مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماءاحسن اقبال فرماتے ہیں: ناقص ادویات سے ہلاکتیں نیا واقعہ نہیں‘ دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے۔
احسن اقبال سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ کیا دنیا میں ناقص ادویات سے ہلاکتیں ہوتی ہیں؟ لیکن وہ اپنے بن پوچھے بیان میں یہ مان گئے کہ ادویات ناقص تھیں۔ اگر ناقص تھیں تو کیا انکی صوبائی حکومت کے ماتحت انتظامیہ بھی ناقص ہے کہ ان پسندیدہ کمپنیوں سے پنجاب کارڈیالوجی جیسے شفاف ادارے کو دونمبر دواﺅں سے بھر دیا۔ تقریباً 28 تو ان ادویات نے مار دیئے‘ پچاس مزید موت و حیات کی کشمکش میں ہیں۔ اللہ ان کو زندگی دے۔
احسن اقبال کے بیان سے آج معلوم ہوا کہ وہ کتنے ترس والے‘ انسانیت دوست اور ہمدرد انسان ہیں اور اپنے گریبان میں اسکے باوجود جھانک رہے ہیں کہ گریبان چاک ہے۔ پنجاب حکمران خادم کچھ کہہ رہے ہیں اور عزیزی کچھ۔ اللہ ایسے دوستوں سے محفوظ رکھے۔ مزید تین مریض جاں بحق ہو گئے گویا کتنی ہی ”اصلی“ ادویہ ساز کمپنیاں زندہ و تابندہ ہیں کہ پیسہ آخر پیسہ ہے‘ اس طرف جائے یا اس طرف کو راضی کرے۔ اپنی چمک دکھاتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ 28 انسانوں کا قتل احسن اقبال نے بطریق احسن سرے سے کوئی سیریس معاملہ ہی نہ سمجھا اور شان بے پروائی سے کہہ دیا کہ ایسا تو ساری دنیا میں ہوتا ہے جبکہ یہ بھی جھوٹ ہے۔ دنیا میں دو نمبر ادویات کا وجود نہیں کہ بڑی کڑی سزا دی جاتی ہے۔
احسن صاحب تو ملکہ ہند نورجہاں کا رول پلے کر رہے ہیں جسے شہزادہ سلیم جہانگیر نے دو کبوتر پکڑائے اور خود دوسرے کبوتروں کے پیچھے چلا گیا۔ جب واپس آیا تو نورجہاں کے ہاتھ میں ایک ہی کبوتر تھا۔ شہزادے نے پوچھا‘ دوسرا کہاں ہے‘ نورجہاں نے کہا‘ اڑ گیا‘ شہزادے نے سوال کیا کیسے؟ نورجہاں نے دوسرا بھی اڑا کر کہا یوں! گویا شاہانہ ادا ہے‘ احسن اقبال کی کہ 28 بندے مر گئے تو کیا ہوا‘ انسان مرتے ہی رہتے ہیں‘ اس معاملے کی تحقیق راجہ ریاض سے کرائی جائے۔
٭....٭....٭....٭
چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا ہے‘ ملک پرائے گھر کی طرح چلایا جا رہا ہے۔ عدالت عظمٰی کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔
برا بھلا اچھے کو بھلا کیسے کہے گا؟ حافظ نے یوں ہی تو نہیں کہا تھا....
تو و طوبیٰ و ما و قامتِ یار
فکر ہر کس بقدر ہمتِ اوست
(ایک طرف تو ہے‘ تیری جنت ہے اور دوسری طرف ہم اور قامت یار ہے‘ ہر شخص کی فکر کی رسائی اسکے کردار کے مطابق ہوتی ہے)
اس لئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہمت و عزیمت سے کرسی انصاف پر ڈٹے سیاہ گھٹا میں بجلی بن کر چمکتے کڑکتے رہیں‘ انکی پشت پر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ افراد کے ہاتھ ہیں۔ اب عوام طاقت کا سرچشمہ ہونے کا ثبوت دینے سے نہیں چوکیں گے۔ اس ملک کو پرائے گھر کی طرح چُرایا جا رہا ہے اس لئے اسلامی قانون سے استفادہ کیا جائے۔ جو قرآن نے واضح بیان کر دیا ہے۔ اس وقت وطن عزیز سے غلاظت کی صفائی کا جزوی آغاز ہو چکا ہے۔ لوگ تعاون کریں تو کلین سویپ ہو سکتا ہے۔
وہ گھر جس میں صرف غریبوں اور متوسط طبقے کے گھر ہیں‘ باقی مہمان ہیں‘ آتے ہیں‘ چلے جاتے ہیں۔ پاکستان انکی روٹی‘ عیاشی ہے جسے وہ باہر کی دنیا میں کھاتے اور انجوائے کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ سے عناد رکھ کر جو توہین ظاہر کی جا رہی ہے‘ وہ ایک انتقام ہے‘ رنگ میں بھنگ ڈالنے کا۔ یہ رنگ تو رنگ ہے‘ رنگبازوں کا۔ منصف کب اسے چھیننے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ اب عدلیہ بحیثیت مجموعی اس گمراہ کن رنگینی میں رنگے جانے سے بچے اور نیچے سے بھی اپنے آپ کو اوپر جیسی بنائے....
عقل کو ملتی نہیں اپنے بتوں سے نجات
عارف و عامی تمام بندہ لات و منات
٭....٭....٭....٭
راولپنڈی سے لاپتہ ہونیوالے چھ طلبہ و طالبات پشاور کے ہوٹل سے برآمد۔ لڑکے لڑکیاں اپنی مرضی سے گئے‘ عدالت میں پیش کردیا گیا۔ ہوٹل چوکیدار کی اطلاع پر برآمد ہونےوالے بچے راولپنڈی پولیس کے حوالے کر دیئے گئے۔
یوں لگتا ہے کہ یہ موج میلہ لڑکے لڑکیاں گویا آسمان سے گرے اور ایک ہوٹل کے کمرے میں یکمشت گرے۔ شاید راستے میں کوئی کھجور کا درخت نہ تھا۔ ظاہر ہے یہ جس سکول کے طلبہ ہونگے‘ وہاں مخلوط تعلیم ہو گی اور جہاں مخلوط تعلیم ہوتی ہے‘ وہ تو اونچے لوگوں کا اونچے درجے کا سکول ہو گا۔ انہوں نے تربیت بعض ٹی وی چینلز سے حاصل کی ہو گی اور انکے والدین نے جس لاپرواہی کا مظاہرہ کیا‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے ان کو بھی ایک دوسرے کا پتہ نہیں ہوتا ہو گا کہ کون کدھر ہے؟
بچے تو نازک شاخِ خیزران کی طرح ہوتے ہیں‘ جسے جدھر موڑو مڑ جاتی ہے۔ بے راہروی میں سیلاب آیا ہوا ہے اور راوی خشک ہے۔ کسی کو بھی دونوں کی پروا نہیں۔ اگر منظر وطن یہ ہو گیا ہے تو کہیں آثار قیامت ظاہر ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں‘ ہمارے ہاں تو ظاہر بلکہ باہر ہو چکے ہیں۔ آثار اس لئے باہر ہیں کہ دولت اندر ہے۔ راولپنڈی کی یہ طالبات اور طلبہ عیش و نشاط کو نکلے تھے‘ یہ گاتے ہوئے....
پنچھی بنوں اڑتی پھروں مست گگن میں
آج میں آزاد ہوں دنیا کے چمن میں
والدین کرام اپنے بچے بچیوں پر بچپن ہی سے نظر رکھیں‘ انکی بھی اور اپنی بھی اچھی تربیت کریں اور اس طرح لڑکے لڑکیوں کو ہوٹلوں تھانوں کے ہاتھ نہ لگنے دیں کہ جسے ایک دفعہ ہاتھ لگ گئے۔ پھر وہ ”لگے گئے جے“۔ بالخصوص ہم لڑکیوں سے عرض کرینگے کہ وہ زیادہ غیرمحفوظ ہوتی ہیں اس لئے اپنے عورت پن کی حفاظت کریں۔ اگے تیرے بھاگ لچھیئے۔