا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے اور وہ دھمکی بھی دے چکا ہے‘ اس لئے احتیاط لازم ہے۔
وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے‘ شواہد سامنے لائیں‘ بلیک واٹر کی موجودگی پر استعفیٰ کے وعدے پر قائم ہوں۔
اگر وزیر داخلہ چڑھتے سورج کو اندھیری رات کہیں‘ تو پھر یہی ایک حل ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ غضب خدا کا کہ امریکہ کا ایک ذمہ دار وزیر دفاع رابرٹ گیس پوری دنیا کے سامنے اعلان کر چکا ہے کہ پاکستان میں بلیک واٹر موجود ہے اور ہمارے وزیر داخلہ خدا جانے اس سے بڑھ کر بڑا ثبوت زیادہ شواہد اور کیا چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ کا تو کام ہی یہی ہے کہ وہ پاکستان میں غیروں کو داخل نہ ہونے دیں مگر جو داخل ہو رہے ہیں‘ شاید وہ انکے اپنے ہیں‘ اس لئے پاکستان شارع عام بن چکا ہے۔
ملک صاحب سے کسی کو دشمنی نہیں کہ خواہ مخواہ انکے استعفے کا مطالبہ کرے لیکن یہ بات آن ریکارڈ ہے کہ وہ ماضی میں بلیک واٹر کی موجودگی کا اعلان کر چکے ہیں اور اب انکار کر رہے ہیں۔ اگر بلیک واٹر پاکستان میں موجود نہیں تو ان سے تربیت حاصل کرنے والے اہلکار وزیراعظم کی سیکورٹی پر کیسے موجود کئے گئے ہیں‘ اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ بلیک واٹر ہماری حفاظت کیلئے ہے تو یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے یہ کہا جائے کہ آئی ایس آئی اوبامہ کی حفاظت پر مامور ہے‘ امریکہ وہ ملک ہے‘ جس نے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے اور اب اسکی یہاں موجودگی سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے حکمرانوں میں اتنی جرأت نہیں کہ اسے ملک سے نکال باہر کریں۔
٭…٭…٭…٭
نوابزادہ منصور احمد نے کہا ہے‘ موجودہ حکومت مشرف دور سے بھی بدتر ہے۔
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘ ہمارے حالات اتنی تیزی سے بگڑتے جا رہے ہیں کہ جیسے کسی کو سابقہ بدمعاش موجودہ بدمعاش سے بہتر نظر آنے لگے۔ مشرف قوم کا مجرم ہے‘ این آر او کا موجد ہے اور امریکہ کو ملک میں داخل کرنے والا مگر موجودہ حکومت نے اس کے کئے ہوئے جرموں کا کیا مداوا کیا‘ اس سے تو یہ بھی نہ ہو سکا کہ اسے بلوا کر کٹہرے میں کھڑا کر دے‘ بہرحال یہ بات بھی جھوٹ نہیں کہ اسکے دور میں پھر بھی اک کنٹرول نظر آتا تھا‘ مسائل تب بھی تھے مگر ان کی صورت اتنی گھمبیر نہ تھی‘ جتنی اب ہے۔
پلے بوائے صدر مشرف کے دور میں اداروں کے درمیان ٹکرائو کا خدشہ پیدا نہیں ہوا تھا‘ امریکہ اس سازش میں مصروف ہے کہ ملک کے چار صوبے ہیں‘ اسے چار حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ بنیادی بات جو اسرائیل اور بھارت امریکہ کے تعاون سے کرنا چاہتے ہیں‘ وہ پاکستان کے وجود کو مٹانا ہے‘ وجہ یہ ہے کہ امریکہ کو نظریاتی ملک برداشت نہیں حالانکہ اسرائیل بھی ایک نظریاتی ملک ہے‘ مگر کیا یہ حقیقت نہیں امریکہ اسرائیل سے خائف ہے‘ امریکہ اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ اندرون خانہ اکھنڈ بھارت پر کام کر رہے ہیں تاکہ نہ رہے بانس‘ نہ بجے بانسری۔ کشمیر کا مسئلہ ختم ہو جائے اور پانی کا جھجٹ باقی نہ رہے۔