ہفتہ ‘ 7؍ صفر المظفر1431ھ‘ 23 ؍ جنوری 2010ء
ـ 23 جنوری ، 2010
امریکی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے‘ صدر زرداری غیرمقبول رہنما کی حیثیت سے اقتدار میں رہینگے‘ فوج سے تعلقات میں بہتری آئی۔
مغربی پریس اگرچہ اپنے ملک کے مفادات کے پیش نظر خبریں دیتے رہتے ہیں مگر بعض اوقات ان میں سے سچ کو الگ کرنا کوئی اتنا مشکل بھی نہیں ہوتا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک طرف یہ لکھا ہے کہ زرداری غیرمقبول رہنماء کی حیثیت سے اقتدار میں رہیں گے۔ دوسری جانب یہ کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے حالیہ مہینوں میں پہلی مرتبہ مشکل حالات کے باوجود ایسے کام کئے ہیں‘ جو عموماً صدر مملکت کرتے ہیں جس میں پرزور تقاریر کرنا‘ ملک کے ہر حصے میں سفر کرنا اور عوام کے سامنے یہ واضح کرنا کہ وہی ملک کے سربراہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر زرداری اقتدار میں رہیں گے لیکن وہ ایک کمزور اور غیرمقبول رہنما رہیں گے‘ فوج کیساتھ انکے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور اب صدر زرداری کے اقتدار کو بظاہر کوئی خطرہ دکھائی نہیں دیتا۔ یوں لگتا ہے کہ امریکی اخبار نے پاکستان کے سیاسی حالات کے گہرے مطالعے کے بعد ہی یہ تاثرات قلم بند کئے ہیں‘ جس طرح کی لنگڑی لولی جمہوریت چل رہی ہے‘ حکومت بھی اسی پر گئی ہے۔ بہرحال صدر اپنی کوششوں میں اس قدر سرگرم ہیں کہ ان کا اقتدار قائم رہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ اقتدار انتہائی کمزور ہو اور اسکی مخالفت وسیع پیمانے پر ہوتی رہے گی۔ یہ بات تسلیم کرنا پڑیگی کہ مشکل حالات کے باوجود صدر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں اور اگر وہ عوامی سطح پر کچھ کارنامے سرانجام دے دیں‘ تو ممکن ہے انکی مقبولیت میں بھی قدر اضافہ ہو۔
٭…٭…٭…٭
وزیراعظم گیلانی نے شجاعت حسین سے مدد مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ق‘‘ لیگ پیپلز پارٹی کا ساتھ دے۔
یوں لگتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ ’ن‘ سے ناامید ہو گئی ہے اور وہ اب ایسے تنکوں کا سہارا لے رہی ہے جو اپنے وجود کو قائم رکھنے کیلئے خود سہارے تلاش کر رہی ہے۔
یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ’ق‘ لیگ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ کے بعد پیدا ہونے الی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کی کوئی مدد کر سکے۔ بہرحال چودھری شجاعت حسین نے کوئی حتمی فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے‘ پاکستان کے خزانے سے لوٹی ہوئی رقم کی واپسی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے‘ جبکہ پیپلز پارٹی بھی بار بار یہ عندیہ دے رہی ہے کہ اسے سپریم کورٹ کا فیصلہ بجان و دل تسلیم ہے اور اسکے فوج کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں تو ایسی صورت نکل سکتی ہے کہ ملک میں امن و امان کے ساتھ یہ مسئلہ حل ہو جائے۔ اس وقت ملک کے حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت جیسی بھی ہے‘ اسے چلنے دیا جائے کیونکہ پاکستان دشمن قوتیں پاکستان میں سیاسی تصادم کی منتظر ہیں۔ دنیا میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ لوٹی ہوئی رقم واپس لائی گئی اور ان ملکوں کو بھی کوئی سیاسی نقصان نہیں پہنچا۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہو سکتا ہے یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ این آر او کے موجد کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرے‘ آخر کیا وجہ ہے کہ اس پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا؟ بظاہر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اسے امریکہ کی آشیرباد حاصل ہے۔
٭…٭…٭…٭
جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے کہا ہے‘ کشمیر اور پانی جیسے مسائل پر بھارتی طرز عمل میں تبدیلی کے بغیر امن کی آشا بے معنی ہے۔
امن کی آشا اس وقت تک نراشا ہے‘ جب تک کشمیر اور پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ بھارت کو اگر یونہی کھلا چھوڑ دیا گیا تو وہ پاکستان کیلئے مسئلے پر مسئلہ پیدا کرتا چلا جائیگا۔ اس نے جب دیکھا کہ پاکستان کشمیر کا نام لینا نہیں چھوڑتا‘ تو پانی کا مسئلہ کھڑا کر دیا اور ایک ایسا منصوبہ بنایا کہ پاکستان کشمیر کو بھول کر پانی کے جھنجھٹ میں الجھ جائے۔ ویسے بھی اس نے سوچا ہو گا کہ شاید پاکستان مسئلہ کشمیر پر پانی کی خاطر زور دے رہا ہے‘ اس لئے 62 ڈیم بنا کر اس نے کشمیر کے مسئلے کو اپنی طرف سے دبانے کی کوشش کی ہے جبکہ حقائق اس کیخلاف ہیں۔ پانی کا مسئلہ الگ ہے اور کشمیر کا مسئلہ الگ۔ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے‘ جسے بھارت نے ہٹ دھرمی سے اپنا نعرہ بنا لیا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ بھارت مذاکرات کی آشا اور تجارتی تعلقات جیسے ہتھکنڈے استعمال کرکے مسئلہ کشمیر کو غتربود کرنا چاہتا ہے۔ مگر دوسری جانب تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ان دونوں مسائل پر مذاکرات سے ہٹ کر اور امن کی آشا سے ہٹ کر کچھ کرنا ہو گا۔ ہماری وزارت خارجہ کو چاہئے کہ وہ امن کی آشا مہم کو یکسر مسترد کر دے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ نے اس کو ایک اچھی پیش رفت قرار دیا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم بھارتی ہتھکنڈوں کا توڑ کرنے کے بجائے انہیں پروموٹ کرتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ مولر نے کہا ہے کہ القاعدہ پاکستان اور یمن میں دوبارہ منظم ہو رہی ہے۔
القاعدہ بچوں کا وہ قاعدہ ہے‘ جسے امریکہ ہاتھ میں لے کر بار بار دہراتا ہے جس اسلامی ملک پر اسکی نگاہ بد پڑ جائے‘ وہاں اسے القاعدہ منظم دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہودی لابی نے مسلم امہ کی تباہی کیلئے نائن الیون کے ذریعے ایک ایسا منصوبہ بنا رکھا ہے کہ جو اس وقت چلتا رہے گا‘ جب تک مسلم امہ بیدار نہیں ہو جاتی‘ القاعدہ کو فرضی طور پر زندہ رکھنے کیلئے پورے مغربی پریس کو لگا دیا گیا ہے۔ حالانکہ القاعدہ ایک تنظیم تھی جو وقت کے ساتھ ختم ہو چکی اور اب اسکے نام پر ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے۔ عراق کو برباد کیا گیا‘ افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور اب پاکستان میں یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہمارے ملک میں حکومتی و سیاسی حالات اس نہج پر ڈال دیئے گئے ہیں کہ کسی کی نظر امریکہ کی بری نظر پر نہ پڑے۔ پاکستان کے جوہری اسلحہ کیخلاف یہودی براستہ امریکہ سرگرم ہے اور پاکستان بھارت دشمنی کو بھی اس سلسلے میں استعمال کیا جا رہا ہے‘ بھارت اپنے مفادات کیلئے اس میں بھرپور حصہ لے رہا ہے‘ پاکستان کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ اپنی خودمختاری اور رٹ آف گورنمنٹ کی حفاظت کر سکے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں