تازہ ترین:

پیر ‘9؍ صفر المظفر1431ھ‘ 25 ؍ جنوری 2010ء

ـ 25 جنوری ، 2010
ڈیفنس پولیس نے گھریلو ملازمہ کو تشدد اور مبینہ زیادتی کے بعد قتل کرنے کے الزام میں ایک وکیل‘ اس کی بیوی اور بیٹے سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے تاحال وکیل صاحب گرفتار ہو گئے ہیں۔ مظاہرین نے پنجاب اسمبلی کے سامنے ٹائر جلا کر احتجاج کیا جبکہ صدر آصف علی زرداری نے گھریلو ملازمہ کی تشدد سے ہلاکت کا نوٹس لے لیا اور ورثا کے لئے 5 لاکھ امداد کا اعلان کیا۔
لاہور میں اکثر غریب بچیاں امیر لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنا رزق کماتی ہیں‘ مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکثر و بیشتر یہ بچیاں محفوظ نہیں ہوتیں‘ ان کی عزت لوٹ لی جاتی ہے اور بعد میں انہیں قتل کر دیا جاتا ہے۔ ڈیفنس لاہور میں چونکہ اکثر امیر ترین لوگ رہتے ہیں اور وہ بااثر بھی ہوتے ہیں اس لئے وہ غریبوں کی عزت اور زندگی سے کھیلنے کو ایک مذاق سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ جرم کر کے بھی بچ جاتے ہیں اور حکومت چند لاکھ روپے دے کر غریب کی عزت کا معاوضہ دے دیتی ہے۔ اگر صدر نے اس اندونہاک واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے تو پھر قاتلوں کو عبرتناک سزا بھی دلوائیں۔
٭…٭…٭…٭
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے …ع
جہندے کولوں پچھو او تنگ بیٹھا اے
وزیر اعظم کی مادری زبان سرائیکی ہے اور وہ جب اپنے علاقوں میں سرائیکی میں تقریر کرتے ہیں تو مہنگائی اور مشکلات کا تاثر تو اس میں ہی کافور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ہمیں پانچ سال کے لئے منتخب کیا ہے اور جب یہ مدت پوری ہو گی تو ہم آپ سے پوچھیں گے کہ ہم نے بینظیر کے وعدے پورے کئے یا نہیں‘ وزیراعظم یہ جواب دیں کہ تقریباً آدھی مدت تو گزر چکی ہے اور لوگوں کے سروں سے مہنگائی‘ لوڈشیڈنگ اور مشکلات گزر رہی ہیں‘ آخر وہ کب بی بی کے وعدے پورے کریں گے‘ وہ کم از کم اپنے وعدے ہی پورے کر لیں تو غنیمت ہے‘ وہ مسلم لیگ نون کے ساتھ مذاکرات کر کے بمشکل اپنی مدت کو طول دے رہے ہیں۔ آخر ایسی غیر خود مختار حکومت کیسے چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی وعدوں کو پورا کرنا خوب جانتی ہے‘ وہ پیر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں‘ کوئی دم درود کر کے ہی ایسا کر لیں تو اور بات ہے ورنہ اب تک تو اُن کے ووٹرز کی یہ حالت ہے کہ جہندے کولوں پچھو تنگ بیٹھا اے۔ یہ بات بڑی عجیب ہے کہ رحیم یار خان کے جلسے کے بعد پیپلز پارٹی کا کوئی رہنما اُنہیں رخصت کرنے نہیں آیا‘ یوں لگتا ہے کہ صدر ایک طرف جا رہے ہیں اور وزیراعظم گیلانی دوسری جانب رواں دواں ہیں۔
٭…٭…٭…٭
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چناب سے پمپس کے ذریعے پانی نکالنا بند کر دے۔
بھارت نے دریا کا مزید پانی زرعی مقاصد کے لئے استعمال کیا تو پانی کا بہاؤ پاکستان کی طرف اور کم ہو جائے گا۔ پاکستانی کمشنر برائے سندھ طاس سید جماعت علی شاہ نے کہا ہے بھارت نے پانی کی زرعی استعمال کی تفصیل فراہم نہ کی تو عالمی بینک سے ثالثی کے لئے رجوع کریں گے۔
بھارت نے کشمیر کے بعد پانی کا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے اور اس منصوبے پر عمل کر رہا ہے کہ پاکستان کی زمینوں کو بنجر بنا دیا جائے‘ بھارت پاکستان کو پانی کے معاملے میں تنگ آمد بجنگ آمد کی طرف لے جا رہا ہے‘ اس لئے پاکستان پانی کے بغیر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہو جائے گا۔ جو لوگ امن آشا مہم چلا رہے ہیں وہ کیا ان مسائل پر نظر نہیں رکھتے؟ ظاہر ہے کہ وہ اُس سازش کا حصہ بن رہے ہیں جو بھارت نے تیار کی ہے‘ اور کیا امریکہ کو اس نئی سازش کا علم نہیں کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے۔ ہمارے تینوں دریا ہمارے آمروں کے ہاتھوں بھارت کی گود میں ڈالے جا چکے ہیں اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ پاکستان پانی کے مسئلے پر بھارت کو اَلٹی میٹم دے۔
٭…٭…٭…٭
امریکہ نے کہا ہے پاکستان سیکورٹی فورسز کی کارکردگی سے خوش اور مطمئن ہے۔
پاکستان کے سترہ کروڑ عوام امریکہ کی مداخلت اور ڈرون حملوں سے ناراض ہیں‘ مگر امریکہ ہماری حکومت کی کارکردگی سے خوش اور مطمئن ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈرون طیارے گرا سکتا ہے مگر امریکہ سے الجھنا نہیں چاہتا۔ کل کلاں کو امریکہ ہمارے جوہری ہتھیاروں پر ہاتھ ڈال دے گا مگر ہم الجھنے کے ڈر سے مجبور ہوں گے۔ امریکہ بڑی تیزی سے پاکستان میں اپنا اثر و نفوذ بڑھا رہا ہے مگر حکومت نے ہماری فورسز کو اُس کی خدمت پر لگا رکھا ہے۔ امریکہ نے دنیا کو یہ تاثر دے دیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کا گڑھ ہے اور اسی آڑ میں وہ اپنے مقاصد پورے کر رہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کا بھارت میں یہ بیان انتہائی خطرناک ہے کہ پاکستان اپنی مشرقی سرحدوں سے فوج ہٹا لے‘ کیا اُس نے یہ مشورہ بھارت کو بھی دیا ہے۔ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ بھارت کے لئے پاکستان پر حملے کو آسان بنائے‘ یہ ایک غیر سفارتی بیان ہے جسے کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی ایک طرف امریکہ نے پاکستانی فوج کو اپنی جنگ میں لگا دیا ہے اور دوسری جانب وہ مشرقی سرحدوں سے پاکستانی فوج ہٹانے کو کہہ رہا ہے‘ گویا وہ دہشت گردی کے بہانے بھارت کے لئے ایسی صورت حال پیدا کر رہا ہے کہ وہ پاکستان پر بڑی آسانی سے حملہ کر سکے۔ بھارتی آرمی چیف کی دھمکی خالی دھمکی نہیں تھی بلکہ امریکہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کی مجوزہ سازش کا نتیجہ تھی‘ افواج پاکستان کے چیف سے قوم یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ امریکہ کے ہر حکم پر لبیک کہنے سے احتراز کریں اور جس قدر بھی ممکن ہو بھارت کے مقابلہ میں اپنے دفاع کو مضبوط بنایا جائے‘ اگر ڈرون طیارے ہمارے معصوم شہریوں کو مار رہے ہیں تو اپنے لوگوں کے بچاؤ کے لئے انہیں گرائیں کیونکہ انہیں گرانے کی ۔ہمارے پاس صلاحیت موجود ہے۔ امریکہ سے الجھنے کے ڈر سے ہم بھارت کے چنگل میں الجھ جائیں گے اور امریکہ اسی مقصد کے لئے راستہ ہموار کر رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter