پیر‘ 28 صفر المظفر 1433ھ‘ 23 جنوری 2012ئ
سر را ہے …پروفیسر اسرار بحاری ـ 23 جنوری ، 2012
حمزہ شہباز نے بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کے درمیان نئی فوڈ سٹریٹ کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں نامور فنکاروں نے فن کا مظاہرہ کیا مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں اور صحافیوںنے شرکت کی۔ نئی فوڈ سٹریٹ شہر کے تمام ٹاﺅنز میں قائم کی جانے والی مجوزہ فوڈ سڑیٹس کے منصوبے کا حصہ ہے ۔خادم اعلیٰ نے بیٹے کو سیاست سکھانے کیلئے اچھی مد تلاش کرلی ہے اور اس کے ساتھ جو غریب عوام بھوکے مر رہے ہیں اُن کی تعداد بڑھانے کی بھی بہترین مد ڈھونڈ نکالی ہے، دو وقت کی روٹی کو ترسنے والے جب طبقہ امراءکو کھابے کھاتے دیکھیں گے تو وزیراعلیٰ کو بڑی ’ ’ دعائیں“ دیں گے، کہیںایسا تو نہیں کہ اُن کا قارورہ اُس ملکہ سے مل گیا ہے جس نے روٹی سے محروم لوگوں کوکیک کھانے کامشورہ دیا تھا اور کیا ہی منصوبہ بند اعلیٰ ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے کہ پورے شہر میںفوڈسٹریٹس کا جال بچھانے کا منصوبہ تیار کرلیاہے، کیا جاتی عمرہ میں لگی فوڈ سٹریٹ کافی نہ تھی کہ اب ناداروں کی رال ٹپکانے کیلئے فوڈسٹریٹ کلچر عام کر کے کھابہ کارنامہ سرانجام دینا چاہتے ہیں، حمزہ تو اپنے نام کی لاج رکھتے اور اپنے والد گرامی قدر اور تایا جان کو مشورہ دیتے کہ غریبوں کی بستیوں کی سڑکیں بنوائیں وہاںگیس اوربجلی فراہم کریں،اشیائے خوردونوش سستی کریں اور اس کیلئے ایسی منصوبہ بندی کریں کہ پوری مارکیٹ میں ایک چیز ایک ہی نرخ پر دستیاب ہو پھر تو ہم مان لیتے کہ ہاں....ع
خیال کوچہ ¿ مفلساں آپ کو بھی ہے
٭....٭....٭....٭....٭
سرگودھا میں وزیراعظم کی آمد پر سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے،مسجد میں پہلی بار ظہر اور عصر کی نماز نہ ہوسکی۔ مسجد کے مولوی کو باہر نکال کر مسجد کو تالے لگا دئیے گئے، لوگوں نے احتجاج کیا مگر حکومتی فورس اور وہ بھی پنجاب پولیس کے سامنے کس کی چلتی ہے، یہ سب کچھ صرف اسلئے کیا گیا کہ وزیراعظم کا جلسہ ہونا تھا۔ جس جلسے کی بنیاد مسجد کو تالے لگانے اور وہاں ظہر وعصر کی نماز کی اجازت نہ دینے اور امام مسجد کو دھکے دیکر اللہ کے گھر سے نکالنے پر رکھی گئی ہوگی کیا وہ جلسہ کسی مسلمان حکمران اور وہ بھی بظاہر سید کہلوانے کا ہوسکتا ہے، آخر گیلانی نے ثابت کردیاکہ وہ ”واقعی سید ہیں“، موسیٰ پاک شہید گیلانی کے مزار کے مجاور کا بیٹا گردش ایام سے اس بد نصیب ملک کا وزیراعظم بن گیا۔ سید نہ بن سکا کیا کبھی دنیا کی تاریخ میں ایسا ہوا کہ کسی حکمران کے جلسے کیلئے اللہ کے گھر کو تالے لگائے گئے ہوں اور اُس کے مولوی کو نکال باہر کرکے ظہر و عصر کی نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی گئی ہو۔سید تو اپنے عظیم ترین نانا سید المرسلین کی تعلیمات پر عمل کرتا اور کراتا ہے، یہ کیسا سید ہے جس کیلئے ظہر و عصر روک دی گئی۔اس سے بہتر نہ تھا کہ یہ سیاسی جلسہ گیلانی صاحب مسجد ہی میں کرڈالتے تاکہ مساجد کا یہ تقدس بھی نہ رہتا کہ وہاں سیاسی جلسہ نہیں کرایاجاسکتا،سیکورٹی کیلئے ایسے سخت اقدامات کیا اسلئے کئے گئے کہ وزیراعظم سے کوئی بہت بڑا جرم سرزد ہوا ہے اسلئے اسقدر حفاظتی بند باندھے گئے اگر کسی حکمران کو عوام سے اتنا ہی ڈر لگتا ہے تو اُس نے عوام کی تنگی کیلئے کیا کچھ نہ کیا ہوگا اور اپنی آسائش کیلئے قومی وسائل اوڑھ لئے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں گیس ہے نہ بجلی، روٹی ہے نہ روزگار۔ یہ ظہر و عصر کی نماز روکنے کا کیا انجام ہوگا اس کا اندازہ یہاں وہاںدونوں جگہ وزیراعظم کو ہوجائے گا۔فاعتبروایا اولی الابصار
٭....٭....٭....٭....٭
امریکی فوجیوں میں خودکشی اور جنسی تشدد کے رجحان میں رو بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق 2011ءمیں 778 فوجیوں نے خودکشی کی جبکہ جنسی تشدد کے 2290 واقعات ہوئے جو 2006ءکے مقابلے میں 64 فیصد زائد ہیں اور یہ زیادہ تر خاتون فوجی اہلکاروں کے ساتھ و قوع پذیر ہوئے۔ جنسی واقعات کے تو امریکی عادی ہیں‘ اس لئے ان کو فرق نہیں پڑتا۔ البتہ ایک برس میں 778 امریکی فوجیوں کی خودکشیاں آج 2012ءمیں کہاں تک پہنچ گئی ہونگی‘ یہ تو امریکی ماﺅں‘ بیویوں کو سوچنا چاہیے کہ امریکی حکمران کس طرح بے کار کی جنگ میں انکے شوہر اور بیٹے مروا رہے ہیں۔ امریکی دوشیزاﺅں کی خیر ہے‘ وہ وردی میں ہوں یا عام کپڑوں میں‘ ”پاکدامن“ ہی رہتی ہیں۔ کیا غضب ہے کہ اس طرح کی قوم آج ہم پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔ اس کا ثواب بھی حکمرانوں ہی کو جائیگا۔ یہ خنزیر خور کس طرح پاکستان کو شارع عام بنائے ہوئے ہیں‘ یہ اعداد و شمار باعث صد عبرت ہیں۔ خنزیر اور مال حرام میں کوئی فرق نہیں‘ دونوں کی تاثیر ایک ہے۔ اوباما کہہ سکتے ہیں‘ ”قیاس کن زگلستان من بہار مرا“ (میرے فوجی اہلکاروں اور اہلکاراﺅں سے اندازہ لگا لو کہ میرے امریکہ میں کیا نہیں ہوتا ہو گا)
امریکی عوام کو بھی تو یہ رپورٹیں پہنچتی ہونگی مگر وہ ان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتے۔ ظاہر ہے مقبوضہ امریکہ کے قزاق کیا اعتراض کر سکتے ہیں۔ ایک تو قزاق اوپر سے صہیونیت کے غلام۔ گویا اپنی نصرانیت بھی کھو دی....
بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدمؑ جواں ہیں لات و منات
٭....٭....٭....٭....٭
ڈیرہ اسماعیل خان میں محبت کی شادی کرنیوالے جوڑے کو چارپائی پر الٹا لٹا کر کوڑے مارے گئے۔ دونوں کو پنچائت نے ساٹھ ساٹھ کوڑوں کی سزا دی تھی۔ لڑکی کی حالت غیر ہونے پر اسے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
شادی‘ شادی ہوتی ہے‘ چاہے محبت کی ہو یا نفرت کی‘ کیا پنچائت والے نفرت کی شادی کو شادی مانتے ہیں؟ اور یہ پنچائت کیا کسی امیرالمومنین کے تحت کام کرتی ہے کہ ایک جوڑے کو شادی کرنے پر ساٹھ ساٹھ کوڑے مارے۔ لڑکی کی حالت غیر ہو گئی تو اسے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جائے۔ یہ نامعلوم مقام کہیں کسی قبرستان میں نہ ہو۔ یہ وقوعہ انصاف کشی کا اس لائق ہے کہ عدلیہ اس کا ازخود نوٹس لے اور ان غیر شرعی پنچوں کو بھی ساٹھ کوڑے لگائے۔ اگر اس طرح یہ بھی کسی نامعلوم مقام پر چلے جائیں تو کم از کم سنتِ رسول ادا کرنیوالوں کے مجرموں کو کچھ تو ”ریلیف“ ملے گا۔ اسلام میں کسی پنچائت کا کوئی تصور نہیں بلکہ اسلام ایک مستند اور خلیفة المسلمین کے مقرر کردہ افراد ہی کوقاضی مانتا ہے جو اسلام کے مطابق سزا دیں۔ لگتا ہے ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پہاڑپور کے پنچوں نے اپنی پنچائت کا نام شرعی عدالت رکھ لیا ہے....ع
برایں عقل و دانش بباید گریست
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں