منگل ‘6ذی الحجہ 1430 ھ‘ 24 نومبر 2009ئ

ـ 24 نومبر ، 2009
دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان میں ختم نہ ہونے والی جنگ شروع کر رکھی ہے۔
دفاعی ماہرین نے جو کچھ کہا ہے سو فیصد صحیح ہے اس لئے کہ امریکہ دھیرے دھیرے پاکستان کو مختلف قسم کی جنگوں میں مبتلا کر کے تھکا رہا ہے یہی وہ تھکن تھی جس نے پاکستان کو دو ٹکڑے کیا تھا اب وہ پھر کسی بھی گیم پر ہے۔ پاکستان کی معاشی حالت کو ابتر بنایا جا رہا ہے‘ ایسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں کہ پاکستان دفاع پر کوئی ٹکہ خرچ نہ کرسکے۔ پاکستان کے عسکری ماہرین اور فوج بھی اس ساری سازش سے باخبر ہے لیکن یہ بات سمجھنا مشکل ہے کہ وہ امریکی سازش کے خلاف حرکت میں کیوں نہیں آتے۔ یہ بات بہت ضروری ہے کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں اور طالبان کے نام پر پروپیگنڈا بند کیا جائے وگرنہ مشرقی پاکستان والی حالت لوٹ سکتی ہے۔ اس لئے کہ اس وقت بھی مذاکرات کی کوئی صورت نہیں نکالی گئی تھی بلکہ جنگ کو ترجیح دی گئی تھی۔ آج پاکستان کو ضرورت ہے کہ وہ اپنی طرف دیکھے دوسروں کی ٹانگ میں ٹانگ نہ اڑائے‘ امریکہ کی خاطر بہت قربانیاں دی جا چکی ہیں۔ اب مزید اپنے آپ کو امریکہ کے ذریعے کمزور نہ بنایا جائے۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ جو پاکستان امریکہ کی جنگ لڑ رہا ہے وہ دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے۔ پاکستان کا بھلا اسی میں ہے کہ وہ امریکہ کی یاری چھوڑ دے کہیں ایسا نہ ہو کہ ”لائی بے قدراں نال یاری تے ٹُٹ گئی تڑک کر کے“ ۔!
٭....٭....٭....٭
وزےر خارجہ شاہ محمود قرےشی نے کہا ہے کہ بھارت مذاکرات مےں سنجےدہ نہےں ہے پاکستان کا وقت ضائع نہ کرے۔
اُدھر من موہن جی نے کہا ہے اپنی سرزمےن سے دہشت گردی کا خاتمہ کرےں پھر مذاکرات ہوں گے اور ایک جگہ انہوں نے ےہ بھی کہا ہے کہ اٹوٹ انگ تو محض لفظی کھےل ہے اس کو کہتے ہےں منافقوں کی زبان۔ کےا من موہن نے مقبوضہ کشمےر سے دہشت گردی کا خاتمہ کر دےا؟ ہمارے وزےر خارجہ نے اےسا بےان دےا ہے کہ جےسے وہ بہت مصروف ہےں اور بھارت سے کہہ رہے ہےں کہ ہمارا وقت ضائع نہ کرےں۔ امرےکہ نے اس دنےا کو تماشا گاہ بنا دےا ہے اور اس کے لگڑ بگھے اس کے گرد دھمال ڈال رہے ہےں ےہ تماشے اب ختم ہونے والے ہےں اس کے لئے نقاب اُٹھ رہے ہےں۔ ہمارے حکمرانوں نے دہشت گردی کی کارروائےوں مےں سی آئی اے کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کر کے امرےکہ کا کچھا اتار دےا ہے۔ سپر پاور اگر اس کو کہتے ہےں تو لِٹل پاور کسے کہتے ہےں۔ امرےکہ نے اپنی حےثےت ناجائز طرےقوں سے بنائی‘ امرےکہ سے بھی زےادہ وہ لوگ ہےں جو اس کے ساتھ تعاون کرتے ہےں اور اُس کے کھےل کو جاری رکھتے ہےں۔ وقت جوں جوں آگے بڑھ رہا ہے سپر پاور تنہا ہوتا جائے گا۔ امرےکہ تنہا ہی مجرم نہےں اس کے حواری بھی مجرم ہےں جنہوں نے مل جل کر خباثت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ تےسری دنےا کو بھی اپنی کارروائےوں پر غور کرنا چاہےے اور حلقہ بگوشی کو چھوڑ کر اپنی قوت کو مجتمع کرنا چاہےے وگرنہ ےہ دنےا لٹےروں‘ دہشت گردوں اور سیہ کاروں کا گھر بن جائے۔ اس کام مےں مےڈےا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہےے۔
٭....٭....٭....٭
خبر ہے کہ لاہور پولےس کا تمام رےکارڈ کمپےوٹرائزڈ کےا جا رہا ہے۔
ےہ خبر تو بہت اچھی ہے اس لئے کہ اےسا ہی نظام ساری دنےا مےں رائج ہے مگر پنجاب پولےس کو آپ ہزار بار کمپےوٹرائزڈ کر دےں وہ پھر اس مےں سے صحےح سالم باہر نکل آئے گی کےونکہ ان کو اللہ نے اےسی ذہانت عطا کی ہے کہ وہ ہر کمپےوٹر کا توڑ نکال سکتے ہےں۔ نئی بوتل مےں پرانی شراب کا تجربہ کرنے مےں کےا حرج ہے بہرحال ےہ خبر بڑی امےد افزا ہے بشرطےکہ اس پر پوری دےانت داری کے ساتھ عمل درآمد کراےا جائے۔ نئے نظام سے جرم پر تو قابو ڈالا جا سکے گا مگر ”چِھلڑ“ جن باتوں کے عادی ہےں اس کے لئے کون سا کمپےوٹر اےجاد کےا جائے گا۔ ایک زمانے سے پولےس پر خرچہ کےا جا رہا ہے اور نتےجہ صفر نکلتا ہے۔ خدا جانے اب اس نئے پروگرام پر پنجاب کے خزانے سے کتنا پےسہ جائے گا ےہ نہ ہو کالاباغ ڈےم کی طرح فزےبلٹی رپورٹ تےار ہو جائے اور ڈےم اپنی جگہ دھرے کا دھرا رہ جائے۔ وزےر اعلیٰ پنجاب بڑے تےز رو ہےں دےکھتے ہےں ان کی ےہ تےزی کےا رنگ لاتی ہے‘ کیپٹل سٹی پولےس چےف بھی اپنی جگہ بڑے تےز ہےں دےکھتے ہےں وہ خرچہ کتنا کراتے ہےں اور نتائج کتنے دےتے ہےں۔ ہم اس پروگرام کی حوصلہ شکنی نہےں کرتے صرف ڈرتے ہےں کہ کہےں پولےس کا پرانا امےج ہی قائم نہ رہ جائے۔
٭....٭....٭....٭
ہمارے لئے جعلی کا لفظ کوئی نےا نہےں ہے۔ ےہ پارلےمنٹ سے لے کر اعلیٰ عہدے داروں تک عام ہے۔ ےہاں کےا جعلی نہےں ہے جعلی خوراک، جعلی سندےں، جعلی ادوےات، جعلی مصنوعات، جعلی فوجی افسر، جعلی ڈاکٹر، الغرض جعلی اشےاءکی ےہاں کمی نہےں۔ دو چار اگر دھر لئے جائےں تو اس سے جعلی تحرےک پر کےا اثر پڑتا ہے‘ جس معاشرے مےں جرم پر گرفت مضبوط نہ ہو وہاں دو نمبر کام کو کون روک سکتا ہے اور تو اور دو نمبر دولہے اور دلہنےں بھی مل جاتے ہےں۔ کسی معاشرے کی جڑےں اس کے اخلاقےات میں ہوتی ہیں اور ہماری اخلاقیات بھی دو نمبر ہےں۔ دو نمبر قسم کی خوراکےں اےسی رچ بس گئی ہےں کہ بچے خالص اےک نمبر خوراک ہضم ہی نہےں کر سکتے وہ دو نمبر کے عادی ہو چکے ہےں۔ اس لئے ان کی قےمتےں بھی دو نمبر ہو گئی ہےں۔ خالص دودھ پےنے سے بھی موشن لگ جاتے ہےں‘ دےسی گھی کھانے سے دل خراب ہونے لگ جاتے ہےں اب تو واپس ملک مےں صرف دےسی لڑکےاں ہی خالص رہ گئی ہےں وہ بھی پاکستانی لڑکے بڑی مشکلوں سے ہی پسند کرتے ہےں۔ پاکستانی دو نمبر چےزےں اےسی مہارت سے تےار کرتے ہےں کہ اصل کا گمان ہوتا ہے لےکن استعمال کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ ےہ دو نمبر تھی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter