بدھ ‘7؍ذی الحجہ 1430 ھ‘ 25 ؍ نومبر 2009ء
ـ 25 نومبر ، 2009
لاہور میں پابندی کے باوجود رات گئے تک شادیاں جاری ہیں۔ پولیس کارروائی نہیں کرتی۔ لوگوں نے رات دس بجے تک شادی تقریبات ختم کرنے کی ڈیڈ لائن ہوا میں اڑا دی۔
پولیس والوں کو شاید ون ڈش اڑانے کی اجازت مل جاتی ہو۔ اس لئے وہ کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ ون فائیو (15) پر کئی بار شکایات درج کرائی گئیں مگر پولیس نہیں آئی اور بیمار افراد شورشرابے سے پریشان رہے۔ ڈانس بھنگڑوں کے باعث مکینوں کا جینا حرام ہو گیا وزیراعلیٰ رات 10بجے کی پابندی پر عملدرآمد کرائیں۔ یہ شہریوں کا مطالبہ ہے شادیوں کی تقریبات مبارک ہوتی ہیں مگر جب تک وہ شادیاں رہیں اور اخلاقی حدود کے اندر منعقد ہوں۔ ہفتہ کے روزپانچ ہزار شادیاں ہوئیں اب اس کے بعد آٰبادیاں ہونگی پھر اسے ڈبل شادیاں ہونگی اور یوں سارا ملک شادو آباد ہو جائے گا۔ لاہور کے لوگ چاہے ادھار بھی لینا پڑے شادیاں وج گج کے کرتے ہیں حیرانی ہے کہ غربت اور افلاس کے باوجود شادیوں کی ہماہمی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ون ڈش کی پابندی برائے نام ہی ہے۔ جس ملک میں جرائم معاف کرنے کی رسم کو قانون بنا دیا جائے وہاں کوئی شادی لگی پابندی کیسے روکے گا۔ لوگ بھلے شادیاں کریں مگر10بجے تک کریں10بجے کے بعد نکاح ٹوٹنے کا فتویٰ دے دیا جائے۔
اب یہی طریقہ رہ گیا ہے10بجے کی ڈیڈ لائن پر عمل کرانے کا۔ اس طرح بارات وقت پر آئے گی۔ کھانا وقت پر ملے گا۔ نکاح اور رخصتی بھی وقت پر ہو جائے گی۔ آج کل تو سردیوں کا موسم ہے بے چاری دلہنیں بھی ٹھٹھر ٹھٹھر کر انتظار کی گھڑیوں سے بچ جائیں گیں۔ ویسے بھی دولہا دلہن میں فاصلہ بڑھانا غیر اسلامی ہے۔
٭…٭…٭…٭
چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ سوات کو دوبارہ سیاحتی مرکز بنائیں گے۔ دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ عوام کو نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔
خدا جانے پاکستان کے شہریوں کے کس کس نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ غربت بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی چڑھ رہی ہے۔ سیاست کے میدان میں وہ کچھ ہو رہا ہے کہ جس کا نام لینا بھی شرم ناک ہے۔ بہر حال جنرل کیانی کو مبارک ہو کہ انہوں نے سوات کو فتح کر لیا اور سواتیوں کو ٹھنڈے موسم میں گرما گرم زندگی عطا کر دی۔ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ جن دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا گیا وہ کون تھے اور یہ جو ملک بھر میں آپریشن کئے گئے یہ کس کو خوش کرنے کیلئے کئے گئے چلو اچھا ہوا سوات دوبارہ سیاحتی مرکز بن جائے گا حالانکہ اس کے اپنے رہنے والے باہر ہونگے۔ اگر ہم نے امریکہ کی تابعداری نہ کی ہوتی اور جنرل مشرف کی غلطیوں پر عمل نہ کیا ہوتا تو آج ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ ہمیں پاک فوج پر فخر ہے مگر وہ بھی کیا کرے کہ اس ملک میں ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی فوج حکومت کے ساتھ مل کر ترقیاتی کاموں میں حصہ لے عوام کے نقصان کا ازالہ کرے۔……
٭…٭…٭…٭
قائم مقام اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کو غیر ملکی ایجنسیوں سے خطرہ ہے۔
جب ڈاکٹر قدیر کا کھلونا محفوظ نہیں ان کی حفاظت کون کرے گا؟ قائم مقام اٹارنی جنرل نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کو غیر ملکی ایجنسیوں سے خطرہ ہے۔ اس لئے کہ حفاظت انکی کی جا رہی ہے جن کوحفاظت کی ضرورت نہیں۔ محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان نے پاکستان کو کن بلندیوں پر فائز کر دیا مگر افسوس صد افسوس کہ ابھی تک ان کے شایان شان قدر افزائی نہیں کی گئی کوئی اورقوم ہوتی تو کتنے جشن منائے جاتے اور اپنے محسن کو کس قدر خراج عقیدت پیش کیا جاتا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے ہمیشہ ہیرا پھینکا اور پتھر اٹھایا۔ حکومت اپنے گورکھ دھندوں میں مصروف ہے۔ اسے کیا غرض کہ وہ قدیر خان کی حفاظت کرے۔ خان صاحب نے جو معرکہ سر کیا یہ اسی کا ثمر ہے کہ آج ’’بنیا‘‘ برابر لیول پر پاکستان سے بات کرتا ہے۔ افسوس کہ ملک بھر میں کوئی ایسا کام نہیں ہو رہا کہ جسے کارنامہ کہا جا سکے۔
٭…٭…٭…٭
راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات کر رہے ہیں جس کا مقصد سستی بجلی فراہم کرنا ہے۔ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کیلئے ثمر مبارک کی سربراہی میں بورڈ بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
پانی سے تو بجلی بنا نہ سکے اب کوئلے سے بنا کر بھی دیکھ لیں۔ ثمر مبارک مند پاکستان کے مایہ ناز سائنس دان ہیں۔ دیکھتے ہیں وہ کب تک زمین کی گہرائیوں سے کوئلہ نکال کر قوم کو سستی بجلی فراہم کرتے ہیں۔ وطن پاک وسائل سے بھرا پڑا ہے مگر کوئی پسند نہیں کرتا کہ ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔ تھر کے علاقے میں کوئلے کے جو ذخائر موجود ہیں ان سے بجلی پیدا کرنے کا سلسلہ کالا باغ ڈیم کی طرح غتر بود نہ ہو جائے۔
ملک میں معدنیات اور افراد کی کمی نہیںمگر بنانے والے کوئی نہیں اجاڑنے والوں کی کمی نہیں۔ اس ملک کو اللہ نے 4موسم دیئے خوبصورت سرزمین دی مگر اس پر حکمرانی کرنے والوں نے صرف اپنی تجوریوں پر نگاہ رکھی۔ کیا ہم ہمیشہ شکوے شکایتیں ہی کرتے رہینگے اور ملک کی ترقی کی کوئی بڑی نوید نہیں سنائیں گے۔ جب تک مجرموں کو سزا نہیں ملتی چور بازاری عام رہے گی۔ غریب آدمی کے لئے ہر روز مہنگائی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں