تازہ ترین:

بدھ ‘ 19 ؍ ربیع الا ول 1432 ھ23؍ فروری ‘ 2011ء

ـ 23 فروری ، 2011
شیرافگن کہتے ہیں: لال مسجد آپریشن درست تھا کسی طالب علم یا طالبہ کی شہادت نہیں ہوئی۔
ڈاکٹر بٹیر افگن بڑی دیر بعد کھیت سے نکل کر باہر آئے ہیں اور آتے ہی یہ ثابت کردیا کہ…؎
رہا ٹیڑھا مثالِ نیشِ کژدم........... کبھی کج فہم کو سیدھا نہ پایا
لال مسجد کے ساتھ اٹیچ مدرسہ حفصہ ہے اسلئے لال مسجد کا نام لیکر ڈاکٹر صاحب اُن سینکڑوں طلبہ و طالبات کی شہادت کو نظر انداز نہ کریں جو مدرسے میں مدرسے کے ہوسٹل میں موجود تھے اور مشرف صاحب کے حکم پر اُن کو اس طرح سے مارا گیا کہ کہنا پڑتا ہے…ع
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
ڈاکٹر صاحب قبلہ آپ شیرافگن بنیں انسان افگن نہ بنیں، ساری دنیا جانتی ہے کہ آپ کی حکومت اور آقا نے لال مسجد آپریشن کے ذریعے علم دین پڑھنے والے طلبہ کا ہولو کاسٹ کیا، یہ مقدمہ یہاں چلے نہ چلے لیکن داورِ محشر کی عدالت میں ضرور چلے گا، آپ سے تو توقع تھی کہ کہیں گے لال مسجد آپریشن مشرف کا فعل تھا، میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں مگر یہ توفیق ایزدی ہے جسے مل جائے یا کوئی اس سے محروم رہ جائے۔
٭…٭…٭…٭…٭
ایک ماہ کے دوران برائلر گوشت میں 100روپے فی کلو ریکارڈ اضافہ، اب عوام کو حکومت سے گلہ نہیں کرناچاہئے، آخر عوامی عزت نفس بھی کوئی چیز ہوتی ہے،اب صرف اور صرف قرآن کی اس تدبیر پرعمل کرناچاہئے کہ اللہ نے آج تک کبھی اُس قوم کی تقدیر نہیں بدلی جو خود اپنے حالات نہ بدلے۔ ایک برائلر میں سوروپیہ فی کلو کا اضافہ ہی تو نہیں یہاں تواضافوں کے ہمالہ کھڑے ہوچکے ہیں ،کیوں عوام اپنے مسئلے کو خود حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے، آج برائلر میں اضافے کو روئیں گے تو اگلے ہی روز کسی اور چیز میں گرانی کا واویلا کرینگے، کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کریں کہ نہ سر رہے نہ درد رہے، بانس کی بات چھوڑیں کہ بانس نہ رہے گا تو صرف بانسری ہی نہیں بنے گی، جبکہ ہماری ضرورت تو پیٹ بھرنا، سرچھپانا، تن ڈھانپنا ہے،آج پوری قوم تہیہ کرے کہ برائلر کھانا ہے نہ خریدنا، تو پھر دیکھئے کہ برائلر کے درجات میں اور فضیلت میں یکدم کتنی کمی آتی ہے،بہر صورت مسئلہ صرف برائلر کی مہنگائی کا نہیں زندگی کی ارزانی کا ہے، اس لئے ایسا کچھ کریں کہ سارے رونے دھل جائیں اور ارض پاک فردوس نظیر بن جائے وگرنہ پھر آدھی رات کو اُٹھ کر مالکونس کی بندش میں غالب کا یہ مرثیۂِ حیات الاپیں…؎
کاوکاوِ سخت جا نیہائے تنہائی نہ پوچھ..... صبح کرناشام کالانا ہے جوئے شیر کا
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حریت کانفرنس کے سربراہ علی گیلانی نے کہا ہے:فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کی سربراہی سے ہٹایا جائے، مولانا ایک غیر سنجیدہ اور متنازعہ شخصیت ہیں کشمیری قیادت کی مشاورت سے کمیٹی بنائی جائے۔
جن جن لوگوں کی جڑیں اور رگیں ماضی میں آل انڈیا نیشنل کانگریس سے جڑی رہی ہیں، اُن کو خالصتاً پاکستانی معاملات کی کسی بھی کمیٹی کا سربراہ بنانا، نہ بنانے کے مترادف ہے، علی گیلانی بزرگ حریت رہنما ہیں اور کشمیر کیلئے اُن کی قربانیاں بے حساب ہیں، اُن کا کہنا ہماری حکومت کے ذہنِ رسا میں سما جاناچاہئے، حال ہی میں مولانا کیا صرف من موہن سے مذاکرات جاری کرانے گئے تھے یا مسئلہ کشمیر حل کرانے، آخرکشمیر کمیٹی کا ایسا سربراہ حکومت کو کہاں سے ’’لبّا‘‘ ہے یہ بات خاصا وزن رکھتی ہے کہ کشمیر کمیٹی، کشمیری قیادت کی مشاورت سے بنائی جائے آخر جہاں سے قربانیاں دی جارہی ہیں اور جہاں مظلوم و محروم کشمیر ی دوبدو برسر پیکار ہیں وہاں کی قیادت کو کشمیر کمیٹی سے دو ر رکھنا کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے جذبے کو ماند کرنے کی مانند ہے، جہاں تک مولانا کی عدم سنجیدگی اور متنازعہ شخصیت ہونے کا تعلق ہے تو یہ علی گیلانی نے کہا ہے، ہم تو کچھ نہیں بولے گا ہم بولے گا توبولو گے کہ بولتا ہے، البتہ یہ سب کو خبر ہے کہ جب سے مولانا کشمیر کمیٹی کے سربراہ بنے ہیں ہمارے ہاتھ میں گندم ہے نہ چنے ہیں، بھارتی تاخیری حربوں کی سنگت کے سوا انہوں نے اور کیا کیا ہے، یہ سچ ہے کہ ہر کسے رابہرِ کارے ساختند ،ہر شخص کسی خاص کام کیلئے تخلیق کیا گیا ہے، الحمد للہ مولانا وہ بخوبی کر رہے ہیں۔
٭…٭…٭…٭…٭
شمالی وزیرستان میں بھی ڈرون حملہ 8افراد جاں بحق ہوگئے، میر علی کے علاقے اسپغلہ میں ایک گھر پر4میزائل داغے گئے،24گھنٹوں میں یہ دوسرا حملہ ہے۔
اگر دس افراد کے درمیان ایک قاتل کھڑا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ دس کے دس افراد ہی کو مار ڈالیں بلکہ اُس ایک قاتل کو باہر نکال کر دور لے جاکر اس سے نمٹنا چاہئے مگر امریکہ نے تو ہولو کاسٹ شروع کر رکھا ہے اور ہم ہیں کہ ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے ،کہ اور زور سے، اور میڈیا جب مقتولوں اور زخمیوں کو دکھاتا ہے تو کہتے ہیں…؎
نظر لگے نہ کہیں ’’ امریکی‘‘ دست و بازو کو..... یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
کیا ہم عشق امریکہ میں اتنے ڈوب چکے ہیں کہ شرم و غیرت نام کا جوہر ہی ہمارے تن بدن میں نہ رہا، ریمنڈ دیوث کے واقعے کے بعد کچھ روز یہ حملے بند ہوگئے تھے ، مگر اب پھر سے زیادہ زور شور سے شروع ہوچکے ہیں اگر ایران ڈرون گرا سکتا ہے تو ہماری مشاق ائر فورس کے پاس کیا کاغذی جہاز ہیں، آخر دوستی یاری کا یہ مطلب تو نہیں کہ کوئی ہمارے گھر میں گھس کر ہمارا گھر ہی توڑنا شروع کردے، کیا کوئی آزاد خود مختار ریاست امریکہ کو ایسا کرنے کی اجازت دیگی، صدر گرامی قدر اب اُٹھ پڑیں اور اوباما سے اس کے لہجے میں کہیں کہ بس کرو! پاکستان تمہاری خالہ کا باڑا نہیں کہ جب چاہو، ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان کے بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دو۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter