تازہ ترین:

پیر ‘ 1433ھ‘26 دسمبر 2011ئ

سر را ہے …پروفیسر اسرار بحاری ـ 26 دسمبر ، 2011
مصر میں اسلام پسند پارٹیوں نے 90 فیصد نشستیں حاصل کرلیں۔
کفر بیچارہ اپنے کفر کا کفارہ ادا کرے وگرنہ اس دنیا کی ہر اینٹ کے نیچے سے مسلمان‘ اسلام بدوش برآمد ہو گا۔ باطل کے کئی نام ہیں‘ ہم انہیں نہیں دہرائیں گے لیکن تاریخ یہ ضرور دہراتی رہے گی کہ آخرکار فتح حق کی ہے جس کا آغاز ہو چکا ہے۔ فرعونوں کی بستی‘ حق پرستی کی مستی میں ڈوب جائیگی‘ مصر جہاں حسنی صاحب نے شاہ ایران کا روپ دھار رکھا تھا‘ وہ بے چارے نیل کے منظر کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔ قاہرہ کو تہران کی طرح گلاب رنگ بستی بنا دیا تھا اور دنیا بھر سے عیاش وہاں آکر دیکھتے نیل کو اور پیاس رنگ و رقص و آہنگِ قاہرہ سے بجھاتے۔ مگر پھر اس سرخ نگری میں ایسی سرخ آندھی چلی کہ وہ فراز گردن آمر سٹریچر پر ہے‘ پاکستان پر بھی امریکہ کی نظر تھی لیکن عوام کا رنگ دیکھ کر وہ کچھ رک سا گیا ہے۔
اسے کہتے ہیں‘ عوامی طاقت جس کو تائید ایزدی حاصل ہوتی ہے‘ بشرطیکہ وہ شر کےخلاف مارچ شروع کر دے۔ قرآن نے تو تمام سیاسی بالادستی کے طریقے بتا دیئے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے عوام کو علماءنے اللہ کی سنت اور طریقہ وارداتِ سے آگاہ ہی نہیں کیا اور....
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت خرافات میں کھو گئی
64 برس ہم نے لیڈروں کی طرف دیکھا‘ اپنی قوت کی طرف نہیں دیکھا‘ یہی وجہ ہے کہ وہ کونسی مصیبت نہیں جس کا ہمیں سامنا نہیں۔ ہمارے ہاں دینی مدارس گرانے کی باتیں تو شروع ہو چکی ہیں‘ مصر تیونس کی مثال تو واضح ہے‘ ابھی اور کئی مثالیں واضح ہونگی اور باطل کے مصالحہ جات سے اسکی اپنی ہی ہانڈی بگڑ جائیگی۔ ہمیں کیا پرواہ کہ ہم تو آئے ہی دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے کہ یہی کتابِ حق کا فیصلہ ہے لیکن کیا ہم وہی ہیں؟ جن کو اہل حق کہا جاتا ہے۔ فاعتبروایا اولی الابصار۔
٭....٭....٭....٭
امریکی اخبار ”دی لاس اینجلس“ نے لکھا ہے‘ پاکستان سے کشیدہ تعلقات بہتر بنانے کیلئے ڈرون حملے معطل کئے گئے‘ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ انکوائری کرنیوالے نے ہی سلالہ پوسٹ پر حملے کا حکم دیا۔ یہ رپورٹ مشکوک ہے۔
منافقت کا رویہ‘ طوائف کی رات جیسا ہوتا ہے کہ صبح ہوتے ہی بدل جاتی ہے۔ امریکی اخبار ہو یا نجی ٹی وی‘ دونوں کو یک رنگ سمجھا جائے تو بات سمجھ میں آجاتی ہے۔ پاکستان تو ڈرون حملے بند نہ کرا سکا‘ لیکن یہ حملے کرنیوالوں نے پاکستانی عوام کی نفرت سے ڈر کر سردست یہ حملے بند تو نہیں‘ معطل کردیئے ہیں۔ امریکہ پاکستان سے تعلقات کیلئے اس لئے بے تاب ہے کہ وہ اسے مرنے دے‘ نہ جینے دے۔ اس لئے پاکستان کے حکام اب اپنی زلفیں امریکی بوٹوں تلے سے کھینچ لےں‘ اسی میں پاکستان کا مفاد پوشیدہ ہے۔
کسی کو چھیڑنے کیلئے پہلے اس سے تعلقات بنائے جاتے ہیں اور جب رابطے مضبوط ہو جائیں اور کوئی کمزوری ہاتھ آجائے تو پھر چھیڑ خوانی شروع کردی جاتی ہے۔ امریکہ آخر کیوں پاکستان سے زبردستی رومانس قائم رکھنا چاہتا ہے؟ شاید اس لئے کہ یہاں کے لوگ اس سے نفرت اور حکمران محبت کرتے ہیں اور محبت کے ایک ایک لمحے کو کیش کراتے ہیں۔ جب کوئی کسی کے کٹورے میں مسلسل پیسے ڈالتا رہے تو کٹورا گروہ لنڈورا بن جاتا ہے اور چوہا اسی لئے تو کہتا ہے کہ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ امریکہ نے 64 برس سے ہمارے حکمرانوں کو ایک ہی سبق دیا کہ اپنا سوچو ملک کی پرواہ نہ کرو‘ ہم ہیں نا! یہ بات بعید ازقیاس نہیں کہ سلالہ پوسٹ کا قاتل ہی اس کا منصف بنایا گیا کہ یہ بات امریکی کنچن سے بعید نہیں۔ امریکہ ہنوز اللہ کے فضل سے پاکستان کو برباد نہیں کر سکا‘ حالانکہ ہمارے حکمرانوں اور اس نے مل کر اپنی سی کوشش کر دیکھی۔
٭....٭....٭....٭
شاہ محمود قریشی کہتے ہیں‘ زرداری لیڈر نہیں حادثے کی پیداوار ہیں۔ وزیراعظم بھی مخدوم نہیں‘ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ صدر کی تعلیم گریجوایشن بھی نہیں‘ بلاول زرداری کو مشورہ دوں گا کہ وہ سیاسی حوالے سے اپنے والد کے سائے سے بھی دور رہیں۔
اگرچہ یہ ساری باتیں مخدوم صاحب کو پہلے بھی معلوم تھیں لیکن انہوں نے اس وقت افشا کیں‘ جب وہ وزارت خارجہ سے الگ ہوئے۔ بلاول زرداری کے والد محترم ممکن ہے کہ بی اے پاس نہ ہوں مگر وہ اگر آٹھ برس جیل میں رہ کر بھی سیاست دان نہیں‘ تو یہ بے انصافی ہو گی کہ انہیں حادثاتی لیڈر کہا جائے اور یہ جو مخدوم کا تنازعہ ہے تو مخدوم وہ ہوتا ہے جس نے عوام کی زندگی بھر خدمت کی ہو‘ اس لئے ہم تو کہیں گے کہ خدمت گیلانی نے کی‘ نہ محمود نے‘ اس لحاظ سے دونوں مخدوم نہیں کیونکہ دونوں کبھی خادم نہیں رہے جبکہ فارمولا یہ ہے کہ ”ہر کہ خدمت کرد اومخدوم شد“ اگر مخدوم ہونا بھی ہماری سیاست کی طرح موروثی ہے تو پھر چوک حسین آگاہی میں ریفرنڈم کرالیں۔ ملتان کے لوگ خود ہی بتادیں گے کہ حقیقی مخدوم کون ہے؟
لوگوں نے تو ابھی تک وزیراعلیٰ پنجاب کو مخدوم نہیں مانا جنہوں نے ڈینگی دور میں لوگوں کی بڑی خدمت کی اور مخدوم بننے کیلئے خادم اعلیٰ بھی کہلواتے ہیں لیکن اصل بات ہے‘ خدمت‘ اگر اس ملک میں کوئی بھی عوام کی خدمت ثابت کر دے اور خدمت نظر بھی آئے تو وہ بلاشبہ مخدوم ہے مگر بقول وارث شاہ....
ایسا کوئی نہ ملیا میں ڈھونڈ تھکی
جیہڑا مخدوماں کولوں خدمت کراندا ای
٭....٭....٭....٭
قائداعظم کا یوم ولادت کل ایوان کارکنانِ پاکستان میں منایا گیا۔ جناب مجید نظامی نے کیک کاٹا۔
نظامی صاحب نے کیک کاٹا اور ہم یہاں بوکاٹا کرتے رہے۔ یونہی خیالی پتنگیں اڑاتے رہے کہ شاید وہ متبرک کیک جو مردِ صحافت نے کل کاٹا‘ اسکی خوشبو ہی ہم تک پہنچ جاتی لیکن ....ع
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
اہل پاکستان کیلئے یوم ولادت کی تقریب سب سے بڑا جشن ہے اور اس روز تو ہر گھر میں کیک کاٹا جائے‘ بچوں کو بتایا جائے کہ اس کیک کی تفصیلات کیا ہیں اور یہ کیوں کاٹا جا رہا ہے۔ کیک کے کٹنے سے ایک رات پہلے ہمیں کیک کی یاد میں یہ گیت یاد آیا....
کاٹے نہ کٹیں رے رتیاں سیاں انتظار میں
ہائے ہائے میں تو مر گئی بیدردی تیرے پیار میں
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter