وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے‘ بابر اعوان ملک سنوارو قرض اتارو کے پیسوں کی چھوڑیں‘ وکلاء کو ریوڑیاں بانٹنے کا حساب دیں۔
ہم سمجھتے تھے کہ سیلاب اپنے ساتھ ثناء اللہ اور بابر اعوان کی نوک جھونک بھی بہا کر لے گیا ہے مگر اب یہ طبلہ و ستار کی نوک جھونک پھر سے شروع ہو گئی ہے۔ خدا جانے دونوں حضرات میں طبلہ کون ہے اور ستار کون؟ مگر یہ بے وقت کی نوک جھوک سُر میں نہیں۔ اب تو قرض اتارو ملک سنوارو کی کوئی بات کرنا مناسب نہیں اور نہ ہی وکلاء کو ریوڑیاں بانٹنے کا حساب مانگنے کا وقت ہے‘ سیلاب ٹل جانے دیں‘ سارے حساب چکتا ہو جائیں گے۔ بابر اعوان جابر اعوان بننے سے پرہیز کریں اور ثناء اللہ حناء اللہ کی شکل اختیار نہ کریں کہ جتنا رگڑو رنگ نکلتا ہے۔
وکلاء نے اول تو ریوڑیاں زہر آلود ہونے کے باعث کھائی نہیں اور کسی ایک آدھ نے کھائیں بھی تو اسے ڈائریا ہو گیا اور صفائی ہو گئی۔ باقی رہی بات قرض اتارو ملک سنوارو کی تو نہ قرض اترا اور نہ ملک سنورا۔ بابر صاحب کو اسی بات پر خوش ہو کر یہ نوک جھونک ٹھپ کرکے رانا صاحب کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کرنے کیلئے روانہ ہو جانا چاہیے۔
٭…٭…٭…٭
سالڈ ویسٹ کمپنی کیلئے پانچ افسروں کی بھرتی‘ اڑھائی سے تین لاکھ ماہانہ تنخواہ لیں گے‘ جی ایم آپریشن پروکیورمنٹ چیف فنانشل آفیسر مینجر آئی ایچ آر ایم‘ 13 لاکھ تنخواہ ماہانہ وصول کرینگے۔
ملک کو سیلاب بہا کر لے جا رہا ہے‘ اس لئے اس جاتی بہار کا جتنا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے‘ اٹھایا جائے‘ کیونکہ بعد میں یہ اللے تللے کہاں میسر ہونگے۔ کتنی حیرانی کی بات ہے کہ ملک انتہائی کٹھن حالات سے گزر رہا ہے اور سالڈ ویسٹ میں ’’سالڈ ویسٹ‘‘ بھرتی کیا جا رہا ہے‘ آخر اس نئے کچرے پر اتنی دولت خرچ کرکے ہم کچرا ہی کمائیں گے۔ کام کوئی نہیں اور تنخواہیں جیبوں میں نہیں سماتیں۔
رپورٹر نے رپورٹ کیا ہے کہ صوبے میں بدترین معاشی بحران کے باوجود سرکاری پیسے کا بدترین ضیاع جاری ہے۔ رپورٹر تو قوم کا خیرخواہ ہے‘ وہ بھلا کیا جانے کہ قوم کو لوٹنے کے یہی تو مواقع ہوتے ہیں۔
اس قدر سرمایے کے ضیاع سے بہتر ہے کہ سالٹ ویسٹ کمپنی ہی کو ’’ویسٹ‘‘ کردیا جائے تاکہ یہ لاکھوں روپے سیلاب زدہ علاقوں میں کام آئیں۔ حکومت کو کوئی بچت کا نیل کٹر (Nail Cutter) لے کر اپنے ہوش کے ناخن کاٹ لینے چاہئیں کیونکہ وہ حد سے بڑھ چکے ہیں اور یہ شاہ خرچیاں بالائے طاق رکھ کر امدادی طاق میں سب کچھ رکھ دینا چاہیے اور اس سلسلے میں طاق نسیاں سے کام نہیں لینا چاہیے۔
خبر ہے کہ الطاف حسین کے بعد پیرپگاڑا نے بھی مارشل لاء کی حمایت کر دی۔
الطاف بھائی کی جانب سے تو یہ نئی بات ہو گی مگر پیرپگاڑا کی طرف سے مارشل لاء کی حمایت بلکہ کفایت کوئی نئی بات نہیں۔ خدا جانے الطاف حسین نے کس سیاق کلام میں یہ بات کردی ہے‘ مگر پیرصاحب کا تو اس سلسلے میں سیاق کلام نہیں‘ مارشل لاء تکیہ کلام ہے۔ وہ ہمیشہ سے وردی والوں کی آمد کو خوش آمدید کہتے رہے ہیں بلکہ یوں کہئے کہ انکے ساتھ ہی آتے اور جاتے رہے ہیں۔
مشرف جیسے خونی جنرل کے ساتھ انہوں نے رشتہ استوار رکھا اور اسے اپنا ماموں کہتے رہے۔ الطاف بھائی جب غریبوں‘ کرپشن اور لوٹ مار کی بات کرتے ہیں تو سینے میں غریبوں کا دل اچھل اچھل کر صدا دیتا ہے کہ کاش! وہ پاکستان میں ہوتے تو انقلاب برپا ہو جاتا۔ انکی نذر ایک عربی شعر ہے کہ…؎
سلیمیٰ منذحلت باالعراق
الاقی فی ھواھا ماالاقی
سلیمیٰ ( شاعر کی محبوبہ کا نام) جب سے عراق میں مقیم ہو گئی ہے‘ میں اسکی محبت میں کس قدر بیقرار ہوں)
خدا کرے کہ الطاف بھائی اور پیرپگاڑا کی مارشل لاء کی حمایت جھوٹی ہو اور اس ملک پر پھر سے آمریت کے سیاہ بادل نہ منڈلائیں۔
٭…٭…٭…٭
اہل سنت کی 30 جماعتوں نے کالاباغ ڈیم کی فوری تعمیر کا مطالبہ کر دیا‘ ملک گیر مہم شروع کرنے کا اعلان‘ حکمران اور سیاست دان مصلحتوں اور تعصبات سے بالاتر ہو کر کالاباغ ڈیم کا متفقہ فیصلہ کریں۔
اہلِ حکومت سے تو کچھ نہ ہو سکا‘ اہلِ سنت کی 30 جماعتیں ہی اگر میدان ِ کربلا میں نکل آئیں تو پاکستان میں کالاباغ ڈیم تعمیر ہو سکتا ہے۔ کالاباغ ڈیم خلق خدا کے مفاد اور خدمت کا منصوبہ اور کارِ ثواب ہے‘ اس لحاظ سے یہ ہمارا دینی فرض بھی ہے کہ ہم اس ڈیم کی تعمیر کو یقینی بنائیں۔
اگرچار جمعہ اس موضوع پر لگ جائیں تو ملک میں کالاباغ ڈیم کے حق میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ امید ہے کہ وہ اس ملک گیر مہم کو مستقل جاری رکھیں گے۔ ہمارے ہاں کوئی مانے یا نہ مانے‘ دینی معاشرہ ہے اور جب کالاباغ ڈیم کی تعمیر مسلمانانِ پاکستان کے مفاد میں ایک فتوے کی صورت اختیار کرلے گی تو یہ سارے سیاسی تعصبات ہوا ہو جائینگے۔ یہ ایک بہت نیک تبدیلی ہے کہ اہل سنت کی 30 جماعتوں نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا یک آواز ہو کر مطالبہ کر دیا۔ ہماری دعائیں اور خراج تحسین انکے ساتھ ہے‘ اگر وہ اپنا یہ مطالبہ منوالیں تو ملکی تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔