تازہ ترین:

جمعرات ‘ 20 ؍ ربیع الا ول 1432 ھ24؍ فروری ‘ 2011ء

ـ 24 فروری ، 2011
مسلم لیگ فنگشنل کے سربراہ پیر پگاڑا نے کہا ہے کہ روٹی‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں نے غریب عوام کو سیلاب میں ڈبو دیا ہے‘ وزیراعظم امتحان میں ہیں‘ ان کیلئے دعا کر سکتا ہوں۔
حافظ حسین احمد‘ شیخ رشید اور پیرپگاڑا بڑے لطیف انداز میں طنز و مزاح کرتے ہیں‘ اول و آخرالذکر تو سیاست میں کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں جبکہ فرزند پنڈی جس نائو پہ سوار تھے‘ وہ ڈوبتی نظر آتی ہے۔ پیر پگاڑا گیلانی کیلئے دعا کریں یا دوا‘ عوام کو سیلاب میں ڈبونے والے اب خود ڈوبنے والے ہیں۔ روٹی کپڑا مکان دینے والوں نے عوام سے ہر چیز چھین لی‘ حتٰی کہ تجہیز و تکفین کی اشیاء کو مہنگا کرکے مرنے کا حق بھی چھین لیا۔ عوام مظلوم بن کر زندہ درگور ہو رہے ہیں۔ پیر پگاڑا جی مظلوم کی دعا تو عرش الٰہی کو ہلا دیتی ہے‘ آپکی دعا شاید حلق سے بھی آگے نہ آئے‘ اس لئے دعا کارآمد ثابت ہوتی نظر نہیں آتی۔
تو چہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد
(تو کیا جانے کہ اس گرد میں کوئی سوار ہو گا)
ظاہری حالات کچھ نظر آتے ہیں جبکہ بقول شاہ محمود قریشی اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ جب حالتِ نزع ہو تو لوگ صحت یابی کی دعا نہیں کرتے بلکہ کلمہ شہادت کا ورد یا سورہ یٰسین کی تلاوت کرتے ہیں تاکہ جانیوالے کی مشکل آسان ہو سکے۔
پیر صاحب! حکومت کا وقت نزع ہے‘ آپ اونچی آواز میں سورہ یٰسین کا ورد شروع کر دیں ‘ یہی آپکی دعا ہو گی اور یہی دوا۔
٭…٭…٭…٭
رحیم یار خان میں پستہ قد آصف کی شادی پر راہگیر اٹھا کر بھنگڑا ڈالتے رہے۔
عوام بے چارے کیا کریں‘ دہشت گردی‘ قتل و غارت نے ہر خوشی چھین لی ہے‘ سٹیڈیم کی طرف جائیں تو خودکش حملے کا خطرہ‘ ویسے اکٹھے ہو جائیں تو ڈرون کا خوف‘ اب آصف جیسے دلہا کی شادی پر بھنگڑا نہیں ڈالیں گے‘ سربازار رقص و سرود کی محفل نہیں سجائیں گے‘ تو اور کیا کریں؟ رحیم یار خان کے سرائیکی بانوں نے آصف کو کندھوں پر اٹھایا یا ہاتھوں پر‘ یہ تو ہمیں علم نہیں‘ لیکن ہر طریقے سے سرائیکی بان لطف اندوز ہوئے ہونگے۔
چیکن نے کہا تھا کہ مرد عورت کے بغیر ایسا ہی ہے‘ گویا زندگی سانس کے بغیر چشمہ پانی کے بغیر اور جسم روح کے بغیر۔ پستہ قد دلہا آصف کی زندگی میں بھی اب بہاریں آجائیں گی‘ زندگی کے اصلی لطفوں سے آشنائی حاصل ہو گی کیونکہ مقناطیس بھی اتنی شدت اور تیزی سے لوہے کو اپنی طرف نہیں کھینچتا‘ جتنی جلدی عورت مرد کو اپنی جانب راغب کرتی ہے۔ آصف کی شادی کو اہل رحیم یار خان نے یادگار بنایا‘ دیکھتے ہیں آصف اس شادی کو کس طرح انجوائے کرتے ہیں کیونکہ …؎
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے‘ زندگی کا سوزِ دروں
٭…٭…٭…٭
عوامی نیشنل پارٹی کے قائم مقام سربراہ حاجی عدیل نے کہا ہے کہ پنجاب میں حکمران دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کو سپورٹ اور فنڈز دیتے ہیں جبکہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حاجی عدیل کے بیان نے حیران کر دیا ہے۔
حاجی عدیل سرحدی گاندھی کے قائم مقام جانشین ہیں‘ ان سے ’’شر‘‘ کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔ قائم مقام بن کر وہ ملک میں آگ لگا رہے ہیں‘ جب اصل جانشین بنیں گے‘ تو کیا گل کھلائیں گے؟ کالعدم تحریک طالبان خیبر پی کے میں بنی‘ انکے مراکز وہاں‘ رہائش وہاں‘ تو پھر سرپرستی بھی تو مقامی لوگ ہی کر رہے ہونگے۔ جلال آباد کے کھنڈرات میں تبدیلی ہوئے قبرستان کے گردونواح میں بھارتی گاندھی کے جانشین سپورٹ اور فنڈز مہیا کر رہے ہیں۔ بھارتیو کو تو…ع
من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو
(میں تجھے حاجی کہتا ہوں‘ تو مجھے حاجی کہہ۔)
وہاں تو محبتوں کی پینگیں چڑھائی جاتی ہیں اور اپنوں پر الزام تراشی چہ معنی دارد؟ کشمیر میں دہشت گردی پر حاجی عدیل گونگے کیوں ہو جاتے ہیں‘ رانا ثناء صاحب! حاجی عدیل کو ایسے الزام لگانے کی جرأت کس نے دی؟ جب آپ نے 19 ویں ترمیم میں خیبر پی کے کو قبول کیا تھا‘ تب بھی قوم بڑی حیران ہوئی تھی‘ تب (ن) لیگ سرحدی گاندھی کے نام کو قبول نہ کرتی تو آج یہ حیران کن کیفیت نہ دیکھنی پڑتی۔
حضرت علیؓ سے منسوب قول ہے کہ جس پر احسان کرو‘ اسکے شر سے محفوظ رہو۔ (ن) لیگ نے اے این پی کا مطالبہ (خیبر پختونخواہ) قبول کرکے ان پر احسان کیا‘ اب انکے شر سے محفوظ رہنا (ن) لیگیوں کا کام ہے۔
٭…٭…٭…٭
امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان ریمنڈ کو استثنیٰ نہیں دینا چاہتا تو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک بدر کر دے۔
کان سیدھا پکڑیں‘ یا الٹا‘ مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔ ریمنڈ کو استثنیٰ دیں یا ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک بدر کریں‘ دونوں صورتوں میں امریکہ کا مقصد تو اسے یہاں سے صحیح سلامت لے جانا ہی ہے۔ ہمارے حکمران آلو چھولے بیچنے والے نہیں‘ جنہیں تم بیوقوف بنالو گے‘ یہ ابوزید سوروجی سے بڑے کھٹکار ہے۔ امریکہ کی لالی پاپ پر مرنے والے حکمران اپنا بوریا بستر گول کرکے سات سمندر پار بیٹھے ہوئے ہیں‘ امریکہ استثنیٰ کیلئے بین الاقوامی ماہرین کو چھوڑ کر جس مرضی ماہر سے رابطے کرلے‘ ریمنڈ کا فیصلہ پاکستانی عدالتیں کرینگی‘ اب تو صورتحال بقول شاعر یہ ہو چکی ہے…؎
سحر کیساتھ ہی سورج کا ہم رکاب ہوا
جو اپنے آپ سے نکلا وہ کامیاب ہوا
اب زمینی حقائق یہ کہہ رہے ہیں جو سیاست دان امریکی چھتری سے نکلے گا‘ وہی کامیاب ہو گا۔ قوم کو نہ تو پیسہ چاہیے‘ نہ ہی امریکی آشیرباد‘ اب عوام خود مختاری کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‘ حکمران امریکیوں کے کسی بھی جھانسے میں آنے سے گریز کریں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter