پیر،12؍رمضان المبارک‘1431ھ‘23 ؍ اگست 2010ء
ـ 23 اگست ، 2010
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے، سیلاب میں سوچ سے زیادہ تباہی ہوئی، پنجاب حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ گورنر پنجاب کے سینے میں دل بھی ہے اور اسے اطمینان بھی آسکتا ہے وگرنہ ایک عرصے سے وہ پنجاب حکومت کے بارے میں دلِ غیر مطمئن کے ساتھ جی رہے تھے ہم گورنر صاحب کی اس دریا دلی پر ایک شعر اُن کی نذر کرتے ہیں دیکھتے ہیں پروین شاکر کیا کہتی ہے…؎
سمجھوتہ ہوتو اشکِ ندامت سے رقم ہو
اعلانِ بغاوت ہوتو پھر خوں سے لکھاجائے
یہ بڑا اچھا شگون ہے کہ گورنر پنجاب کو آخر قرار آہی گیا اور وہ حکومتِ پنجاب کی سیلاب زدگان کیلئے کارکردگی سے مطمئن ہوگئے، انہیں وزیراعظم سے مشترکہ کمیشن کی فوتیدگی پر تعزیت کرنی چاہئے جن کو کمیشن کے ٹوٹنے پر خاصا افسوس ہوا ہوگا کیونکہ غم اور مشکل کے وقت جڑے رہنا بہتر ہوتا ہے ،الگ ہوجانا ٹھیک نہیں بہر حال پنجاب میں گورنر اور وزیراعلیٰ کی نوک جھونک کو سیلاب لے گیا اور باقی جو بچا تھا کالے چور لے گئے اس لئے دونوں لیڈروں کو چاہئے کہ لٹیروں سے بھی سیلاب زدگان کو بچائیں یہ نقصان کب پورا ہوگا یہ تو خدا ہی جانے مگر حکومت ،اپوزیشن اور عوام کے متحد ہوجانے سے کافی افاقہ ہوسکتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
طالبات پر پولیس تشدد کا چیف جسٹس ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لے لیا۔ پولیس شتر بے مہار ہے، عدلیہ کس کس تشدد کا از خود نوٹس لے گی، اس کا تو ایک ہی مداوا ہے کہ حکومت پنجاب کہیں تشدد ہو، ذمہ داران کو فارغ کردیاکرے، جہاں تک پولیس کے اعلیٰ سی ایس پی افسران کا تعلق ہے تو وہ سی ایس ہونے کے نشے میں مست ہیں اور اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ تشدد ہوتا رہے تاکہ اُن کی دہشت برقرار رہے، اس لئے اس پولیس کا نام دہشت پولیس رکھ دیناچاہئے نوبت بہ ایں جا رسید کہ ایک سی ایس پی افسر سپریم کورٹ کے سامنے بھی اکڑ گیا جس کی اکڑ بعد میں عدالت نے توڑ کر رکھدی،کوئی گیا گذرا مرد بھی خاتون پر ہاتھ نہیں اُٹھاتا مگر پولیس اتنی ’’ہتھ چھٹ‘‘ ہوگئی ہے کہ اُس نے طالبات اور وہ بھی ڈاکٹرزتک کا لحاظ نہ کیا اور اُن پر تشدد کیا اللہ بھلا کرے چیف جسٹس خواجہ شریف کا کہ انہوں نے از خود نوٹس لے لیا، تشدد کے وقت اول تو کوئی اعلیٰ افسر موجود نہیں ہوتا اگر ہوتا بھی ہے تو کالا چشمہ لگا کر ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کا مظاہرہ کرتا ہے ایک علا ج اس وحشیانہ پولیس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے طالبان کے حوالے کردیاجائے بہت ممکن ہے کہ وہ اسے سیدھا کردیں پولیس میں اچھے افراد بھی ہیں مگر اُن کا پلڑا بھار ی نہیں۔
٭…٭…٭…٭
آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام کا باقاعدہ اعلان مشرف 17 ستمبر کو کرینگے، دبئی کی 45 منزلہ عمارت کے 25ویں فلور پر پارٹی آفس قائم کردیا گیا۔ حکمت عملی تیار ہوگئی ہے کہ نواز شریف کو ٹارگٹ بنایاجائے گا۔
مشرف انڈے بھی وہیں دینگے جہاں کُڑ کُڑ کر رہے ہیں، سبحان اللہ پارٹی بنائی جاتی ہے قوم کے مفاد کی خاطر اور جنرل صاحب پارٹی بنا رہے ہیں نواز شریف کو ٹارگٹ بنانے کیلئے۔ گویا یہ آل پاکستان انتقامی پارٹی ہوگی جس میں ہلاکو خان ایک بار پھر ہلاکو کا کردارادا کرے گا، مسلم لیگ نون سے ٹکر لینا چیونٹی کا ہاتھی سے پنگا لینے کے مترادف ہے ہمیں پوری توقع ہے کہ مشرف اپنی بونگیوں کے طفیل دبئی کی 45 منزلہ عمارت تک ہی محدود رہینگے اور ترس آتا ہے اُن چند ایک مصاحبوں پر کہ اُن کا کیا حشر ہوگا اگر مشرف اتنے ہی گرم جوش ہیں تو آئیں کسی سیلابی ریلے کے سامنے کھڑے ہوجائیں تاکہ سیلاب اپنا انصاف کردے، انہوں نے پیپلز پارٹی کو ٹارگٹ بنانے کی بات نہیں کی شاید اس کی اُن کو اجازت نہیں، مشرف صاحب کی وطن چھوڑ کر یہ حالت ہوچکی ہے…؎
شالا کوئی مسافر نہ تھیوے ککھ جنہاں تھی بھارے ہو
اب یہ سیاسی تنکا سیاسی شہتیروں کو ٹارگٹ بنانے کا سوچ رہا ہے اُسے ملک و قوم کی کوئی فکر نہیں ،مشرف کی مثال اُس بادشاہ کی سی ہے جسے کسی نے خواب میں دیکھا کہ قبر میں بادشاہ کا جسم خاک ہوچکا ہے مگر اُس کی آنکھیں زندہ ہیں اور چارو ں طرف دیکھ رہی ہیں کوئی اس خواب کی تعبیر نہ بتا سکا تو آخر ایک درویش نے آکر تعبیر بتائی کہ بادشاہ مرنے کے بعد بھی دیکھ رہا ہے کہ اس کی سلطنت پر دوسرے حکومت کر رہے ہیں۔ سیاستدانوں کا جوطائفہ انہیں دوبئی میں مل کرآیا تھا اس ہی سے ایک کا کہنا ہے کہ ہم نے تو کہا تھا حضور والا!واپسی کی کوئی جلدی ہی نہیں نہ ایسی حرکت کریں ورنہ بہت بھد اُڑے گی۔ دیکھیں موصوف پر کیا اثر ہوتا ہے
٭…٭…٭…٭
شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملہ ایک گھر پر کیا گیا جس سے پانچ بے گناہ شہری شہید ہوگئے۔
ان دنوں امریکہ اور بھارت کا ایک جیسا طرز عمل ہے دونوں پاکستان کی مدد بھی کر رہے ہیں اور پاکستان کو ہڑپ بھی کرناچاہتے ہیں پاکستان کے بے حمیت وزیر خارجہ کو چاہئے تھا کہ بھارتی امداد اس کے منہ پردے مارتے اور امریکہ سے کہتے کہ ایک طرف تم ہمیں مار رہے ہو اور دوسری جانب بچانے کی سرسری کوشش کر رہے ہو، یہ سیلاب تو پہلے بھی آتے تھے مگر اس طرح شدید سونامی کی صورت میں نہیں آتے تھے، بھارت اپنی حرامزدگی سے سے باز نہیں آرہا ہے اور اُس نے وہ سیلاب جو اُس کے ہاں آنا تھا اُس کا رخ ہماری طرف موڑدیا بلکہ ستم بالائے ستم کہ اُس نے ہمارے بعض دریائوں میں آلودہ پانی بھی چھوڑ دیا ہے، دوسری جانب اُس نے سیلاب کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر کے معصوم لوگوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کرکے وہاں کرفیو نافذ کردیا ہے، پاکستان اس سیلاب سے اس حد تک تباہ ہوگیا ہے کہ بقول بان کی مون پاکستان کو کئی سال تک امداد کی ضرورت ہوگی، ہماری عسکری صلاحیت کو امریکہ اپنے لئے استعمال کر رہا ہے اور ہمارے حکمرانوں میں سے کسی میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ امریکہ اور بھارت کو لگام دے سکے، اُن کے اڈے ختم کرسکے جن پر امریکہ نے غاصبانہ قبضہ کرکے ہمارے دو شہر ڈبو دئیے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں نہ کوئی حکومت ہے ،نہ کوئی جرأت مند سیاستدان ہیں، ایک عوام ہیں جو بے بس کڑھتے رہتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں