جمعرات،15 ؍رمضان المبارک‘1431ھ‘26 ؍ اگست 2010ء

ـ 26 اگست ، 2010
سانحہ سیالکوٹ کے سلسلے میں آر پی او ذوالفقار چیمہ کو تبدیل کر دیا گیا۔
کل تک جس ذوالفقار چیمہ کی حکومت بلائیں لے رہی تھی اور تمغہ جات و انعامات سے نوانے کی باتیں کر رہی تھی‘ آج اسی حسن کارکردگی کے مالک آر پی او کو سیالکوٹ کے سانحے کی پاداش میں تبدیل کر دیا گیا۔ حالانکہ بچوں کے والدین نے ان پر اظہار اعتماد کیا تھا۔
یہ تو حکومت ان ضلعوں کے عوام سے پوچھے کہ وہ چیمہ صاحب کی نگرانی میں کس قدر چین کی نیند سوتے تھے اور گوجرانوالہ‘ گجرات‘ سیالکوٹ منڈی بہاء الدین جو کبھی چوروں‘ ڈاکوئوں‘ رہزنوں‘ ظالم جاگیرداروں اور رسہ گیروں کی آماجگاہ تھے‘ ان کو اس طرح دھو ڈالا کہ جیسے سرف ایکسل سے میلا کپڑا صاف کیا جاتا ہے۔ اب انہیں اس بہترین کارکردگی کے باوجود تبدیل کر دیا گیا ہے تو یہ چاروں اضلاع پھر سے آفت زدہ ہو جائیں گے اور یہاں کے مکین حکومت کو ’’دعائیں‘‘ دینگے کہ…؎
عمرت دراز باد فراموش کار من (تیری عمر دراز ہو مجھے بھلا دینے والے) ذوالفقار چیمہ پولیس کی کالی بھیڑوں میں شیرِ نر ہیں‘ انہیں ان کی خدمات کا صلہ یوں ملا کہ انہیں ہٹانے کیلئے شاید سانحۂ سیالکوٹ کا سہارا لیا گیا۔
٭…٭…٭…٭
بی بی سی نے کہا ہے‘ بعض گروہ سیلابی المیے کو سنہری موقع سمجھ کر اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں۔ بعض محض سیمیناروں اور بیانات کے ذریعے مصیبت زدگان کی مدد کر رہے ہیں۔
بی بی جی کی بعض باتیں صحیح بھی ہوتی ہیں‘ اس لئے کہ ہم ان کو اپنے آس پاس دیکھ سکتے ہیں۔ سب کہاں مگر بعض گروہ واقعی اپنا ذاتی ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں اور قومی جھنڈا سرنگوں کر رہے ہیں اور یہ کیا بوالعجبی ہے کہ سیلاب زدگان پر سیمیناروں کے ذریعے انکی مدد کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو مشاعرے بھی کرائیں‘ جو لوگ دل میں درد رکھتے ہیں اور وطن سے محبت‘ وہ پانی میں اتر کر ڈوبتوں کو سہارا دے رہے ہیں اور انہیں ضروری اشیاء پہنچا رہے ہیں۔
اشرافیہ اور حکمرانوں نے ابھی تک اپنی تجوریوں کو ہوا نہیں لگوائی‘ وگرنہ یہ کشکول جو ہم لے کر دربدر پھر رہے ہیں‘ ٹوٹ چکے ہوتے اور ہم ثواب دارین لوٹ چکے ہوتے۔ حکومت نوٹس تو لے رہی ہے مگر اسکے باوجود سیلاب زدگان کو ڈاکو چور لٹیرے لوٹ رہے ہیں اور ایک روٹی کی قیمت 20 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ دلدوز واقعہ کیسے بھلایا جا سکتا ہے کہ بعض ظالموں نے نشہ آور چیز کھلا کر ایک خاندان کی چار بیٹیاں اٹھا لی ہیں‘ وزیر اعلیٰ توجہ فرمائیں۔
سابق وفاقی وزیر نسیم آہیر نے وطنِ عزیز کو لاحق انہی امراض کے پیدا کردہ حالات کی مناسبت سے منیرنیازی کی ایک نظم ’’ایہہ گلاں ہن کرن دیاں نئیں‘‘ مدیر سرراہے کو بھجوائی ہے‘ ملاحظہ کیجئے اور عبرت لیجئے۔
کس دا دوش سی
کس دا نئیں سی
ایہہ گلاں ہن کرن دیاں نئیں
ویلے لنگھ گئے توبہ والے
راتاں ہوکے بھرن دیاں نئیں
جو ہو یا ایہہ ہونا ای سی
ہونی روکدیاں رکدی نئیں
ایک بار جدوں شروع ہو جائے
گل پھر ایویں مکدی نئیں
٭…٭…٭…٭
ہمارے ہاں حکمران طبقہ کو اشرافیہ کہا جاتا ہے‘ کیونکہ زمانۂ قدیم سے روایت چلی آرہی ہے کہ خلیفۂ راشد سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے کان میں آواز پڑی کہ فلاں گھر میں کئی روز سے چولہا نہیں جلا‘ کھانا نہیں پکا- تو خلیفہ وقت سیدنا عمر فاروقؓ جن کے جلال سے قیصر و کسریٰ کانپتے تھے‘ اپنے کندھوں پر آٹے کی بوری اٹھا کر لائے اور متاثرہ خاندان سے شکوہ کیا کہ انہوں نے اپنی مشکلات سے انہیں آگاہ کیوں نہ کیا اور بیت المال سے اس خاندان کی مدد کی۔ مگر اب ہمارے حکمران ہیں کہ انہوں نے سیلاب زدگان کی مدد کرنے کیلئے امداد کا سامان کو اکٹھا کرلیا ہے مگر ان کا حوصلہ نہیں پڑتا کہ یہ امداد تقسیم کر دیں۔ جہاں جہاں جس جس علاقہ میں امداد کی ضرورت ہے‘ اسے فوری طور پر تقسیم کر دیا جائے تاکہ اس امداد کی آمد سے قبل جو لوگ تکلیف میں وقت گزار چکے ہیں‘ انکی مشکلات ختم ہوں اور اب تو یہ سہولت ہے کہ کسی حکمران کو آٹے کی بوری کندھوں پر اٹھا کر نہیں لے جانی پڑیگی‘ موٹر کاریں‘ ٹرک‘ ہیلی کاپٹر اور 130-C طیارے موجود ہیں‘ حکمرانوں نے صرف اشارہ ہی کرنا ہے۔
٭…٭…٭…٭
پاکستان کے عوام نے بڑی طویل جدوجہد کرکے فوجی آمروں سے جان چھڑائی ہے‘ اس پر الطاف بھائی نے پاکستان میں جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی ختم کرنے کیلئے فوجی جرنیلوں سے مدد مانگ لی ہے‘ بعض لوگوں نے اسے مارشل لاء کو دعوت دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔
ویسے ہمارا اندازہ یہی ہے کہ الطاف بھائی جیسا تجربہ کار اور سنجیدہ سیاست دان جو جمہوریت کی خوبیوں اور مارشل لاء کے نقصانات سے خوب آگاہ ہو‘ وہ مارشل لاء کو دعوت کیسے دے سکتا ہے؟ الطاف بھائی کو جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی کیخلاف کوئی مثبت عمل کرنا ہی ہے تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کریں‘ عدالتیں قرآن و سنت کی روشنی میں ایسے مسائل حل کر سکتی ہیں۔ اور پھر رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے زیادہ ’’مساوات‘‘ کا حامی کون ہو سکتا ہے‘ سماجی ہمواری اور مساوات دونوں اسلام کی آن اور شان ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter