ہفتہ‘ 22 ؍ ربیع الا ول 1432 ھ26؍ فروری ‘ 2011ء
ـ 25 فروری ، 2011
وزیر داخلہ رحمان ملک نے پاکستانی فنکاروں کے بغیر این او سی بھارت جانے پر پابندی لگادی ہے۔ آج وزیر داخلہ اسم بامسمیٰ ہوگئے ہیں،اُن کا پاکستانی فنکاروں پر بغیر این او سی حاصل کئے بھارت جانے پر پابندی لگا نا، ان کے جملہ ذنوب کی معافی کا باعث بن گیا،‘‘ ایں کا راز تو آید و مرداں چنیں کنند‘‘
پاکستانی فنکارجو بار بار بھارت کے بالی وڈ میں گھستے اور اُن کی فلم انڈسٹری کو ڈالروں کی جھالروں کے عوض پروموٹ کرکے، نہ صرف اپنی بے عزتی کراتے ہیں بلکہ پاکستان کی بھی شیو سینا کے ہاتھوں بے حرمتی کرتے ہیں چاہئے تو یہ کہ کنجران ہند کو ہم جو پذیرائی دیتے ہیں اسے بھی بند کردیں اور یہ آرڈرز بھی کردیں کہ آئندہ کوئی بھارتی فنکار اپنی حکومت کیساتھ ساتھ ہماری حکومت سے بھی این او سی لئے بغیر پاک سرزمین پر نجس قدم نہ رکھے، ہمیں وقت ٹی وی پر یہ بات بہت اچھی لگی کہ راحت اپنے ملک میں کسی کنسرٹ میں پرفارم کرکے دکھائے اور وہاں یہ کہے کہ میں پھر انڈیا جائوں گا تو اُس پر داد کی جگہ جوتیوں کی برسات ہوگی راحت فتح علی کی ڈھٹائی ملاحظہ ہوکہ…؎
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈ سے دوا لیتے ہیں
٭…٭…٭…٭…٭
تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے، دلیر پاکستانی قوم کی قیادت گیدڑوں کے ہاتھ میں ہے۔خان صاحب فکر نہ کریں گیدڑوں نے شہر کا رخ کرلیا ہے،اب وہی ہوگا جو اس خاکدان عالم میں ہورہا ہے، شیروں کودور دور سے گیدڑوں کے مردوں کی بو آرہی ہے اسلئے وہ اپنے علاقوں کے گیدڑوں کا کچھ تو بندوبست کرینگے، اگر اس جنگل کے آپ شیر بن جائیں اور دلیر پاکستانیوں کو ساتھ لیکر انجانی منزل کی طرف روانہ ہو پڑیں تو یہاں بھی نئی کونپلیں پھوٹ سکتی ہیں ، کلیاں چٹک سکتی ہیں کیونکہ نسیم سحر انقلابات کی زلفوں کو چھو کر آنا شروع ہوگئی ہے …؎
بہر زمیں کہ نسیمے ززلف اوبوزد
ہنوز از سرآں بوئے عشق می آید
( جس جس سرزمین پر نسیم سحری اُس کی زلفوں کو چھو کر آئی ہے، وہاں وہاں سے بدستور بوئے عشق آرہی ہے)عمران خان صاحب نے قوم کودلیر کہا ہے تو ان دلیروں کی قیادت کیوں نہیں سنبھالتے یہ دلیر تمام چلے ہوئے کارتوس سے ناک تک آئے ہوئے ہیں اپنے اندر قائد کی روح داخل کیجئے اور اسی انداز میں رقص بسمل شروع کرادیجئے جیسا کہ پاکستان بنتے وقت قائداعظم نے شروع کراکے دلیروں کی مدد سے بنیئے سے پاکستان منوا کر چھوڑا تھا،اس ملک کو انتخاب کی نہیں انقلاب کی ضرورت ہے اور اگر یہ کچھ نہیں کرسکتے تو پھر پہلوانوں کو بے سبب اکھاڑے میں مت اتارئیے، آس پاس محلات کے کنگرے گرا دئیے گئے اور مزید گر رہے ہیں۔ آخر کیوں؟
٭…٭…٭…٭…٭
شاہ محمود قریشی کہتے ہیں: پیپلز پارٹی کاہر کارکن بھٹو ہے تو میں بھٹو کیوں نہیں ہوسکتا، اگر پیپلز پارٹی موروثیت سے نکل اس بات پر آگئی ہے کہ یہ بازی موت کی بازی ہے یہ بازی تم ہی ہاروگے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا تم کتنے بھٹو ماروگے۔ مگر قریشی صاحب قبلہ پھر بھی اتنے سارے بھٹوئوں کے ریوڑ کو ہانکنے والا کوئی ایک بھٹو تو ہونا چاہئے،اگر یہ ارادے ہیں کہ میں بھٹو کیوں نہیں ہوسکتا تو بسم اللہ، بھٹو بن کر دکھائیں، امریکہ کو پاکستان بدر کریں اور ساتھ ہی اُن کو بھی جن کو امریکہ میں اپنے اکائونٹس منجمد ہونے کا خطرہ ہے، ہم اپنے صارفین کو 73روپے فی لٹر پٹرول دیتے ہیں اور جو ہم کو مارتے ہیں انہیں 44روپے فی لٹر فراہم کرتے ہیں، تاکہ خون ہم وطناں اور بھی ارزاں ہو اور کسقدر جری ہیں قریشی صاحب کے ملتانی بھائی ہمارے وزیراعظم کہ ڈنکے کی چوٹ پر کہہ دیا ڈرون پاکستان ہی سے اڑتے، پاکستانیوں کو ہی نشانہ بناتے ہیں، تھوڑی سی جرأت اور کرکے اب تک بے گناہوں کے مرنے کے اعدادو شمار بھی پیش کردیں، پیپلز پارٹی کو ئی پیپل کا کا درخت نہیں کہ ایک جگہ جما رہے کیا پتہ کسی گھر سے بھٹو نکل آئے اور ساتھ ہی پیپلز پارٹی کو لیکر کسی نئی منزل کی طرف چل پڑے، یہ بھٹو شاہ محمود قریشی بھی ہوسکتا ہے اور آصف زرداری بھی، دیکھئے پہل کون کرتا ہے۔بہاروں کی آمد آمد ہے زمین سے سوندھی سوندھی خوشبو کی زبان پر یہ نغمہ ہے…؎
آجائو تڑپتے ہیں ارماں
اب رات گذرنے والی ہے
٭…٭…٭…٭…٭
پیر پگاڑا فرماتے ہیں: موجودہ حکومت اسی سال ختم ہوجائے گی، نواز شریف کی پوزیشن بہتر ہے، زرداری میرے مخالف نہیں اُن کی مخالفت نہیں کرتا۔شاہ محمود قریشی کلاس کے لیڈر ہیں۔ مسلم لیگ کا اتحاد کبھی نہیں ہوگا۔مشرف واپس نہیں آئینگے جو ایک بار جاتا ہے، واپس نہیں آتا، کراچی میں کیڑوں کی طرح لوگوں کو ماراجارہا ہے۔ پیر صاحب نے تو ایک ہی سانس میں کتنی سانسیں لے لیں، اب ہم کس کس میں سے آہ وبکا کو تلاش کریں۔ پیر صاحب کے نہاں خانۂ دل میں مسلم لیگوں کا اتحاد شاید آخری سانس لے رہا ہے، تاہم میاں نواز شریف کی پوزیشن کو بہتر اور موجودہ حکومت کی حالت کو ابتر قرار دیکر انہوں نے پیرِ طریقت والا سچ بولا ہے مگر کیا کیجئے کہ وہ بھی اُن کے کہنے میں نہیں، شاید وہ کسی اور کے کہنے میں بھی نہیں وگرنہ کراچی میں لوگ یوں کیڑوں کی طرح نہ مرتے، شاہ محمود کو اپنی کلاس کا لیڈر مان کر پیر صاحب نے اچھی بات کی ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ لوگ ان کلاسوں سے نکل کر گریجوایٹ کب ہونگے ،موجودہ حکومت تو آخری دم بھر کر بھی سنگھاسن پر آرام فرما ہے، کیا مردے بھی زندہ کہلائے جاسکتے ہیں، زرداری مردِ حُر ہیں اس لئے پیر صاحب کے مخالف توکیا عقیدت مند ہیں، اگر مسلم لیگیں یکجا نہیں ہورہیں تو کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ پیپلز پارٹی ہی سے مسلم لیگ کا کام لے لیں اور اُس کی چولیں کس کر ملک کو اس نقصان سے بچالیں کہ موجودہ حکومت ختم ہوجائے اگلے انتخابات اپنے وقت پر نہ ہوسکیں اور جمہوریت کا پہیہ جو چل پڑا تھا وہ نہ چل پائے، کیا پتہ باریاں بدلتے بدلتے ملک کے حالات ہی بدل جائیں،اسلئے پیپلز پارٹی پر نظر کرم رکھیں اور کوئی کرامت دکھادیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں