منگل،13 ؍رمضان المبارک‘1431ھ‘24 ؍ اگست 2010ء

ـ 24 اگست ، 2010
ضلعی صدر پیپلزپارٹی الطاف ورک نے کہا ہے‘ متاثرین کیلئے سو ٹرک دینے کو تیار ہوں‘ وزیراعظم کو ایک روپیہ نہیں دونگا۔
ہم تو کچھ نہیں بولے گا‘ ہم بولے گا تو بولو گے کہ بولتا ہے۔ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی اپنی ہی لیڈر شپ پر اعتماد کھو بیٹھی۔ الطاف ورک جو ضلعی صدر ہیں پی پی کے‘ کیوں گرنیڈ کی طرح اچانک یوں پھٹ پڑے کہ باقی گرنیڈوں کے پھٹنے کا بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ شاید الطاف ورک اپنے لیڈروں کو بھی سیلاب زدگان سمجھ بیٹھے ہیں‘ کوئی بات نہیں ورک صاحب! وزیراعظم کو ایک روپیہ دے دیں کیونکہ آپ کو جو خدشہ ہے‘ اس کو ایک روپے سے کوئی تقویت نہیں ملے گی۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم مل بیٹھ کر غور کریں کہ آخر ان کے اپنے کارکنوں میں یہ بے اعتباری کیوں پیدا ہوئی‘ سیلاب آیا ہواہے‘ کہیں یہ پارٹی کی ساکھ کو بھی ساتھ بہانہ لے جائے‘ سیلاب زدگان تو کہہ ہی رہے ہیں‘ اب تو حکمران جماعت کے کارکن بھی کہنے لگے ہیں…؎
ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
٭…٭…٭…٭
شاہ خرچیوں کا یہ عالم ہے کہ پاکستان نے صرف ایک ماہ میں کھانے پینے کی اشیاء کو درآمد کرنے پر 41 کروڑ ڈالر خرچ کر ڈالے۔
اشیاء درآمد کرنے کی استطاعت تو ارباب حکومت کے پاس ہوتی ہے‘ عام لوگ تو یہ تکلف نہیں کر سکتے‘ اس ملک میں ہر چیز پیدا ہوتی ہے اور پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ غریبوں کا پیٹ خالی ہے اور حکمرانوں نے اپنی شاہ خرچیوں پر صرف ایک ماہ میں 41 کروڑ ڈالر خرچ کر ڈالے۔ یہ حالت ایسی صورتحال میں برپا ہے کہ ملک سیلاب کی زد میں ہے‘ یہ تو دوزخ میں جنت تعمیر کرنے والی بات ہے۔
کسی زمانے میں روم میں ایک نیرو اور ایک بانسری تھی‘ جو روم کے جلنے پر بھی بجتی تھی۔ اب ہمارے ہاں نیرو ایک نہیں انکی ایک فوج ظفر موج ہے‘ جو اپنی بانسری ہر ماہ 41 کروڑ ڈالر کی درآمدات پر اور سیلاب کی تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے بجائے چلے جا رہے ہیں۔ روم میں تو آگ کا دریا تھا‘ یہاں دریا سمندر بن چکے ہیں‘ جو انسانوں کو تنکوں کی طرح بہائے لئے جا رہے ہیں اور حکمران کھمبوں کی طرح اپنی جگہ پکے پکے کھڑے ہیں۔ حکومتی اخراجات سیلاب کے ساتھ ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں‘ چونکہ یہ سب کچھ زرداری صاحب کی آڑ لے کر کیا جا رہا ہے‘ اس لئے وہ نوٹس لیں اور پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ بحال کریں۔
٭…٭…٭…٭
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے‘ امداد کی بھارتی پیشکش اچھا اقدام تھا‘ ہم نے بھی اسکی کئی بار مدد کی‘ دوسری خبر یہ ہے کہ پاکستان بھارتی امداد براہ راست قبول نہیں کریگا۔
شاہ ’’مذموم‘‘ قریشی سے کوئی یہ پوچھے کہ ہم نے بھارت پر کوئی مصیبت آفت مسلط کرکے اسکی مدد نہیں کی تھی‘ جبکہ اس نے ایک طرف ہم پر پے در پے سیلابی ریلے چھوڑ رکھے ہیں اور دوسری جانب ایک معمولی سی رقم کے ذریعے وہ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کا خیرخواہ ہے اور مزید یہ کہ ہماری مشکل گھڑی کی آڑ میں مظلوم و محروم کشمیریوں پر ظلم میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔ اب اسکی امداد کو براہ راست قبول نہ کرنا ناک کو سیدھی طرف سے پکڑنے کے بجائے الٹی جانب سے پکڑنے کے مترادف ہے۔ بھارت شاہ محمود قریشی کے بوسے لیتا ہے اور پاکستان کے رخسار پر تھپڑ رسید کرتا ہے‘ اگر ایسی کوئی امریکی مجبوری ہے تو قوم کو صاف لفظوں میں بتا دیا جائے کہ ہم حکمران امریکہ کے غلام ہیں۔ ہم اس کا کہا ٹالتے ہیں تو وہ ہمیں ٹال دیگا اس لئے ہمیں بھارت جیسے دنی الطبع اور کمینے دشمن کی امداد قبول کرنا ہو گی۔ کشمیر کے معاملے میں خاموش رہنا ہو گا‘ کالاباغ ڈیم نہیں بنانا ہو گا‘ بھارت کے مسلط کردہ سیلاب کے باوجود اپنے کشکول میں اسکی امداد ڈالنا ہو گی۔
٭…٭…٭…٭
خیبر پی کے میں جماعت الدعوۃ سمیت کالعدم تنظیموں کے 16 کیمپ بند کر دیئے گئے جبکہ وزیر اطلاعات خیبر پی کے نے کہا ہے‘ کالاباغ ڈیم انسانی تباہی کا منصوبہ ہے‘ بننے نہیں دینگے۔
کیا وہ شخص انسان ہو سکتا ہے جو انسانی مفاد کے منصوبے کو سبوتاژ کرے؟ آج پوری قوم یک آواز ہو کر کہہ رہی ہے کہ اگر آج نوشہرہ کے پٹھان شمس الملک کے بقول کالاباغ ڈیم ہوتا تو سیلاب اتنی تباہی نہ پھیلاتا اور ہمارے پاس تین سال کیلئے پانی کا وافر ذخیرہ جمع ہو جاتا۔
خیبر پی کے باچا خان کے نظریات پر چل رہا ہے‘ جس نے اپنی قبر بھی پاکستان میں بنوانی برداشت نہیں کی تھی۔ اس وقت ملک ایک ایسی ہولناک سونامی کی زد میں ہے‘ جس کی تصدیق پوری دنیا کر رہی ہے۔ ان حالات میں سب سے زیادہ امدادی کارروائیاں نام نہاد کالعدم دینی تنظیمیں کر رہی ہیں‘ کیا وہ سیلاب زدگان کو ڈبو رہی تھیں جو انکے 16 کیمپ بند کر دیئے گئے۔ اگر اس نازک موقع پر بھی خیبر پی کے نے اپنے تعصبات کو زندہ رکھا تو سیلاب زدگان تو خدا نہ کرے جاں بحق ہو جائیں گے‘ کیا وزیر اطلاعات کو یہ ظالمانہ فعل منظور ہے۔ اس موقع پر خیبر پی کے کے وزیر اطلاعات کی خدمت میں اسکے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے…؎
من از بیگانگاں ہرگز ننالم
کہ بامن ہر چہ کرد آں آشنا کرد
(میں بیگانوں کو نہیں روتا کہ میرے ساتھ جو کچھ کیا‘ اپنوں نے کیا)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter