تازہ ترین:

منگل‘ 29 صفر المظفر 1433ھ‘ 24 جنوری 2012 ئ

ـ 24 جنوری ، 2012
ری پبلکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار رک سینٹورم نے کہا ہے: ”اسلام مساوات کا درس نہیں دیتا۔“
رک مسٹر سینٹورم رُک! اس ایک بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رِک سینٹورم‘ جہالت کا سینی ٹوریم ہے‘ جب امریکہ اور سارا یورپ اور ان کا لاڈلہ مہابھارت اونچ نیچ میں غرق گورے کالے اور اچھے برے کی تمیز نہیں رکھتا تھا‘ تب اسلام نے آتے ہی آواز بلند کی کہ آج سے کسی گورے کو کالے پر آزاد کو غلام پر کوئی فضیلت نہیں بلکہ صرف اچھے کردار کی بنیاد پر اور کہا گیا کہ تم سب اس طرح برابر ہو جیسے کنگھی کے دانے۔
رِک سینٹورم نے دیکھا کہ امریکی صدر بننے کی منزل اسلام پر حملہ آور ہونے سے ہی ملتی ہے تو اس نے بھی سوچے سمجھے بغیر اسلام ہی کو اپنی حماقت سرائی کا نشانہ بنایا۔ کیا امریکی عوام اسلام کے اتنے مخالف ہیں کہ ان کو چڑھتا سورج نہیں دکھائی دیتا۔ ایسا تو ممکن ہی نہیں کیونکہ آج کے مسلمان پر اعتماد نہیں تو کیا تاریخ بھی جھوٹی ہے۔ مسٹر رک کو صدر بننے سے پہلے ہی مسلم امہ کو یہ زک پہنچانے کی کیا ضرورت تھی۔ بہتر ہو گا کہ صدارت کیلئے کھڑا ہونے سے پہلے وہ انسائیکلوپیڈیا آف بریٹینیکا کا مطالعہ کرلیں۔ ویسے امریکیوں کو ایسے ان پڑھ‘ نااہل اور متعصب شخص کو صدر نہیں بنانا چاہیے۔ رک سینٹورم ابھی صدارت کے بارے سوچنا چھوڑ دے اور اپنے ایک ہم جنس کی سوچ پر بھی غور کرے۔
ایک نقب زن نے اپنے دوست سے کہا‘ میرا خیال ہے‘ اب مجھے عینک لگوا لینی چاہیے۔ دوست نے پوچھا‘ کیوں؟ نقب زن نے کہا‘ کل میں ایک گھر میں گھس کر بہت دیر تک اوزاروں سے ایک تجوری کا دروازہ کاٹتا رہا‘ بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو فریج تھا۔ رک صاحب بھی رُک جائیں اور اسلام کو کاٹتے ہوئے کہیں بعد میں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھے۔
٭....٭....٭....٭
اعتزاز احسن نے وزیراعظم گیلانی سے 100 روپے ٹوکن فیس لی۔
اگر اعتزاز صاحب صدر پاکستان ہوتے تو وہ صرف ایک روپیہ ٹوکن تنخواہ لیتے‘ صرف استثنیٰ پر ہی گزار کرتے لیکن ہمارا ایسا نصیب کہاں‘ یہ جو100 روپے ہیں‘ اتنے برکت والے ہیں کہ ان میں جتنے صفر چاہیں بڑھالیں‘ کم ہیں۔ آصف زرداری بڑے خوش قسمت ہیں کہ انہیں اتنے خوش شکل و عقل وکیل اپنے اس سٹاک میں سے دستیاب ہیں‘ جو بوجوہ آدھے اندر اور آدھے باہر ہیں۔....
میں پیروکار ہوں کسی اور کا
مجھ سے کام لیتا کوئی اور ہے
صدر زرداری ہوں یا وزیراعظم گیلانی‘ اگر ان میں سے کسی کے بارے یہ کہا جائے کہ وہ قوم کا کان کاٹ کر دوڑ رہا ہے‘ تو ہمیں پہلے اپنے کان کی فکر کرنی چاہیے اور اگر ایسا ہو گیا ہو تو پلاسٹک سرجری کروا کر مصنوعی کان لگوا لیں۔ کیونکہ یہ تو کبھی ہاتھ نہیں آئینگے۔ ان میں سے ایک کو استثنیٰ حاصل ہے‘ دوسرے نے اس قوم کی دم پکڑی ہوئی ہے۔ اب تو....
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
اعتزاز نے یہ مقدمہ لے کر جو اعزاز پایا ہے‘ وہ ہی اتنا قیمتی ہے کہ اگر اسے مصر کے بازار میں لے جائیں تو کیا پتہ پورا بازار اسکی قیمت نہ چکا سکے۔ حالانکہ انکے مو¿کل مصر کے بازار میں بک چکے ہیں۔ اعتزاز سب جھنجھٹ چھوڑیں اور یہ مصرع دہرا کر دیکھیں‘ ان کو کتنا لطف ملتا ہے۔
چڑھ وے چناں! تے کر روشنائیاں
تیرا ذکر کریندے تارے ہُو
٭....٭....٭....٭
اداکارہ میرا اگلے ماہ اک پاکستانی نژاد امریکی پائلٹ سے شادی کرنیوالی ہیں اور اس طرح وہ پیاگھر سدھار جائینگی۔
میرا کو کسی اور ملک کی شہریت لینے کا بڑا شوق تھا تاکہ ثابت ہو کہ وہ کتنی محب وطن پاکستانی اداکارہ ہیں۔ انکے دل کی مراد برآئی اور ایسا دولہا پالیا جو کہیں کہیں سے پاکستانی‘ باقی سارے کا سارا امریکی ہے۔ پیا کا گھر ہی دلہن کا گھر ہوتا ہے اس لئے اب اس شاخِ گل کو امریکی کہنا بے جا نہیں لیکن اسے درخت بہت یاد آئیگا۔
شجر وطن سے ایک آدھ چڑیا اڑ بھی جائے تو اسے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ چڑیوں کا ایک چنبہ تو اس پر رہتا ہی ہے۔ایک چڑیا پہلے اڑ کر امریکہ پہنچ چکی ہے اب میرا نے بڑا اچھا فیصلہ کیا کیونکہ اب وہ خاصی قدیم ہو گئی تھیں۔ دولہا کا ہمیں پتہ نہیں‘ بہرحال میرا امریکی پائلٹ کی دلہن بن کر ورجینیا کے ساحلوں پر ”ہنیاں مونیاں“ منائے گی تو اسے بڑا مزہ آئیگا۔
امریکہ‘ بھارت سے بھی اچھا ملک ہے‘ کیونکہ وہ بھارت سے بڑھ کر پاکستان سے پیار کرتا ہے۔ منصور اعجاز بھی میرا کے ہونیوالے دولہا جیسا ہی ہے‘ وہ بھی پاکستانی نژاد امریکی ہے اور اب سنا ہے پاکستان کو بچانے کی غرض سے عدالت میں بیان دینے آرہا ہے۔ مگر لگتا ہے کہ وہ اور مشرف پاکستان آنے کے حوالے سے ہم زلف ہیں۔ ہمارے حکمران بھی امریکہ جانا پسند کرتے ہیں‘ اس لحاظ سے میرا حکمرانوں کی یا حکمران میرا کی صف میں آجائینگے۔ میرا کو دل کی مراد پوری ہونے اور امریکی دولہا پانے پر پیشگی مبارکباد۔
٭....٭....٭....٭
فردوس عاشق اعوان فرماتی ہیں‘ جنگیں اسلحہ سے نہیں‘ مضبوط معیشت سے جیتی جاسکتی ہیں۔
فردوس واقعی ایک چابکدست وزیر اطلاعات ہیں وہ تاریخ پر گہری نظر رکھتی ہیں اور یہ بھی جانتی ہیں کہ چند سو پیادوں اور سواروں پر مشتمل مسلمان حملہ آوروں نے سندھ ہند فتح کرلیا اورمسلمان مجاہدوں نے بھوکے پیاسے ہو کر بحرظلمات میں گھوڑے دوڑا دیئے۔ یہ سب مضبوط معیشت ہی کی بنیاد پر تو ممکن ہوا۔ انکے بیان میں یہ رعایت لفظی بھی رکھی گئی ہے کہ بڑی آسانی سے جہاد سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ بھارت کی معیشت بڑی مضبوط تھی‘ اسی لئے اس نے مشرقی پاکستان کو اپنے کرنسی نوٹوں کے ذریعے فتح کرکے پاکستان کو دو ٹکڑے کر دیا تھا۔ ژاس لئے محترمہ فردوس صاحبہ نے یہ یقین دلا دیا ہے کہ ہماری معیشت چار سالوں میں بہت ترقی کر گئی ہے۔ اب ہم نے اسلحہ وغیرہ اگر خریدا یا بنایا بھی ہے تو کسی کو گفٹ کردینا چاہیے۔ بس معیشت کا عروج ہی کافی ہے۔ گفٹ لینے والے ایک عرصے سے بے قرار ہیں‘ اب انکا اورکتنا امتحان لینا ہے۔ میمو گیٹ دستایز اس لحاظ سے ایک اچھا اقدام تھا اسلئے حکومت اس پر نہ پچھتائے‘ اس طرح کی باتیں تو ہوتی ہیں‘ اس طرح کے کاموں میں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter